قرآن میں فرمایا گیا کہ
یہود و نصاری تمہارے کھلے دشمن ہیں۔
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سید اسلم شاہ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔۔ یہود و نصاری تمہارے کھلے دشمن ہیں۔ ۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔ سید اسلم شاہ)اس کی معنی کو یہودیوں اور عیسائیوں سے منصوب کر کے لوگوں کے ذہنوں کو نفرت سے آلودہ کیا گیا جب کہ نبی کریم کی زندگی اور دیگر اسلامی احکامات اس کی کھلی تردید کرتے ہیں ۔ میرے خیال کے مطابق
یہود و نصاری سے مراد یہودی اور عیسائی نہیں ہیں بلکہ اس سے مراد اک خاص قسم کی ذہنیت ہے جو ماضی میں حق پرستوں کے لئیے ایذاء کا باعث بنی رہی۔
عیسی علیہ سلام ناصرہ شہر میں پیدا ہوئے ، ناصرہ کے باسیوں کو نصاری کہا جاتا ہے اور ان کی ذہنیت یہ تھی کہ جب آپ نے انہیں ظلم سے منع فرمایا تو وہ آپ کے دشمن بن گئے اور آپ پر مظالم ڈھاناشروع ہو گئے اسی طرح حضرت موسی بنی اسرائیل کے یہودہ نامی شہر میں پیدا ہوئے جس کے باسی یہودہ کہلائے ۔ درجہ بالا دونوں شہروں کے باسیوں کی طرح ذہنی پسماندہ اور ہٹ دھرمی پر مبنی سوچ کے حامل افراد کو دشمن قرار دیا گیا مگر وہی ذہنی پسماندہ اور ہٹ دھرم عناصر نے انہیں یہودیوں اور عیسائیوں کی طرف موڑ دیا۔
اگر ایسا ہوتا تو کیا نبی کریم کے زمانے میں مسلمان مکہ سے ہجرت کر کے نجاشی کے پاس پناہ لیتے جو کہ عیسائی تھا؟؟
اسلام نے عیسائی عورتوں سے شادی کی اجازت دی ۔ اور اسی اسلام کے مطابق بیوی کے والدین کا احترام اپنے والدین کی طرح قرار دیا تو کیا نبی کریم ہم سے ساس سسر کی صورت میں اسلام کے دشمنوں کا احترام کرواتے؟؟؟
قرآنی ثبوت:۔
سورہ عمران میں الله نے عیسی کے بارے میں فرمایا کہ میں تیرے پیروکاروں کو قیامت تک تیرے منکروں پر غلبہ دوں گا؛
اگر عیسائی ہمارے دشمن ہوتے تو کیا الله ان سے ایسا وعدہ فرما کر ان سے ہی ہماری دشمنی کا اعلان کرتا؟؟
قرآن کو اپنے غلط مقاصد کے لئیے استعمال کر کے معاشرے میں مذہبی بنیادوں پر نفرت پھیلانے والے عناصر کتاب الله کی اپنی مرضی کی تفسیر کر کے اپنے مقصد میں کامیاب رہے اور اسلام کو ساری دنیا سے متصادم کروا کر اسلام کے مثبت اثرات کو نہ صرف زائل کیا بلکہ قرآن کی تفسیر کے خود ساختہ قوانین بنا کر کہ کوئی بھی غیر مولوی یا کوئی بھی ایسا شخص چاہے جتنا بھی قابل کیوں نہ ہو اگر وہ مولویوں کے خاص ندار میں آنیوالی تربیت گاہوں کا منظور شدہ نہیں ہے تو وہ قرآن کا ترجمہ و تفسیر نہیں کر سکتا ، اس طرح اسلام میں تحقیقات اور سوچ بچار کی راہ ہمیشہ کے لئیے بند کر دی گئی جس کا سب سے زیادہ اسلام میں حکم اور تلقین ہے۔