یہ “ملا دو پیازہ” کون تھا __؟؟
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ملا دو پیازہ” کا اصل نام “ابوالحسن بن ابو المحاسن بن ابو المکارم” تھا۔ مکّہ معظمہ کے قریب شہر طائف (عرب) میں 1540 کو پیدا ہوئے۔ فطری طور پر ہنسوڑ اور ظریف تھے۔ ہنسنا ہنسانا عادت ثانیہ تھی۔
اس کے والد اس کی سوتیلی ماں سے لڑ جھگڑ کر گھر سے نکل گئے تو یہ اپنے والد کی تلاش میں نکلے اور قافلہ در قافلہ پھرنے لگے۔ آخرکار ایک ایرانی قافلے کے ہمراہ ایران پہنچے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب نصیرالدین ہمایوں، شیر شاہ سوری سے شکست کھا کر امداد لینے ایران آیا ہوا تھا۔ ہمایوں کے سپہ سالار بخش اللہ خان اور ایرانی سپہ سالار اکبر علی کی آپس میں گہری دوستی ہوگئی تھی۔ ابوالحسن کی خوش مزاجی، لطیفہ گوئی اور حاضر جوابی نے سپہ سالار بخش اللہ خان کو بےحد متاثر کیا۔ اس نے سپہ سالار اکبر علی سے ابوالحسن کو بطور یادگار مانگ لیا۔
شو مئی قسمت ابوالحسن کا مربی سپہ سالار بخش اللہ خان کابل کے ایک محاصرے میں مارا گیا، اور ابوالحسن فوج کے ہمراہ ہندوستان پہنچا۔
1556میں ماچھی واڑے کی لڑائی کے بعد ابوالحسن دہلی آکر رہنے لگا۔ اس وقت ابوالحسن کی عمر 15- 16 برس تھی مگر علم خاصا تھا۔ ابوالحسن نے دنیا سے بیزار ہوکر شمس الامراء محمد خان لودھی کی مسجد میں ٹھکانا کر لیا۔ علم کے اظہار اور خوش الحانی سے قرآن پڑھنے کا وصف بھی تھا، لہٰذا سب ابو الحسن کو “ملاّ جی، ملاّ جی” کہنے لگے۔
رفتہ رفتہ ان کی خوش خلقی اور لطیفہ گوئی نے شہر بھر میں دھوم مچا دی۔ ایک روز ملاّ جی ایک امیر کے ہاں دعوت پر گئے، وہاں ان کو ایک قسم کا کھانا بہت پسند آیا جو شخص ان کے برابر میں دسترخوان پر بیٹھا تھا اس سے دریافت کیا کہ اس کھانے کا نام کیا ہے؟ جواب ملا اسے “دو پیازہ” کہتے ہیں، کہ اس میں پکاتے وقت دو بار پیاز ڈالی جاتی ہے۔ ملاّ جی اس نام سے بہت خوش ہوئے اور یاد کر لیا، بلکہ عہد کر لیا کہ جب تک “دوپیازہ” دسترخوان پر نہ ہوگا وہ کسی کی ضیافت قبول نہ کریں گے۔
ملاّ جی کی یہ معصوم اور البیلی ادا بھی لوگوں کو بہت پسند آئی، پس لوگوں نے ملاّ جی کی دو پیازہ سے یہ رغبت دیکھ کر ان کا نام ہی “ملاّ دو پیازہ” رکھ دیا اور یہی نام انکی وجۂ شہرت بنا، اور اصل نام ابو الحسن پس پردہ رہ گیا۔
علامہ ابو الفیضی (ثم فیاضی) اور علامہ ابو الفضل دونوں بھائی ہی ملاّ دو پیازہ کے ہم جلیس اور مداح تھے۔ علامہ فیضی اور ملاّ دو پیازہ کی دوستی تو یہانتک بڑھی کہ علامہ فیضی نے عبادت خانہ الہٰی کا انتظام و انصرام ملاّ دو پیازہ کے سپرد کردیا۔ اور شہنشاہ اکبر تک ان کو پہنچا دیا۔ یوں قدرت نے انہیں ان کے صحیح مقام پر لا کھڑا کیا۔ ملاّ دو پیازہ کی ظرافت دربار میں پھلجھڑی چھوڑتی، باہر کا رخ کرتی تو کیا امیر کیا غریب سبھی سے خراج وصول کرتی۔
شہنشاہ اکبر کے دور میں ایک ایرانی عالم اور ملا دو پیازہ کا مشہور تاریخی مناظرہ منسوب کیا جاتا ھے۔ جس میں شرکاء کو زبان کی بجائے صرف اشاروں سے کام لینا تھا۔ روایت کے مطابق جب ایرانی عالم اور ملا دو پیازہ آمنے سامنے بیٹھ گئے تو ایرانی عالم نے اپنی انگشت شہادت بلند کی۔ ملا نے جواب میں اپنی انگشت شہادت اور درمیانی انگلی ایرانی کے چہرے کے سامنے لہرائی۔ ایرانی نے اثبات میں سر ہلایا۔ اُس کے بعد اُس نے اپنا داہنا ہاتھ پھیلا کر ملا کے سامنے کیا جواب میں ملا نے داہنا ہاتھ مٹھی کی صورت میں بند کیا اور ایرانی کے سامنے مکّے کی طرح بلند کیا۔ ایرانی نے ستائش کے انداز میں سر ہلایا۔
پھر ایرانی عالم نے اپنے آدمی کے کان میں کچھ کہا اور اُس نے اپنی جیب سے انڈا نکال کر ملا کے سامنے رکھ دیا۔ ملا نے ایک نظر اُسے دیکھا اور اپنے آدمی کے کان میں سرگوشی کی وہ ذرا سی دیر میں ایک پیاز لے آیا جسے ملا نے ایرانی کے رکھے ہوئے انڈے کے ساتھ رکھ دیا۔ ایرانی نے بےساختہ کھڑے ہوکر ملا کو گلے لگا لیا اور واضح الفاظ میں اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے ملا کی علمی قابلیت اور حاضر دماغی کی زبردست تعریف کی۔ بادشاہ نے حسبِ اعلان اپنے گلے سے بیش قیمت موتیوں کی مالا اتار کر ملا کے گلے میں ڈال دی اور خلعت و زر نقد بھی عطا کیا ملا فتحیاب اور کامران دربار سے رخصت ہوگیا۔ بعد میں شہنشاہ نے ایرانی عالم سے سوال و جواب کی تشریح چاہی تو اُس نے کہا :
“جہاں پناہ آپ کا عالم بے حد ذہین، غضب کا حاضر دماغ اور علم و فن کا استاد ہے۔ میں نے اپنی انگشت شہادت سے اشارہ دیا کہ “اللّٰہ ایک ہے” – – ملا نے جواب میں دو انگلیاں دکھا کر واضح کیا کہ “مسلمانوں کیلئے اللّٰہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دونوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔”
جواب درست تھا۔ پھر میں نے ہاتھ سے اشارہ دیا کہ “قادر مطلق کی کائنات ہتھیلی کی طرح وسیع اور پھیلی ہوئی ہے” – – – جواب ملا کہ “اس کے باوجود وہ اللّٰہ کریم کے مکمل قبضہ قدرت میں ہیں اس طرح جیسے مٹھی میں بند کوئی چیز”۔ بڑی معقول تشریح تھی چنانچہ مجھے تسلیم کرنی پڑی ۔
جہاں پناہ تیسرا مسئلہ میں نے انڈا دکھا کر پیش کیا کہ “زمین شکل و صورت کے اعتبار سے انڈے کی طرح گول ہے”۔ ملا نے پیاز دکھا کر تصحیح فرمائی کہ “سات آسمان اور زمین پیاز کی طرح تہ بہ تہ لپٹے ہوئے ہیں۔”
تینوں جوابات مُسکت اور از حد عالمانہ تھے چنانچہ مجھے ملا کی علمیت تسلیم کرنے میں کوئی باک نہیں۔
اگلے روز بادشاہ نے ملا دو پیازہ سے دریافت کیا تو وہ کہنے لگا؛ “عالم پناہ وہ عالم کہاں کا تھا، ایک جاہل اور گھامڑ تھا۔ چنانچہ معیار کم کرکے اُس کی سطح پر آکر جواب دینا پڑا”۔
“وہ کیسے؟” بادشاہ نے تعجب سے دریافت کیا۔
“حضور اُس نے بیٹھتے ہی اپنی انگلی میری آنکھ کی طرف بڑھائی اور دھمکی دی کہ میں تیری آنکھ پھوڑ دونگا پھر” ؟”
جہاں پناہ میں نے جواب میں اشارہ دیا کہ میں تیری دونوں آنکھیں پھوڑ دونگا اِس پر وہ اور زیادہ بد تمیزی پر اُتر آیا اور اشارہ دیا کہ تھپڑ ماروں گا ۔
عالم پناہ، میں نے جواب دیا کہ ایسا گھونسہ ماروں گا کہ بتیسی باہر نکل آئے گی پھر جہاں پناہ، وہ مجھے انڈا دکھانے لگا کہ میں یہ کھاتا ہوں اتنی طاقت ہے کہ میں تمہارا بھرکس نکال دوں گا ۔ واقعی؟
جی جہاں پناہ، لیکن بندے نے جواب میں پیاز دکھائی کہ یہ انڈے میں ملا کر کھاتا ہوں جس سے طاقت دس گنا ہو جاتی ہے اس لیے جان نکال دوں گا بس عالی جاہ، پھر حضور کے اقبال کی بدولت وہ بھاگ نکلا ۔”
ابو الحسن عرف ملاّ دو پیازہ نے 60 برس کی عمر پائی۔ مغل اعظم احمد نگر کے محاصرے سے واپس آرہے تھے کہ راستے میں ملاّ دو پیازہ بیمار پڑ گئے، اور مہینہ بھر بیماری کاٹ کر 1600میں قصبہ ہنڈیا میں انتقال کرگئے، چنانچہ کسی ظریف نے اسی وقت کہا کہ ”واہ بھئی! ملاّ دو پیازے۔ مر کے بھی ہنڈیا کا پیچھا نہ چھوڑا۔ ملاّ دو پیازہ اور لالا بیربل کے چٹکلوں سے مہاب علی اکبر کا من خوب بہلتا تھا، سو ملا جی کی وفات پر اکبر کئی دن تک غمگین رہا ۔
✭ نوٹ:- مزید دلچسپ اور ایمان افروز واقعات و حکایات کے لئے ہمارے چینل میں شامل ہونے کے لئے لائک شیئر اور فالو کریں
Like Share Follow comment Please