Daily Roshni News

یہ ذکرِ نیم شبی، یہ مراقبے، یہ سُرور

یہ ذکرِ نیم شبی، یہ مراقبے، یہ سُرور
تری خودی کے نگہباں نہیں تو کچھ بھی نہیں

علامہ اقبال اس شعر میں روحانی عبادات جیسے رات کے وقت ذکر، مراقبہ اور وجد کی کیفیات کو اُس وقت تک بےمعنی قرار دیتے ہیں جب تک یہ انسان کی خودی کو سنوارنے اور اس کی حفاظت کرنے کا ذریعہ نہ بنیں۔ ان کے نزدیک اصل مقصد یہ نہیں کہ انسان صرف روحانی لذتوں میں ڈوبا رہے، بلکہ یہ کہ اس کی روح، اس کا باطن اتنا مضبوط ہو جائے کہ وہ دنیا میں باعزت، خودمختار اور باعمل کردار ادا کر سکے۔ اگر یہ عبادات صرف ظاہری رسوم بن جائیں اور انسان کی خودی کو بیدار نہ کریں تو ان کی کوئی حقیقی قدر نہیں رہتی۔

نظم: تصوف
کتاب: ضربِ کلیم

#KhudiSeries

Loading