Daily Roshni News

۔۔۔ شباب کی باتیں ۔۔۔ شباب کی باتیں ۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب

شباب کی باتیں

ایک گلی کی بات تھی اور گلی گلی گئی

تحریر  ۔۔۔۔۔۔   مشتاق شباب

بعض اوقات لکھتے ہوئے کالم لکھنے والے کے لیے کمبل بن جاتا ہے اور وہ تو اسے ایک وقتی تحریر سمجھ کر قارئین کی نظر کر دیتا ہے مگر قارئین اس پر اپنی اپنی صوابدید کے مطابق تبصرے لکھ کر ہل من مزید کی توقع لگا لیتے ہیں۔

 نو اگست کو شائع ہونے والے ہمارے کالم بہ عنوان “دلوں میں آگ لبوں پر گلاب رکھتے ہیں”  کا بھی محترم قارئین نے ایسے ہی سواگت کیا یعنی اپنی اپنی رائے دیتے ہوئے ہماری رائے سے اتفاق بھی کیا اور کچھ دوستوں نے،  استفسار کرتے ہوئے اس شاعر کے بارے میں بقول ان کے نامکمل معلومات پر مطالبہ کیا کہ ان کا نام اگر سامنے لے اتے تو بہتر تھا۔ اس پر ہم نے عرض کیا کہ بھائی آج کل ویسے بھی ہمارے خلاف کئی محاذ کھلے ہوئے ہیں اس لیے ایک نیا محاذ کھلوانے کا نہ شوق ہے نہ ضرورت محسوس کرتا ہوں۔ اور نہ ہی ہمت پڑتی ہے۔  کالم کے مندرجات میں ایک نکتہ انجمن ستائش باہمی کا تھا جس پر محترمہ گل ارباب نے ہم سے اتفاق کرتے ہوئے اپنے تبصرے میں لکھا کہ 100 فیصد متفق ہوں سر، اس ستائش باہمی نے سچے (زبر کے ساتھ) اور سچے (پیش کے ساتھ)  تخلیق کاروں کو کھڈے لائن لگا دیا ہے ۔

ماہر نفسیاتبسور عالمی شہرت کے حامل،  ذہنی امراض کے ماہر  استاد بلکہ استاد الاساتذہ، پروفیسر ڈاکٹر خالد مفتی نے کالم کے نفسیاتی پہلوؤں اور خاص طور پر مرزا غالب کے حوالے سے بہت عمدہ تجزیہ کیا ہے۔ ان کے تبصرے سے ایک مختصر اقتباس ملاحظہ فرمائیں، وہ لکھتے ہیں۔

“مشتاق شباب نے برصغیر کے اردو ادب کی تاریخ کو نئے اسلوب,  نئے جملوں اور علمی انداز میں اس طرح پیش کیا ہے کہ (بقول ان کے)  مجھ سے ایک حقیقی اردو ادب سے نا آشنا انسان پر بھی فکری قوت ورود ہو جاتی ہے۔  یہ کالم مرزا غالب کی شخصیت اور فکر کو صرف ایک عظیم شاعر کی حیثیت سے نہیں بلکہ برصغیر کی تہذیبی تاریخ، سماجی ارتقا اور انسانی نفسیات کے ائینے کے طور پر پیش کرتا ہے۔”

پروفیسر ڈاکٹر ضیغم حسن نے بھی اپنے ایک میسج میں یہی پوچھا تھا کہ اس شاعر کا نام تو ظاہر کر دیتے یا اس غزل ہی کو نقل کر کے بتا دیتے سو ہم نے گزارش کی کہ بھائی مزید محاذ کھولنے کا کوئی شوق نہیں ہے جتنے محاز ہمارے خلاف پہلے ہی سے کھلے ہوئے ہیں فی الحال یہ بھی بہت ہیں اس حوالے سے ہمدم دیرینہ یوسف عزیز زاہد کا حوالہ بھی دیا کہ انہوں نے بھی متعلقہ شاعر؟ کی غزل پڑھ کر ہماری رائے مانگی تو ان کو اپنی صوابدید کے مطابق جتنا ضروری سمجھا عرض کر دیا تھا مگر محولہ شاعر کی نشاندہی دیگر مہربان دوستوں کے لیے ضروری نہیں سمجھتا کہ بقول جون ایلیاء

 اس کی گلی سے اٹھ کے میں آن پڑا تھا اپنے گھر

ایک گلی کی بات تھی اور گلی گلی گئی

ایک اور اہم معاملے کی جانب توجہ دلانا بھی ضروری ہے اور وہ ہے مشاعروں کی روایات میں ایک منفی رجحان کا در آنا۔  اس حوالے سے جب ہم اپنے لڑکپن کے دور پر نظر دوڑاتے ہیں تو خاص طور پر پشاور میں ہندکو مشاعروں کی ایک نویکھلی صورت سے سامنا رہتا تھا، یعنی جو بھی شاعر سٹیج پر آتا تو پہلے اپنے دادا استاد کا کلام سناتا، پھر اپنے استاد کی کئی غزلیں سامعین کی نظر کرتا اور پھر اخر میں اپنا کلام سناتا، اس طرح مشاعرہ خاصا بدمزگی کا شکار ہو جاتا۔

 اب ایک اور روایت قائم ہوئی ہے اور چونکہ مشاعرے میں پہلے جونیئر یا نو آموز شاعروں کو بلایا جاتا ہے اور اساتذہ یا سینیئر شعراء کو آخر میں پڑھوایا جاتا ہے۔  مگر اس روایت سے بعض نوجوان شعراء یوں فائدہ اٹھاتے ہیں کہ کئی کئی غزلیں سنا کر وقت کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں اور آخر میں سینیئر شعراء کے لیے وقت ہی نہیں بچتا۔

 اس حوالے سے دو واقعات ہمیں یاد آرہے ہیں،  ایک بار ہری پور کی ایک ادبی تنظیم نے پشاور سے مرحومین سجاد بابر اور ڈاکٹر نذیر تبسم کے علاوہ ناصر علی سید، عزیز اعجاز اور ہمیں ایک ادبی تقریب میں شرکت کی دعوت دی۔  جس کے پہلے پڑاؤ میں کتابوں کی رونمائی اور دوسرے پڑاؤ میں مشاعرہ تھا ۔ مشاعرے کی صدارت مرحوم سجاد بابر کر رہے تھے ابتداء میں روایت کے مطابق ہری پور اور قرب و جوار کے نوجوان شعراء کو دعوت دینے کا سلسلہ شروع ہوا۔  ہر شاعر بلا کم و کاست تین سے پانچ غزلیں سنا سنا کر واہ واہ کے ڈونگرے وصول کرتے رہے۔  مگر جو کمال حرکت انہوں نے فرمائی وہ یہ تھی کہ جیسے ہی اس نوجوان گروپ کے آخری شاعر نے کلام سنا دیا، سب ہال سے نکل گئے اور پیچھے چند مقامی شاعروں کے علاوہ ہم مہمان شعرا ہی رہ گئے، اس صورتحال پر سجاد بابر مرحوم کو بہت دکھ ہوا اور اس کا جو اظہار انہوں نے منتظمین کے سامنے کیا اس کو دوہرانا ہم ضروری نہیں سمجھتے۔

اسی حوالے سے ایک اور واقعہ پیشاور یونیورسٹی کی تنظیم پیوٹا کے سالانہ مشاعرے کا بھی یاد آیا،  حسن اتفاق سے اس مشاعرے کی صدارت بھی مرحوم سجاد بابر ہی کر رہے تھے۔  اس میں ہوا یوں کہ حسب روایت ابتداء میں یونیورسٹی اور متعلقہ کالجز کے طلباء شعراء  کو دعوت دی جاتی رہی۔  اس دوران جب مختلف گرلز ہاسٹلز سے بلوائی گئی طالبات کے لیے وہاں بیٹھنے کا مقررہ وقت پورا ہوا تو وہ باہر کھڑی بسوں میں بیٹھ کر اپنے اپنے ہاسٹلز واپس چلی گئیں،  جس سے آدھا ہال خالی ہو گیا۔  جبکہ نوجوان طلباء بھی تین تین غزلیں سنا سنا کر سینیئر شعراء کے صبر کا پیمانہ لبریز کرتے رہے، اور جب آخر میں مرحوم سجاد بابر کا نام پکارا گیا تو ہال میں بہت ہی کم سامعین کو دیکھ کر انہوں نے بطور احتجاج صرف ایک شعر سنانے پر ہی اکتفا کیا۔

 خیر یہ صورتحال صرف جونیئر شعراء تک ہی محدود نہیں ہے بعض سینیئر شعرائے کرام بھی اس مرض میں مبتلا ہیں اور پندرہ بیس شعروں سے کم کی غزل سنانے  پر ان کی بھی تشفی نہیں ہوتی۔  خواہ مشاعرے کے منتظمین اور کمپیئر ایسے شعرائے کرام سے بار بار زیادہ سے زیادہ پانچ تا سات شعر سنانے کی درخواست ہی کیوں نہ کریں،  مگر ڈاکٹر راحت اندوری کے الفاظ میں وہ لوگ یہی سوچتے ہیں کہ

 عشق میں جیت کے آنے کے لیے کافی ہوں

 میں اکیلا ہی زمانے کے لیے کافی ہوں۔

Loading