یہ صرف وقت ہی بتائے گا… یا شاید، وقت بہت کم رہ گیا ہے۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ناسا کے ایک ماہر ماحولیات نے حال ہی میں ایک ایسی لرزہ خیز رپورٹ جاری کی ہے جس نے دنیا بھر کے سائنسی حلقوں کو خاموش کر دیا ہے۔ اس رپورٹ میں ایسا ہولناک انکشاف کیا گیا ہے جو انسانیت کے مستقبل پر ایک سیاہ سایہ ڈال رہا ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ زمین کی گہرائیوں میں، تقریباً 200 کلومیٹر نیچے، ایک پراسرار اور ناقابلِ وضاحت تبدیلی وقوع پذیر ہو رہی ہے۔ دس سال پہلے زمین کے نیچے موجود لاوے کا اوسط حجم صرف 130 کلومیٹر تک محدود تھا۔ لیکن آج، محض ایک دہائی بعد، یہ لاوا خطرناک حد تک اوپر کی جانب سرک چکا ہے اور اب یہ 160 کلومیٹر کی سطح تک آ پہنچا ہے۔ یہ محض ایک عدد نہیں، بلکہ ایک ایسا الارم ہے جو زمین کے اندرونی نظام میں کسی بڑی تبدیلی کی خبر دے رہا ہے۔
اس کی وجہ سے زمین کی پرتیں (plate tectonics) غیر متوقع حد تک حرکت کر رہی ہیں، جس کے اثرات زلزلوں اور سمندری طوفانوں کی صورت میں ہمارے سامنے آ رہے ہیں اور یہ صرف آغاز ہے۔
مگر اصل خوفناک بات ابھی باقی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، زمین کے مرکز میں موجود لاوا اب اپنی گردش کی سمت (rotation direction) بدل رہا ہے۔ یہ وہ تبدیلی ہے جس نے سائنس دانوں کو بھی خاموش کر دیا ہے، کیونکہ اس کے اثرات زمین کے نارتھ اور ساؤتھ پولز کو آہستہ آہستہ اُلٹ رہے ہیں۔ قطبین کی یہ تبدیلی معمولی بات نہیں، یہ وہ علامت ہے جو زمین کے مقناطیسی نظام کے مکمل طور پر اُلٹنے کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔
اور اگر یہ سب کچھ اسی رفتار سے جاری رہا… تو 2030 تک وہ لمحہ آ سکتا ہے جب لاوا زمین کی سطح سے صرف 10 کلومیٹر نیچے رہ جائے گا یعنی 190 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر لے گا۔ اُس کے بعد زمین کی درجہ حرارت 65 ڈگری سیلسیس تک بڑھ سکتا ہے۔ سوچیں… انسان، جانور، پودے سب کچھ آگ کی لپیٹ میں جا سکتا ہے۔
سائنس خاموش ہے، ماہرین بے بس، اور انسانیت ایک ایسے خطرے کے دہانے پر کھڑی ہے جس کا نہ کوئی حل ہے، نہ کوئی یقین۔
کیا ہم نے زمین کے ساتھ کچھ ایسا کر دیا ہے جو اب پلٹ کر ہمارا انجام لکھنے آ رہا ہے؟
یہ صرف وقت ہی بتائے گا… یا شاید، وقت بہت کم رہ گیا ہے۔