جوڑیاں کے مضبوط محاذ کی فتح: آپریشن گرینڈ سلیم کا عروج
05 ستمبر 1965 کا تاریخی دن
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )یکم ستمبر 1965ء کی رات، ساڑھے تین بجے، مقبوضہ کشمیر کے چھمب سیکٹر پر پاکستانی توپ خانے نے آگ برسانا شروع کی — نو فیلڈ، سات میڈیم اور دو بھاری بیٹریوں سے گولوں کی بارش۔ یہ آپریشن گرینڈ سلیم کا آغاز تھا: ایک جرات مندانہ منصوبہ، جس کا مقصد اکھنور پر قبضہ کر کے بھارتی مقبوضہ کشمیر کو رسد اور مواصلات سے کاٹ دینا تھا۔ اس عظیم الشان حملے کی قیادت میجر جنرل اختر حسین ملک کر رہے تھے — وہ ذہین حکمتِ عملی ساز جس نے چھمب-جوڑیاں سیکٹر کا پورا منصوبہ اپنے ہاتھ سے تیار کیا تھا۔ ان کے اوپر کمانڈر انچیف جنرل محمد موسیٰ خان تھے۔ زمینی محاذ پر بریگیڈیئر افتخار خان جنجوعہ اپنی بریگیڈ کی قیادت کرتے ہوئے سب سے آگے تھے — وہی افتخار جنجوعہ، جو بعد میں میجر جنرل کے عہدے پر فائز ہو کر 1971ء کی چھمب کی جنگ میں شہید ہوئے اور پاکستانی فوج کے میدانِ جنگ میں شہید ہونے والے واحد جنرل کا اعزاز پا گئے۔
مقابلے میں بھارتی افواج تعداد میں کہیں کم تھیں — صرف چار انفنٹری بٹالین، ایک ٹینک سکواڈرن اور تین آرٹلری بیٹریاں، بمقابلہ پاکستان کی آٹھ انفنٹری بٹالین، چھ ٹینک سکواڈرن اور اٹھارہ آرٹلری بیٹریوں کے۔ بھارتی 191 انفنٹری بریگیڈ کی کمان بریگیڈیئر بہرام ماسٹر کے پاس تھی، مگر جنگ کے باقاعدہ آغاز سے پہلے ہی، 15 اگست 1965ء کو، ایک پاکستانی گولہ باری کے دوران وہ اپنے کئی افسروں سمیت شہید ہو چکے تھے — بھارتی دفاعی نظام پہلے ہی دن سے ابتری کا شکار تھا۔ عین بحران کی گھڑی میں میجر جنرل ڈی بی چوپڑا کو، جو ابھی اپنی 10 انفنٹری ڈویژن کی کمان سنبھالنے ہی آئے تھے، جلد بازی میں پورے چھمب-جوڑیاں سیکٹر کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ جوڑیاں کے دفاع پر بھارتی 20 لانسرز آرمرڈ رجمنٹ بھی موجود تھی، جو 41 انفنٹری بریگیڈ کے ماتحت لڑ رہی تھی۔
3 ستمبر کو چھمب سیکٹر عبور کرنے کے بعد جوڑیاں کی طرف پیش قدمی شروع ہوئی۔ کیپٹن غلام مرتضیٰ، جن کے ذمے میدانِ جنگ میں خراب ہونے والے ٹینکوں کی مرمت تھی، دشمن کی سخت انفنٹری اور توپخانے کی مزاحمت میں لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ اسی رات، 3 اور 4 ستمبر کے درمیان، آزاد کشمیر رجمنٹ کے میجر امان اللہ نے دشمن کو ناکوں چنے چبواتے ہوئے شہادت پائی۔ دونوں نام آج بھی جنگِ ستمبر کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جاتے ہیں۔
پوری رات گھمسان کا رن پڑا، اور بالآخر 5 ستمبر 1965ء کی صبح پاک فوج نے جوڑیاں کے مضبوط ترین بھارتی محاذ پر مکمل قبضہ جما لیا۔ اس فیصلہ کن فتح نے بھارتی فوج کو جوڑیاں سے اٹھارہ میل اور اکھنور سے صرف تین میل پیچھے دھکیل دیا۔ صدر ایوب خان نے فوج کو اس بے مثال کامیابی پر مبارکباد دی اور دشمن کو مکمل طور پر نیست و نابود کرنے کی ہدایت جاری کی۔ اکھنور اب ہاتھ کی پہنچ میں تھا — ایک ایسا شہر، جس کا حصول پورے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر سکتا تھا۔
مگر تاریخ نے یہاں ایک تلخ موڑ لیا۔ عین اس وقت جب فتح ہاتھ بڑھانے کی دوری پر تھی، کمانڈ میں اچانک تبدیلی کر دی گئی — میجر جنرل اختر حسین ملک کی جگہ میجر جنرل آغا محمد یحییٰ خان کو کمان سونپ دی گئی۔ اس تبدیلی میں گھنٹوں ضائع ہوئے، پیش قدمی کی رفتار ماند پڑ گئی، اور دشمن کو سنبھلنے کا وقت مل گیا۔ نتیجتاً 6 ستمبر 1965ء کو بھارت نے لاہور اور سیالکوٹ کے محاذ کھول کر پاکستان کی توجہ مکمل جنگ کی طرف موڑ دی، اور اکھنور کبھی فتح نہ ہو سکا۔
بہرحال، 5 ستمبر 1965ء کی جوڑیاں کی فتح اپنی جگہ ایک لازوال کارنامہ ہے — یہ ثابت کرتی ہے کہ جب قیادت واضح ہو اور سپاہی کا عزم فولادی، تو کم وسائل رکھنے والا دشمن بھی زیر ہو جاتا ہے۔ یہی سبق ہمیں آج بھی یاد رکھنا چاہیے۔
📅 5 ستمبر 2026ء | 22 ربیع الاول 1448ھ
#آپریشن_گرینڈ_سلیم #جوڑیاں #چھمب #1965_جنگ #پاک_فوج #دفاع_وطن #تاریخ_پاکستان #یوم_دفاع #ElephantAcademia
![]()

