ملک کے مختلف حصوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے موسم کے حوالے سے ایک بہت ضروری خبر سامنے آئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے ماہرین نے بتایا ہے کہ یکم جولائی سے ملک کے مختلف اضلاع میں پری مون سون بارشوں کا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اس سال بارشوں کا باقاعدہ آغاز ملک کے شمال مشرقی پنجاب اور کشمیر کے علاقوں سے ہونے کی امید ہے، جس کے بعد یکم جولائی سے ملک کے بالائی شمالی حصوں اور پنجاب کے شمال مشرقی علاقوں میں بادل جم کر برسیں گے۔
جہاں ایک طرف یہ بارشیں گرمی کا زور توڑیں گی، وہیں دوسری طرف ان کی وجہ سے کچھ خطرات بھی پیدا ہو گئے ہیں۔
آفتوں سے نمٹنے والے سرکاری ادارے ’این ڈی ایم اے‘ نے ایک سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں جاری شدید گرمی اور پھر اوپر سے ان بارشوں کی وجہ سے پہاڑوں پر جمی برف اور گلیشیر بہت تیزی سے پگھلنا شروع ہو گئے ہیں۔
این ڈی ایم اے حکام نے خبردار کیا ہے کہ جولائی کے پہلے ہفتے میں ہونے والی ان بارشوں سے اچانک گلیشیر پگھلنے، پہاڑی جھیلیں پھٹنے، سیلاب آنے اور مٹی کے تودے گرنے یعنی لینڈ سلائیڈنگ کا بہت بڑا خطرہ ہے۔
این ڈی ایم اے کے حکام نے مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے علاقوں میں گلیشیائی برف پگھلنے سے وہاں کے دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ بہت تیز ہو جائے گا اور پانی کی سطح اچانک اوپر کو اٹھ سکتی ہے۔
اسی خطرناک صورتحال کو دیکھتے ہوئے سیکیورٹی اداروں اور انتظامیہ نے باہر سے گھومنے پھرنے کے لیے آئے ہوئے سیاحوں، راستوں سے گزرنے والے مسافروں اور وہاں کے مقامی لوگوں کو سخت ہدایت کی ہے کہ وہ گلیشیرز سے نکلنے والے ندی نالوں اور دریا کے کناروں سے بالکل دور رہیں، تاکہ کسی بھی بڑے نقصان یا حادثے سے بچا جا سکے۔
![]()
