Daily Roshni News

۔۔۔۔۔  غزل  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاعر  ۔۔۔  ناصر نظامی ( گولڈ میڈلسٹ )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  غزل  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاعر  ۔۔۔  ناصر نظامی ( گولڈ میڈلسٹ )

ظلم نہ حق یہ، ہوا کرتی ہے

گل سے خوشبو کو، جدا کرتی ہے

زندگی کب یہ، وفا کرتی ہے

آ خری وقت ، دغا کرتی ہے

کر دے ویرانے کو شہر چاہت

یہ سمندر کو، صحرا کرتی ہے

موم پتھر کو یہ بناتی ہے

یہ تو دیوار میں راہ کرتی ہے

نہیں محتاج لفظوں کی چاہت

بند ہونٹوں سے،صدا کرتی ہے

چوٹ کھا کے بھی مسکرائے جو

اس کے حق میں یہ، دعا کرتی ث

مانگنے کی نہیں ہے شے چاہت

یہ تو بن مانگے، ملا کر تی ہے

جگنوؤں سے بھی یہ تو ڈرتی ہے

تتلیوں سے بھی ، حیا کرتی ہے

پھول پتھر کو بنا دے چاہت

زہر کو آ ب بقا کرتی ہے

یاد کر کر کے بچھڑے لوگوں کو

خراج دل کا، ادا کرتی ہے

چھین لیتی ہے یہ تو بینائی

آ دمی کو یہ، بہرا کرتی ہے

سچی چاہت کی یہ نشانی ہے

یار کی جو ہو ، رضا کرتی ہے

یہ تو ہستی کو ، فنا کرتی ہے

یہ تو بندے کو ، خدا کرتی ہے

مشورہ مانگے نہ کبھی چاہت

رستہ ایجاد، نیا کرتی ہے

یہ کسی کی نہیں سنتی ناصر

اپنے ہی دل کا، کہا کرتی ہے

ناصر نظامی

Loading