🌙🕯️چھت کا وہ لمحہ🕯️🌙
تحریر : حقیقت اور فسانہ ۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔چھت کا وہ لمحہ ۔۔ تحریر : حقیقت اور فسانہ )رمضان المبارک کا مہینہ تھا۔
لاہور کی پرانی بستی، موہنے والا ٹبہ۔
گلیاں تنگ تھیں مگر رشتے گہرے۔
ہر گھر کی چھت دوسرے کے گھر سے جُڑی ہوئی۔
ساون کا مہینہ تھا اور گھروں میں عبادت کا خاص سماں تھا۔
شاہینہ کی ساس، امی جی، اس سال اعتکاف میں بیٹھی تھیں۔
گھر کی چوتھی منزل پر ایک کمرہ تھا، جہاں وہ تنہائی میں اللہ کی یاد میں مشغول تھیں۔
شاہینہ کو سکون تھا کہ ساس گھر میں ہیں تو پورے محلے کی نظر میں برکت ہے۔
مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ برکت کی یہ چھاؤں کب عذاب بن جائے۔
رمضان کی بارہ تاریخ تھی۔
دن ڈھلے کا وقت تھا۔
شاہینہ نے سوچا کہ گھر کے کپڑے دھو کر چھت پر ڈال دے۔
مغرب سے پہلے پہلے نمٹ لے۔
اس نے پانی بھرا، کپڑے دھوئے اور بھیگے کپڑوں کی ٹوکری اٹھا کر چھت کی طرف بڑھی۔
چھت پر قدم رکھتے ہی ہوا کے جھونکے نے اس کے گیلے دوپٹے کو اُڑایا۔
اس نے دوپٹا سنبھالا اور نظریں اٹھائیں۔
تو سامنے… سجاد کھڑا تھا۔
سجاد، اس کا دیور۔
اس کا جوان، ان پڑھ، مغرور دیور۔
شاہینہ کے قدم وہیں جم گئے۔
اس نے کپڑوں کی ٹوکری کو سینے سے لگا لیا۔
سجاد نے مسکرا کر کہا، “بھابی، آپ؟”
مگر اس مسکراہٹ میں کوئی معصومیت نہیں تھی۔
شاہینہ نے جواب دیے بغیر تیزی سے رسی کی طرف بڑھنا چاہا۔
مگر سجاد نے ایک قدم بڑھایا۔
اور پھر وہ بولا، “بھابی… شاہینہ۔”
اس نے پورا نام لیا۔
شاہینہ کا دل دھڑکا۔
نیچے صحن میں اس کے چچا اور چچی بیٹھے تھے۔
چچا اس کے شوہر کے تایا تھے۔
وہ دن بھر چارپائیوں پر بیٹھے دنیا جہان کی باتیں کرتے۔
ان کے سامنے شاہینہ کی عزت تھی۔
اور سجاد کی ماں، امی جی، اعتکاف میں تھیں۔
ان کے کمرے کا دروازہ بھی چھت پر کھلتا تھا۔
شاہینہ نے سوچا، اگر کسی نے دیکھ لیا۔
اگر امی جی نے سن لیا۔
اگر چچا نے آواز سن لی۔
وہ کانپ گئی۔
اس نے بغیر کچھ کہے کپڑے رسی پر ڈالے اور ٹوکری گرا دی۔
سجاد نے پھر آواز دی، “اتنی جلدی کیوں بھابی، باتیں تو کرو۔”
شاہینہ نے اسے نظر انداز کیا اور سیڑھیوں کی طرف بھاگی۔
اس کے قدم اتر رہے تھے اور دل میں خوف اتر رہا تھا۔
اس نے سوچا، بس خیر سے گزر گیا۔
مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ اس چھت کا وہ لمحہ اس کی زندگی کا سب سے بھیانک لمحہ ثابت ہوگا۔
◉F◉O◉L◉L◉O◉W ◉H◉A◉Q◉E◉E◉Q◉A◉T ◉A◉U◉R ◉F◉A◉S◉A◉N◉A
چند دن گزرے۔
رمضان کی راتیں اپنی برکتوں میں ڈوبی ہوئی تھیں۔
شاہینہ نے اس واقعے کو دل سے نکال دیا تھا۔
وہ سوچتی، سجاد بے وقوف لڑکا ہے، کچھ نہیں ہوگا۔
عید قریب تھی۔
امی جی اعتکاف سے فارغ ہوئیں۔
پورے گھر میں خوشی تھی۔
عید کی تیاریاں زوروں پر تھیں۔
مگر اگلے ہی دن شاہینہ نے محسوس کیا کہ محلے کی عورتیں اسے دیکھ کر سرگوشیاں کرتی ہیں۔
جس گھر میں جائے، وہاں باتیں رک جاتیں۔
اس نے سوچا، شاید کوئی اور معاملہ ہے۔
مگر پھر وہ دن آیا جب سچائی اس پر ٹوٹ پڑی۔
پڑوس کی خالہ جو کبھی روزانہ آتی تھیں، اب منہ پھیر لیتی تھیں۔
شاہینہ نے اپنی نند سے پوچھا، “بی بی، کوئی بات ہے؟”
نند نے نظریں چرا کر کہا، “کچھ نہیں بھابی۔”
مگر اس کا لہجہ جھوٹ بول رہا تھا۔
پھر ایک دن چچی نے اسے بلایا۔
چچی نے کہا، “شاہینہ، بیٹا، تم نے سجاد سے چھت پر کیا باتیں کی تھیں؟”
شاہینہ کے ہوش اُڑ گئے۔
اس نے کہا، “چچی، میں تو کپڑے ڈال رہی تھی۔”
چچی نے سر ہلایا، “امی جی کہہ رہی ہیں پورے محلے میں۔”
شاہینہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
اس نے کہا، “چچی، میں نے کچھ نہیں کیا۔ وہ وہاں کھڑا تھا، میں ڈر گئی تھی۔”
چچی نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا، “بیٹا، میں جانتی ہوں، مگر امی جی نہیں مانیں گی۔”
شاہینہ سمجھ گئی۔
امی جی نے اعتکاف کے کمرے سے دیکھا ہوگا۔
انہوں نے صرف سجاد کو دیکھا ہوگا، شاہینہ کو نہیں۔
اور جو کچھ ان کی آنکھوں نے دیکھا، وہی ان کی زبان پر تھا۔
شاہینہ نے سوچا، سجاد کیوں نہیں بولتا؟
وہ تو بتا سکتا ہے کہ وہ وہاں کیوں تھا۔
مگر سجاد خاموش تھا۔
وہ تو خود ہی اس الجھن کا حصہ تھا۔
امی جی نے اب محلے میں ڈنکا بجا دیا تھا۔
“شاہینہ ہماری چھت پر سجاد سے ملنے آتی تھی۔”
“جب میں اعتکاف میں تھی، تب اس نے موقع تلاش کیا۔”
شاہینہ کی سسکیاں بند تھیں، مگر اس کی عزت کا جنازہ نکل رہا تھا۔
اس کا شوہر باہر کام کرتا تھا، مہینے میں ایک بار آتا تھا۔
اسے ابھی تک خبر نہیں تھی۔
شاہینہ نے سوچا، جب وہ آئے گا تو کیا ہوگا؟
وہ اسے کیا منہ دکھائے گی؟
وہ بے گناہ تھی، مگر محلے کی عدالت میں اسے مجرم قرار دے دیا گیا۔
امی جی کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ تلوار بن کر چبھتا۔
شاہینہ نے سجاد سے بات کرنے کا سوچا۔
ایک دن اسے موقع ملا۔
سجاد گلی میں کھڑا تھا۔
شاہینہ نے دروازے سے باہر جھانک کر کہا، “سجاد، تم نے امی جی کو سچ کیوں نہیں بتایا؟”
سجاد نے مسکرا کر کہا، “بھابی، اب بتانے سے کیا ہوگا؟”
شاہینہ کو یقین ہوگیا، وہ خود اس سازش کا حصہ تھا۔
وہ اندر آئی اور دیوار سے لگ کر رونے لگی۔
اس کی چھوٹی سی بچی، ثنا، اس کے پاس آئی۔
“امی، رو کیوں رہی ہو؟”
شاہینہ نے اسے گلے لگا لیا۔
وہ سوچنے لگی، اس بچی کی ماں کو کوئی عیاش عورت کہہ رہا ہے۔
اور وہ عورت جس نے یہ الزام لگایا، وہ اس گھر کی سب سے بڑی بزرگ تھیں۔
◉F◉O◉L◉L◉O◉W ◉H◉A◉Q◉E◉E◉Q◉A◉T ◉A◉U◉R ◉F◉A◉S◉A◉N◉A
رات کو شاہینہ نے اپنے شوہر کو فون کیا۔
اس نے روتے ہوئے سارا واقعہ سنایا۔
شوہر نے کہا، “تم پریشان نہ ہو، میں کل آ رہا ہوں۔”
شاہینہ کو سکون ملا۔
وہ سوچتی، وہ آئے گا تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔
وہ اس پر بھروسا کرتی تھی۔
اگلے دن شوہر آیا۔
اس نے پہلے امی جی سے بات کی۔
امی جی نے وہی کہانی دہرائی، “میں نے خود دیکھا، وہ چھت پر باتیں کر رہی تھی۔”
شوہر نے شاہینہ سے بھی بات کی۔
شاہینہ نے کہا، “میں نے کچھ نہیں کیا، میں تو ڈر گئی تھی اور نیچے آگئی۔”
شوہر خاموش رہا۔
وہ جانتا تھا کہ اس کی ماں کی زبان کبھی نہیں رکتی۔
مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ شاہینہ سچی ہے۔
اس نے فیصلہ کیا کہ اس گھر میں رہنا اب ممکن نہیں۔
اس نے شاہینہ سے کہا، “تم ثنا کو لے کر میرے ساتھ چلو۔”
شاہینہ نے کہا، “اور آپ کی ماں؟”
شوہر نے کہا، “ماں ماں ہے، مگر تم بےگناہ ہو، میں تمہیں یہاں نہیں چھوڑ سکتا۔”
وہ راتوں رات گھر چھوڑ کر چلے گئے۔
امی جی نے پیچھے سے کہا، “دیکھا، بےگناہ ہوتی تو بھاگتی کیوں؟”
مگر شاہینہ نہیں بھاگی تھی۔
وہ اپنی عزت بچانے گئی تھی۔
آج وہ ایک چھوٹے سے کمرے میں رہتی ہے۔
اس کی ساس اب بھی محلے میں کہتی پھرتی ہے کہ اس کی بہو چنچل تھی۔
مگر شاہینہ کو کوئی پرواہ نہیں۔
اس کے پاس اس کا شوہر ہے، اس کی بیٹی ہے، اور اس کا ضمیر ہے۔
وہ جب بھی چھت پر کپڑے ڈالنے جاتی ہے، وہ لمحہ یاد آتا ہے۔
وہ لمحہ جب اس نے کچھ نہیں کیا تھا، مگر سب کچھ کھو دیا۔
🌙
خلاصہ یہ کہ: ایک بےگناہ عورت کی عزت کسی کی غلط فہمی اور کسی کی زبان کی تیزی کی نذر ہوگئی۔ رمضان کی عبادت گاہ سے نکلنے والے الفاظ تلوار بن کر چبھے، اور ایک خاندان ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ سچ وہیں چھت پر رہ گیا، اور جھوٹ نے محلے میں ڈیرے ڈال لیے۔
آپ کو یہ کہانی کیسی لگی؟ اپنے خیالات تبصرے میں ضرور شیئر کریں۔ اگر دل کو چھو گئی تو ایک لائک کریں اور اسے اپنے پیاروں کے ساتھ شیئر کریں۔ ایسی اور سچی کہانیوں کے لیے، ہمارے پیج “حقیقت اور فسانہ” کو فالو کرنا نہ بھولیں۔
📱 واٹس ایپ گروپ لنک:
https://chat.whatsapp.com/JG8wpqcKmhrL8rgEPfBYCX
📞 واٹس ایپ نمبر: 03469088712
![]()

