Daily Roshni News

یہود و نصاریٰ کا عقیدہ آخرت

یہود و نصاریٰ کا عقیدہ آخرت:-

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )یہود اور نصاریٰ کا آخرت سے متعلق عقیدہ یہ ہے کہ قیامت آئے گی اور سزا و جزا  بھی ہو گی، لیکن اُن دونوں میں سے ہر ایک اپنے آپ کو جنت کا مستحق سمجھتا ہےاور دوسرے کو گم راہ سمجھتا ہے، یہود و نصاریٰ کا آخرت سے متعلق جو عقیدہ ہے وہ اللہ تعالیٰ نے خود صراحۃً قرآن پاک میں ذکر فرمایا  ہے اور اُس کی تردید فرمائی ہے کہ یہ ان کے اپنے خیالات ہیں اور  یہ لوگ اللہ سے امیدیں باندھے ہوئے ہیں جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور فرمایا کہ جنت میں تو وہ جائے گا جو اپنا دین اللہ کے لیے خالص کرے۔ جیساکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’وَقالُوا لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلاَّ مَنْ كانَ هُوداً أَوْ نَصارى تِلْكَ أَمانِيُّهُمْ قُلْ هاتُوا بُرْهانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صادِقِينَ‘‘. (البقرة: 111)

 بے شک جو لوگ ایمان لا چکے ہیں اور جو لوگ یہودی ہوئے اور نصاریٰ اور صابئین میں سے جو کوئی اللہ اور روز آخرت پر ایمان لائے اور نیک عمل بجا لائے تو ان کے رب کے پاس ان کا اجر ہے اور انہیں نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

لہذا یہود و نصاریٰ نفسِ آخرت کے منکر نہیں ہیں، بلکہ قیامت کے آنے کا عقیدہ تو رکھتے ہیں، لیکن حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے لائے ہوئے دین و شریعت کو نہ ماننے کی وجہ سے گم راہ ہو گئے۔

#ھادو*

ھادو سے مراد یہود یعنی بنی اسرائیل ہیں، جو حضرت موسیٰ (ع) کی شریعت کے تابع ہیں۔

یہودیت حضرت یعقوب علیہ السلام کے ایک بیٹے یہودا کے نام سے منسوب ہے کیوں کہ اس کی اولاد دوسرے بھائیوں کی اولاد کے مقابلے میں زیادہ ترقی پذیر ہوئی اور بڑھی آج بھی اس کی نسل موجود ہے۔ باقی بھائیوں کی نسلیں غائب ہوچکی ہیں۔۔

بہرحال موجودہ زمانے میں یہودی مذہب کی جو بھی شکل موجود ہے اس پر یہودی تاریخ اور یہودیوں کے دوسری اقوام سے تعلقات کا گہرا مطالعہ کیے بغیر مذہب یہود کو سمجھنا تقریباً محال ہے۔

#نصاری*

جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا زمانہ آیا تو بنی اسرائیل پر آپ کی نبوت کی تصدیق اور آپ کے فرمان کی اتباع واجب ہوئی تب ان کا نام نصاریٰ ہوا کیونکہ انہوں نے آپس میں ایک دوسرے کی نصرت یعنی تائید اور مدد کی تھی انہیں انصار بھی کہا گیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قول ہے آیت *(مَنْ اَنْصَارِيْٓ اِلَى اللّٰهِ ۭ قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ) 3۔آل عمران:52)* اللہ کے دین میں میرا مددگار کون ہے؟ حواریوں نے کہا ہم ہیں… اس لئے اس دین کے پیروکار نصرانی کہلائے۔

#صابئین۔* =صابی کی جمع ہے۔ یہ لوگ وہ ہیں جو یقیناً ابتدا میں کسی دین حق کے پیرو رہے ہوں گے ( اسی لیے قرآن میں یہودیت ومسیحیت کے ساتھ ان کا ذکر کیا گیا ہے) لیکن بعد میں ان کے اندر فرشتہ پرستی اور ستارہ پرستی آگئی۔ ایک قول یہ ہیکہ یہ کسی بھی دین کے پیرو نہ رہے۔ اسی لیے لامذہب لوگوں کو صابی کہا جانے لگا۔۔

اس آیت کا سیاق وسباق یہ ہے کہ بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور ان کی نافرمانیوں کے تذکرے کے بیچ میں یہ آیت کریمہ بنی اسرائیل کے ایک باطل گھمنڈ کی تردید کے لئے آئی ہے، ان کا عقیدہ یہ تھا کہ صرف انہی کی نسل اللہ کے منتخب اور لاڈلے بندوں پر مشتمل ہے، ان کے خاندان سے باہر کا کوئی آدمی اللہ کے انعامات کا مستحق نہیں ہے، (آج بھی یہودیوں کا یہی عقیدہ ہے) اس آیت نے واضح فرمایا کہ حق کسی نسل میں محدود نہیں ہے، اصل اہمیت ایمان اور نیک عمل کو حاصل ہے، جو شخص بھی اللہ اور آخرت پر ایمان لانے اور عمل صالح کی بنیادی شرطیں پوری کردے گا خواہ وہ پہلے کسی بھی مذہب یا نسل سے تعلق رکھتا ہو اللہ کے نزدیک اجر کا مستحق ہوگا، یہودیوں اور نصرانیوں کے علاوہ عرب میں کچھ ستارہ پرست لوگ رہتے تھے جنہیں صابی کہا جاتا تھا اس لئے ان کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

اسی طرح حضور ﷺ کی نبوت کے بعد ان پر ایمان لانے والے ہوں یا یہود عیسائی اور صابی جو محمد ﷺ کی نبوت سے پہلے موجود تھے ‘ جو بھی ایمان لایا اور اعمال صالحہ کیے’ آنے والی زندگی میں اپنے اعمال اور ایمان کی جزا پائے گا۔ چنانچہ ابن کثیر ، ابن ابی حاتم کے حوالے سے روایت کرتے ہیں:سلمان فارسی ؓ نے فرمایا، یہ آیت تب نازل ہوئی جب میں نے ان لوگوں کی نماز اور روزے کا ذکر کیا جن سے میں محمدؐ سے ملاقات سے پہلے ملا تھا۔۔(تفسیر ابن کثیر سور ۃ البقرہ آیت 62)

ابتدائے اسلام میں یہ سوال بہت سے مسلمانوں کو درپیش تھا کہ دین مسیح کے پیروکاروں کے آبا و اجداد کا انجام کیا ہو گا؟ ان کی تشفی کے لیے یہ آیت نازل ہوئی کہ اگر وہ اپنے مذہب کے مخلص پیروکار اور عبادت گزار تھے تو نجات پائیں گے۔

اور یہ واضح رہے کہ یہودیوں میں سے ایماندار وہ ہے جو توراۃ کو مانتا ہو اور سنت موسیٰ علیہ السلام کا عامل ہو لیکن جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آ جائیں تو ان کی تابعداری نہ کرے تو پھر بےدین ہو جائے گا اسی طرح نصرانیوں میں سے ایماندار وہ ہے جو انجیل کو کلام اللہ مانے شریعت عیسوی پر عمل کرے اور اگر اپنے زمانے میں پیغمبر آخرالزمان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو پا لے تو آپ کی تابعداری اور آپ کی نبوت کی تصدیق کرے اگر اب بھی وہ انجیل کو اور اتباع عیسوی کو نہ چھوڑے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو تسلیم نہ کرے تو ہلاک ہو گا۔ (ابن ابی حاتم) سدی نے یہی روایت کی ہے اور سعید بن جبیر بھی یہی فرماتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ ہر نبی کا تابعدار اس کا ماننے والا ایماندار اور صالح ہے اور اللہ کے ہاں نجات پانے والا لیکن جب دوسرا نبی آئے اور وہ اس سے انکار کرے تو کافر ہو جائے گا ۔ قرآن کی ایک آیت تو یہ جو آپ کے سامنے ہے اور دوسری وہ آیت جس میں بیان ہے آیت (وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ ۚ وَھُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ) 3۔آل عمران:85) یعنی جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہو اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور آخرت میں وہ نقصان اٹھانے والا ہو گا۔ ان دونوں آیتوں میں یہی تطبیق ہے کسی شخص کا کوئی عمل کوئی طریقہ مقبول نہیں تاوقتیکہ وہ شریعت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق نہ ہو مگر یہ اس وقت ہے جب کہ آپ مبعوث ہو کر دنیا میں آ گئے آپ سے پہلے جس نبی کا جو زمانہ تھا اور جو لوگ اس زمانہ میں تھے ان کے لئے ان کے زمانے کے نبی کی تابعداری اور اس کی شریعت کی مطابقت شرط ہے۔

🌺 *نجات میں ایمان بالرسول کی حیثیت*🌺

سوال: سورہ بقرہ آیت 62 میں یہ بات بیان ہوئی ہے کہ جو لوگ ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کے ساتھ، عمل صالح کو اختیار کریں گے، ان کی بخشش ہو جائے گی، اس آیت سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ انسان کی نجات میں ایمان بالرسول کی کوئی حیثیت نہیں، کیا یہ بات صحیح ہے؟

#جواب*

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ آخرت میں کامیابی محض اس بات سے نہیں ہو جائے گی کہ فلاں آدمی مسلمان تھا، یہودی، صابی یا عیسائی تھا، یعنی کسی گروہ میں شمولیت سے نجات نہیں ہو جائے گی، بلکہ اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ آدمی ایمان باللہ، ایمان بالآخرت کا حامل ہو اور اعمال صالحہ کو اختیار کرے۔ یہاں یہودیوں کی اس غلط فہمی کو دور کرنا مقصود ہے کہ یہودی ایک نجات یافتہ گروہ ہیں اس بنا پر کہ وہ انبیاء علیہم السلام کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ قرآن اس کی پر زور تردید کرتے ہوئے واضح کرتا ہے کہ اللہ کے ہاں نجات کا دارو مدار کسی خاندان یا گروہ یا فرقہ  سے وابستگی کی بنا پر نہیں ہے بلکہ اس کا دارومدار اوصاف  پر ہے۔ جو شخص ایمان و عمل صالح کے اوصاف کا حامل ہوگا وہ آخرت میں نجات پائے گا لیکن جو شخص ان اوصاف سے عاری ہوگا وہ نجات اخروی سے محروم رہے گا۔ خواہ وہ مسلمان گروہ ہی کا فرد کیوں نہ ہو۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا کوئی چیز نہیں اور آدمی خواہ ان کا اقرار کرے ،خواہ انکار، خواہ ان سے بے نیازی اختیار کرے، اس سے اس کی بخشش میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ *نہیں، ہرگز نہیں،* صحیح بات یہ ہے کہ جس آدمی نے جان بوجھ کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی تو اسے ہدایت پر سمجھا ہی نہیں جائے گا اور اس کا ایمان باللہ، ایمان بالآخرت اور اعمال صالحہ سب رائگاں جائیں گے ۔ ارشاد باری ہے:

*وَقَالُوْا کُوْنُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی تَهْتَدُوْا قُلْ بَلْ مِلَّةَ اِبْرٰهيمَ حَنِيْفًا وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِيْنَ. قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَمَآ اُنْزِلَ اِلٰۤی اِبْرٰهيمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی وَعِيْسٰی وَمَآ اُوْتِیَ النَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ لاَ نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَه، مُسْلِمُوْنَ فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِه فَقَدِ اهْتَدَوْا وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا هُمْ فِیْ شِقَاقٍ فَسَيَکْفِيْکَهُمُ اللّٰهُ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ (البقرة٢: ١٣٥- ١٣٧)*

*ترجمہ*

”اور اِن کا اصرار ہے کہ یہودی یا نصرانی بنو تو ہدایت پاؤ گے۔ اِن سے کہہ دو : بلکہ ابراہیم کا دین اختیار کرو جو (اپنے پروردگار کے لیے) بالکل یک سو تھا اور مشرکوں میں سے نہیں تھا ۔ اِن سے کہہ دو : ہم نے اللہ کو مانا ہے اور اُس چیز کو مانا ہے جو ہماری طرف نازل کی گئی اور جو ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحق اور یعقوب اور اُن کی اولاد کی طرف نازل کی گئی اور جو موسیٰ اور عیسیٰ اور دوسرے سب نبیوں کو اُن کے پروردگار کی طرف سے دی گئی ۔ ہم اِن میں کوئی فرق نہیں کرتے۔ (یہ سب اللہ کے پیغمبر ہیں) اور ہم اُسی کے فرماں بردار ہیں۔ پھر اگر وہ اُس طرح مانیں ،جس طرح تم نے مانا ہے تو راہ یاب ہوئے اور اگر منہ پھیر لیں تو وہی ضد پر ہیں ۔ سو اِن کے مقابلے میں اللہ تمھارے لیے کافی ہے ، اور وہ سننے والا ہے ، ہر چیز سے واقف ہے۔”

اس آیت میں واضح طور پر بتا دیا گیا ہے کہ یہود و نصاریٰ اگر مسلمانوں کی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں گے تبھی راہ یاب ہوں گے، ورنہ نہیں۔

لہٰذا، سورہ بقرہ کی آہت 62 سے یہ معنی لینے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے کہ ایمان بالرسالت ایک غیرضروری چیز ہے۔ کسی بھی نبی کے دور میں اس پر ایمان سے محرومی، کسی صریح عذر ہی کی بنا پر قابل معافی ہو سکتی ہے۔

آج نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ایمان لانا پوری دنیا کے لیے ایک انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے، کیونکہ ارشاد باری ہے:

*﴿وَما أَر‌سَلنـٰكَ إِلّا كافَّةً لِلنّاسِ بَشيرً‌ا وَنَذيرً‌ا…٢٨ ﴾… سورة سبا*

“ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے بشیر اور نذیر بناکر بھیجا ہے۔”

اسیطرح:

*تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِه لِيَکُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرًا.(الفرقان٢٥:١)*

”بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر حق و باطل کے درمیان امتیاز کر دینے والی کتاب اتاری تاکہ وہ جہان والوں کے لیے خبردار کرنے والا بنے۔”

ان آیات کا مطلب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود، آپ کی لائی ہوئی کتاب اور آپ کی برپا کی ہوئی دینونت، اب پوری دنیا کے لیے آپ کی جانب سے بالفعل حجت بن چکی ہے۔ بس اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے اب انسانوں کی طرف سے ہونے والی جد و جہد ہی باقی ہے اور وہ ظاہر ہے کہ انھی کے ذمے ہے، لہٰذا آپ پر ایمان لانے سے انسان کی محرومی کسی عذر ہی کی بنا پر معاف ہو گی۔

ایک اور جگہ ارشاد ہے:

*﴿قُل يـٰأَيُّهَا النّاسُ إِنّى رَ‌سولُ اللَّهِ إِلَيكُم جَميعًا الَّذى لَهُ مُلكُ السَّمـٰو‌ٰتِ وَالأَر‌ضِ ۖ لا إِلـٰهَ إِلّا هُوَ يُحيۦ وَيُميتُ ۖ فَـٔامِنوا بِاللَّهِ وَرَ‌سولِهِ النَّبِىِّ الأُمِّىِّ الَّذى يُؤمِنُ بِاللَّهِ وَكَلِمـٰتِهِ وَاتَّبِعوهُ لَعَلَّكُم تَهتَدونَ ١٥٨ ﴾… سورة الاعراف*

“کہہ دیجئے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں، جس کے لئے آسمانوں او رزمین کی بادشاہی ہے۔ جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی زندہ کرتا او رمارتا ہے۔ پس تم اللہ پر او راس کے رسو ل نبی اُمی پرایمان لاؤ، وہ جو اللہ پر او راس کے کلمات پر ایمان رکھتا ہے اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم ہدایت پاؤ۔

” اور نبی ﷺ نے فرمایا:

*«کان النبي يبعث إلی قومه خاصة وبعثت إلی الناس عامة»*

(صحیح بخاری، کتاب التیمم، حدیث نمبر۳۳۵)

“پہلے نبی صرف اپنی قوم ہی کی طرف مبعوث ہوتا تھا، اور میں تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں”

ایک اور روایت کے الفاظ ہیں: *«کان کل نبي يبعث إلی قومه خاصة وبعثت إلی کل أحمر وأسود»* (صحیح مسلم، کتاب المساجد، حدیث ۵۲۱، بہ تحقیق فواد عبدالباقی)

“ہر نبی صرف اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا اور مجھے ہر احمر و اسود کی طرف نبی بنا کربھیجا گیا ہے”

جب پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی ﷺ کو یہ شرف وامتیاز، یہ شان اور فضیلت عطا کی گئی کہ آپ کو تمام انسانوں کا ہادی و رہنما بنایا گیا، آپ ہی کی نبوت کو قیامت تک باقی رکھا گیا اور آپ کی تعلیمات میں عالم گیریت اور ابدیت یعنی کاملیت کو سمو دیا گیا ہے، تو یہ سارا اہتمام اسی بات کو واضح کرتا ہے کہ قیامت تک کے آنے والے انسانوں کے لئے نجات کا کوئی راستہ ہے تو وہ وہی راستہ ہے جسے آپ نے دنیا کے سامنے پیش کیا، اسی دین میں نجات ہے جو قرآن وحدیث میں محفوظ ہے اور انہی تعلیمات کے اپنانے میں ہے جن کے مجموعے کا نام دین اسلام اور اسوہٴ حسنہ ہے۔ عقل و منطق کا تقاضا بھی یہی ہے اور خالق کائنات کا اعلان بھی یہی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب میں فرمایا: ﴿إِنَّ الدّينَ عِندَ اللَّهِ الإِسلـٰمُ…﴾… سورة آل عمران *”دین تو اللہ کے ہاں اسلام ہی ہے۔*…﴿وَرَ‌ضيتُ لَكُمُ الإِسلـٰمَ دينًا…٣ ﴾… سورة المائدة *”میں نے تمہارے لئے اسلام کو بطورِ دین کے پسند کرلیا”…* ﴿وَمَن يَبتَغِ غَيرَ‌ الإِسلـٰمِ دينًا فَلَن يُقبَلَ مِنهُ وَهُوَ فِى الءاخِرَ‌ةِ مِنَ الخـٰسِر‌ينَ ٨٥ ﴾… سورة آل عمران  *”جو اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہوگا، وہ ہرگز مقبول نہیں ہوگا اور وہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگا”*۔ اور نبی آخر الزمان ﷺ نے بھی فرمایا:

*«والذي نفس محمد بيدہ لا يسمع بي أحد من هذه الأمة يهودي ولا نصراني ثم يموت ولم يؤمن بالذي أرسلت به إلا کان من أصحاب النار» (صحیح مسلم، کتاب الإیمان، باب وجوب الإيمان برسالة نبينا محمدﷺ، حدیث نمبر ۱۵۳، بہ تحقیق فواد عبدالباقی)*

*”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد(ﷺ) کی جان ہے، میری اُمت میں سے جس نے بھی میرا نام سنا، وہ یہودی ہو یا نصرانی۔ پھر وہ میری رسالت پر ایمان لائے بغیر ہی مرگیا، تو وہ جہنمیوں میں سے ہوگا۔”*

اس حدیث میں اُمت سے مراد، اُمت ِدعوت ہے، یعنی قیامت تک آنے والے انسان۔کیونکہ آپ تمام انسانوں کے لئے نبی ہیں، اس لئے تمام انسان آپ کی اُمت ہیں لیکن اُمت دعوت، یعنی آپ کی دعوت کی مخاطب اُمت اور یہ قیامت تک آنے والے تمام انسان ہیں، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب، نظریہ اور ازم سے ہو۔ یہودی اور عیسائی کا نام تو مثال کے طور پر ہے، ورنہ مراد ہر غیر مسلم ہے۔

امام طبری لکھتے ہیں :

وقال ابن عباس بما:-

*حدثني المثنى قال، حدثنا أبو صالح قال، حدثني معاوية بن صالح، عن ابن أبي طلحة، عن ابن عباس قوله: (إن الذين آمنوا والذين هادوا والنصارى والصابئين) إلى قوله: (ولا هم يحزنون) . فأنزل الله تعالى بعد هذا: (وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ)* [آل عمران: 85]*

*وهذا الخبر يدل على أن ابن عباس كان يرى أن الله جل ثناؤه كان قد وعد من عمل صالحا – من اليهود والنصارى والصابئين – على عمله، في الآخرة الجنة، ثم نسخ ذلك بقوله: (ومن يبتغ غير الإسلام دينا فلن يقبل منه)*

حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ اس آیت کے بعد آیت ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ وھو فی الاخرۃ من الخاسرین۔ نازل ہوئی، یعنی دین اسلام آجانے کے بعد دیگر تمام ادیان منسوخ ہوگئے۔

اور اس آیت میں یہود و نصاریٰ اور صائبین کے لیے جو اجر بتایا گیا ہے وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے کے لوگوں کے لیے ہے۔ آپ کے زمانے کے یہود و نصاری اور صابئین میں سے جو لوگ آپ پر ایمان لائے، انہی کو یہ حکم شامل ہوگا، جو لوگ آپ پر ایمان نہیں لائے ان کے لیے یہ وعدہ نہیں ہے۔

مذکورہ بالا تفصیل سے یہ حقیقت آشکارا ہوگئی کہ اسلام کے مقابلہ میں سابقہ ادیان کی حیثیت منسوخ مذاہب کی ہے جو اپنے وقت کے انبیاء کے زمانے تک خاص تھی، ہر نبی کے ذریعہ ان سے پہلی قوم کے اندر رائج شریعت میں تبدیلی کی گئی ہے۔ اور آخری نبی کی آمد نے اپنے سے پہلے کے تمام ادیان کو منسوخ کردیا۔ قرآن کریم سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ دین اپنے مجموعی لحاظ سے تمام انبیاء کے درمیان مشترک رہا ہے جیسا کہ آیت کریمہ’’ شرع لکم من الدین …‘‘الآیۃمیں بیان کیا گیا ہے ، البتہ شریعت میں جزوی ترمیم ہوتی رہی ہے، اسلام سے پہلے کے سابقہ تمام آسمانی مذاہب میں توحید، نبوت اور معاد کو بنیادی حیثیت حاصل رہی ہے اور تقریباً ہر نبی نے اپنی قوم کو ایک رب وحدہ لاشریک لہ کی عبادت و پرستش کی دعوت دی ہے، اختلافات بعد کی پیداوار ہیں، جیسا کہ متعدد آیات کے ذریعہ واضح کیا گیاہے، اور اس حقیقت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ اسلام کی آمد کے بعد گزشتہ رسالتوں کا دور ختم ہوچکا اور اب کفار و مشرکین اور اہل کتاب، یہود و نصاریٰ کی نجات کا ایک ہی راستہ ہے کہ وہ اس نبی آخر الزماں کی رسالت کو تسلیم کرلیں اور اس کی لائی ہوئی کتاب کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں، اسی میں ان کی دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔اس لئے کہ اللہ کے یہاں کسی کو کوئی درجہ ومرتبہ کسی گروہ کے ساتھ نسبت کی بنا پر حاصل نہیں ہوتا ،بلکہ ایمان باللہ ،ایمان بالآخرت اور عمل صالح کی بنا پر حاصل ہوتا ہے۔اگر یہ چیزیں حاصل نہ ہوں تو ہر چند کوئی شخص مسلمانوں ہی کے گروہ سے وابستہ ہونے کا مدعی ہو،خدا کے یہاں اس کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

*اہم نکتہ*

۔ *ہردور کے اہل ایمان کو دونوں جہانوں میں امن و سکون ملے گا۔* وَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ۔

واللہ اعلم۔

Loading