Daily Roshni News

ہم سمجھتے ہیں مضبوط وہ ہے جو کبھی تھکتا نہیں.

ہم سمجھتے ہیں مضبوط وہ ہے جو کبھی تھکتا نہیں.

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )نہیں. نبی ﷺ بھی تھکے تھے. طائف میں پتھر کھائے. خون بہا. اور فرمایا: “یااللہ میری کمزوری تجھے سونپتا ہوں”. یعقوب علیہ السلام تھکے تھے. چالیس سال روئے. آنکھیں چلی گئیں. ایوب علیہ السلام تھکے تھے. اٹھارہ سال بیماری. جسم پر زخم. تھکن کا مطلب یہ نہیں کہ ایمان کمزور ہے. تھکن کا مطلب ہے: “تم انسان ہو، اور آزمائش بڑی ہے”. اللہ چھوٹی چیز پر بڑا امتحان نہیں لیتا.

رزق کی تنگی مہینہ ختم،جیب خالی، پر عزت سلامت. یہ ہے آزمائش. رشتوں کا ٹوٹنا اپنے ہی چھوڑ جاہیں. باتیں کریں. یہ ہے آزمائش. صحت کا چلے جانا ڈاکٹروں کے چکر، راتوں کا جاگنا. یہ ہے آزمائش. دعا کا قبول نہ ہونا روز مانگو، سال گزر جاہیں. یہ سب درد بڑی آزمائش ہے. اور اللہ فرماتا ہے:”بیشک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بےحساب دیا جائے گا دنیا میں عزت لوگ کہیں گے” یہ صبر والا ہے” اللہ آپ کے دشمنوں کو آپ کے آگے جھکا دے گا. دل کا سکون وہ سکون جو پیسے سے نہیں ملتا. رات کو سوتے وقت دل کہے:” میں نے ہار نہیں مانی”.

گناکوں کا کفارہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “مومن کو جو کانٹا بھی چبھتا ہے، اللہ اس کے بدلے اس کا ایک گناہ معاف کر دیتا ہے. جنت میں بلند درجہ وہاں ایک دروازہ ہے” باب الصبر” صرف صبر کرنے والے اس سے جاہیں گے. اور فرشتے اس کا استقبال کریں گے. “سلام علیکم بما صبرئم” دوڑ نہـیں سکتے تو چل لو. چل نہیں سکتے تو گھنٹنوں کے بِل پر رکے مت شکایت  اللہ سے کرنا، لوگوں سے نہیں. یعقوب علیہ السلام نے کہا اپنا غم صرف  اللہ کو بتاہیں. وہ سمجھے گا. جب بہت تھک جاہیں تو آنکھ بند کر کے سوچتیں: “یااللہ یہ ایک آنسو، یہ ایک رات کا جاگنا… قیامت کو محل بنے گا”. اور جب بس یہی سوچ آدھی تھکن اتار دیتی ہے. سب سے ضروری اللہ آپ کو آزمائش سے بڑا نہیں بناتا. وہ آپ کو آزمائش کے قابل بنا کر آزماتا ہے.

آپ تھک ریے ہیں…. اس کا مطلب اللہ کو آپ پر بھروسہ ہے. کہ”یہ میرا بندہ ٹوٹ گا نہیں”. بڑی آزمائشوں پر صبر کرنے کے بڑے اجر ہوتے ہیں

@ یاسر احمد ✍️

Loading