ہندوستان کا خاندانِ غلاماں۔۔۔ ✍️
خاندان غلاماں دہلی سلطنت کا پہلا خاندان تھا جو 1206 میں قائم ہوا اور 1290 تک حکمران رہا، یہ خاندان سلطان شہاب الدین محمد غوری کے ترک غلاموں پر مبنی تھا۔ سلطان شہاب الدین محمد غوری کی 1206ء میں گکھڑوں اور حشیشین کے ہاتھوں شہادت کے بعد ان کے غلام سپہ سالاروں نے مختلف علاقوں کا چارج سنبھالا۔ سلطان قطب الدین ایبک نے دہلی، لاہور میں غلام سلطنت کی بنیاد رکھی۔ یہ خاندان شمالی ہندوستان میں مسلمان حکمرانی کو مستحکم کرنے، راجپوتوں اور دیگر مقامی طاقتوں کو زیر کرنے، اور منگولوں کے خطرات سے نمٹنے میں اہم ثابت ہوا۔ اس خاندان کے دور میں انتظامی اصلاحات ہوئیں اقطاع نظام، فن تعمیر، قطب مینار، مسجد، قوۃ الاسلام، اور فوجی تنظیم دیکھنے کو ملتی ہے۔ آخر میں خاندان غلاماں کی سلطنت نااہل حکمرانوں کی وجہ سے کمزور ہونا شروع ہوئی اور 1290ء کو جلال الدین خلجی نے حکومت ختم کر کے خیلجی خاندان کی بنیاد رکھی۔
(1). سلطان قطب الدین ایبک 1206ء 1210ء
قطب الدین ایبک شہاب الدین محمد غوری کا ترک غلام اور جرنیل تھا۔ ترائن کی دوسری جنگ 1192ء اور دیگر فتوحات میں اہم کردار ادا کیا۔ گنگا، جمنا دوآب پر قبضہ، راجپوتوں چاہمان، گہڑوال، چالوکیہ، چندیل وغیرہ کے خلاف جنگیں جیتیں۔ جبکہ لیفٹیننٹ بختیار خلجی نے بہار اور بنگال فتح کیا۔ قطب الدین نے لاہور کو دارالحکومت بنایا، بعد میں دہلی کی طرف توجہ دی۔ایبک نے قطب مینار اور مسجد قوۃ الاسلام کی بنیاد رکھی۔ 1210ء میں لاہور میں پولو کھیلتے ہوئے زخمی ہو کر وفات پاگئے۔
(2). آرام شاہ 1210ء 1211
قطب الدکن ایبک کا بیٹا۔ جسکا دور مختصر اور کمزور دور تھا۔ چہلگانی “چالیس ترک امرا” نے اسے ہٹا کر شمس الدین التتمش کو تخت پر بٹھایا۔
(3). سلطان شمس الدین التتمش 1211ء 1236ء غلام سلطنت کا اصل بانی جو ایبک کا غلام اور داماد تھا۔ اس نے دہلی کو مستقل دارالحکومت بنایا۔ شمس الدین نے تاج الدین یلدوز کو ترائن کی جنگ 1215ء 1216ء میں شکست دی۔ جبکہ 1227ء 1228ء میں ناصر الدین قباچہ کو ملتان اور سندھ میں شکست دیکر، ملتان اور سندھ کو اپنی سلطنت میں ضم کر لیا۔ اور 1229ء میں بنگال کہ باغی گورنروں کو سختی سے کچل دیا۔ راجستھان اور وسطی ہند، رنتھمبور 1226ء ناگر، گوالیار اور 1231ء1234ء 1235ء کو بھلسا اور اجین فتح کیے۔ جب سلطان جلال الدین خوارم شاہ ،چنگیز خان کی قیادت میں منگول فوجوں سے بچتا بچاتا ہندوستان کی سرحد پر پہنچا اور اس نے سلطان شمس الدین التمش سے پناہ کی درخواست کی لیکن وہ دور منگولوں کے عروج کا تھا اور دہلی کا سلطان ان سے جنگ نہیں چاہتا تھا اس لیے التمش نے بڑے ادب کیساتھ جلال الدین خوارزم شاہ کی درخواست رد کرتے ہوئے، حسن تدبیر کیساتھ اسکا رخ سندھ کیطرف موڑ دیا، التمش نے خلافت عباسیہ کیساتھ بہترین سفارتی تعلقات قائم کیے۔ اس نے چہلگانی کو منظم کیا، کرنسی نظام، اقطاع نظام۔ دہلی کو مضبوط بنایا۔اسی لیے اسے “دہلی سلطنت کا حقیقی بانی” کہا جاتا ہے۔
(4). رکن الدین فیروز 1236ء سلطان التتمش کا بیٹا نا اہل اور عیاش نکلا جس نے صرف چند ماہ حکومت کی اصل میں اسکی ماں شاہ ترخان نے حقیقی طور پر حکومت کی۔ لیکن فیروز نا اہلی کی وجہ سے قتل ہوا۔
(5). رضیہ سلطانہ 1236ء 1240ء
سلطان شمس الدین التتمش کی بیٹی تھی اور ہندوستان کی پہلی مسلمان خاتون حکمران تھی جو جنگوں میں مردانہ لباس پہن کر فوج کی قیادت کرتی تھی۔ رضیہ سلطانہ کو عورت ہونے کیوجہ سے داخلی بغاوتوں کا بڑا سامنا رہا۔ ملک التونیہ کے خلاف جنگ میں ناکامی ہوئی، چہلگانی نے سازش کی۔ رضیہ نے تو رضیہ سلطانہ نے 1240ء میں بٹھنڈہ کے گورنر ملک اختیار الدین التونیہ سے شادی کی، لیکن بھائی بہرام شاہ نے 1240ء میں اسے شکست دی اور رضیہ سلطانہ، سلطنت کے نامعلوم افرد کے ہاتھوں قتل ہوئیں۔
(6). معزالدین بہرام 1240ء 1242ء
شمس الدین التتمش کا بیٹا۔ چہلگانی کی سازشی افراتفری اور منگولوں نے پنجاب اور لاہور پر کیا جس کے بعد بہرام شاہ قتل ہوگیا۔
(7). علاوالدین مسعود 1242ء 1246ء
رکن الدین کا بیٹا۔ چہلگانی کا کٹھ پتلی حکمران تھا جو عیاشی کی وجہ سے تخت سے ہٹا دیا گیا۔
(8). ناصر الدین محمود 1246ء 1266ء جو
شمس الدین التتمش کا پوتا تھا۔ بہت مذہبی اور سادہ زندگی کا مالک تھا۔ اسکی حکومت کی حقیقی طاقت اس کے وزیر “غیاث الدین بلبن” کے پاس تھی۔
(9). غیاث الدین بلبن 1266ء 1287ء
شمس الدین التتمش کا بہادر غلام، چہلگانی کا رکن، ناصر الدین کا وزیر اور داماد تھا۔ اس کی خون اور لوہے کی پالیسی مشہور ہے۔ غیاث الدین بلبن نے 1247ء میوات اور دہلی کے قریب لوٹیروں پر سخت کریک ڈاؤن کیا ہزاروں ڈاکو قتل ہوئے ، 1266ء 1247ء میں جنگلوں میں لوٹیروں کی پناہ گاہوں کا صفایا کیا۔ بلبن نے بنگال میں باغی تغرل خان کو 1277ء 81ء میں دو مرتبہ جنگ کے دوران شکست دی آخری جنگ میں اسے قتل کر دیا۔ بلبن نے راجپوتوں کے علاقے گوالیار کو فتح کیا لیکن ، رنتھمبور میں ناکامی کا سامنا ہوا۔ شمال مغربی سرحد مضبوط کی، فوجی اصلاحات کیں دیوان ارض، داغ و چہرہ نظام، جاسوسی نیٹ ورک کو ایکٹیو کیا۔ منگولوں نے جب شمالی مغربی سرحد پر حملہ کیا تو بلبن کے بیٹے محمد خان اور پوتے محمد اول نے منگولوں کا بھر پور مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ سلطان بلبن نے مطلق العنانیت، فارسی شاہی نظری،چہلگانی ختم کیا۔ سلطنت میں امن و امان قائم کیا۔
10. معز الدین قیق آباد (1287–1290)
بلبن کا پوتا۔ نوجوان اور نااہل۔ فالج کا شکار ہوا۔ خیلجی جرنیلوں نے قتل کر دیا۔
(11). شمس الدین کیومرث 1290ء
کیک آباد کا تین سالہ بیٹا۔ صرف چند ماہ حکمران رہا۔ جلال الدین فیروز خلجی کے انقلاب کے دوران اسے قتل کر کے 1290ء کو خاندان غلاماں کی حکومت کو ختم کر دیا۔
خاندان غلاماں سلطنت کے مجموعی اثرات اور اہمیت، شمالی ہندوستان پنجاب، دہلی، دوآب، بنگال، راجستھان کے حصوں میں مسلمان سلطنت مستحکم ہوئی۔ ترکی غلاموں پر مبنی فوج، منگولوں سے دفاع، راجپوتوں پر کنٹرول۔
انتظامی اقطاع، جاسوسی کا نظام، مرکزی حکومت کو مضبوط کیا، فارسی ثقافت، اسلامی فن تعمیر کی ابتدا “قطب کمپلیکس”کی تعمیر۔ چہلگانی کی سازشیں، داخلی بغاوتیں، منگول خطرات سے محفوظ رکھا گیا۔ تحریری مآخذ: طبقات ناصری مصنف منہاج سراج، “تاریخ دہلی سلطنت” “تاریخ خاندان غلاماں اور برٹانیکا، برنی تاریخی
کتب اور فرشتہ کی تصانیف کے حوالوں پر مبنی ہے۔✍️
![]()

