Daily Roshni News

۔1919ہری پور کی گلیوں میں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام محمد اورنگ زیب رکھا گیا۔

1919ہری پور کی گلیوں میں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام محمد اورنگ زیب رکھا گیا۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )1919 کی سردیاں تھیں۔ ہری پور کی گلیوں میں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام محمد اورنگ زیب رکھا گیا۔ کسی کو کیا خبر تھی کہ یہ بچہ ایک دن “قتیل شفائی” بنے گا اور لاکھوں دلوں پر حکومت کرے گا۔ باپ حکیم تھے، گھر میں دوائیں کوٹنے کی آواز اور مریضوں کی دعائیں گونجتی تھیں۔ مگر 1935 میں باپ کا سایہ اٹھ گیا۔ اسکول کی فیس دینے والے ہاتھ خالی ہو گئے۔ کتابیں بند ہوئیں اور زندگی کی سب سے کڑوی کتاب کھل گئی۔

بارہ سال کے اورنگ زیب نے ہری پور کے بازار میں کھیل کا سامان بیچنا شروع کیا۔ دن بھر گاہکوں کو بلا کھلونے دکھاتا اور رات کو چھت پر لیٹ کر تاروں سے باتیں کرتا۔ وہیں اس نے پہلا شعر کہا۔ درد تھا، مگر لفظوں میں ڈھلا تو موتی بن گیا۔ پشاور گیا تو ایک ٹرانسپورٹ کمپنی میں منشی لگ گیا۔ رجسٹر کے صفحے بھرتے بھرتے دل کا صفحہ بھی اشعار سے بھرنے لگا۔

اصل کہانی تب شروع ہوئی جب 1946 میں یہ نوجوان اپنا سب کچھ سمیٹ کر لاہور کی گاڑی میں بیٹھ گیا۔ جیب میں چند روپے، دل میں ڈھیر سارے خواب۔ لاہور نے اسے پہلے تو دھکے دیے۔ مگر پھر احمد ندیم قاسمی مل گئے۔ قاسمی صاحب نے اس لڑکے کی آنکھوں میں چھپا طوفان پڑھ لیا۔ بولے “تمہارا تخلص قتیل ٹھیک ہے، مگر تم تو حکیم کے بیٹے ہو۔ آج سے تم قتیل شفائی ہو۔” بس اسی دن اورنگ زیب مر گیا اور قتیل شفائی پیدا ہو گیا۔

پھر 1947 آیا۔ ملک بنا اور قتیل کی قسمت بھی بنی۔ فلم “تیری یاد” کے لیے پہلا گیت لکھا۔ اسٹوڈیو میں بیٹھے بڑے بڑے استاد حیران رہ گئے کہ یہ لڑکا جو کل تک منشی تھا، آج لفظوں کا جادوگر کیسے بن گیا۔ اس کے بعد جو قلم اٹھا تو رکا نہیں۔ 900 فلموں کے لیے 2500 سے زیادہ گیت۔ پاکستان میں کوئی اس کا ریکارڈ آج تک نہیں توڑ سکا۔

مگر راز کی بات بتاؤں؟ قتیل نے کبھی غم بیچا نہیں، بانٹا ہے۔ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ عشق میں ہارا ہوا شاعر ہے۔ اصل میں یہ زندگی سے جیتا ہوا انسان تھا۔ اس نے خود لکھا ہے: “دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں، جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں۔” یعنی جو تکلیف ملی، اسے گیت بنا کر واپس کر دیا۔

اس کی محفل میں بیٹھو تو لگتا تھا کہ لفظ سانس لے رہے ہیں۔ ایک بار کسی نے پوچھا “قتیل صاحب، آپ اتنا درد کیسے لکھ لیتے ہیں؟” مسکرا کر بولا “بیٹا، میں روتا نہیں ہوں، لکھتا ہوں۔ اگر میں رونے لگوں تو تم سب ہنسو گے۔ میں مسکرا کر درد سناتا ہوں تو تم رو پڑتے ہو۔”

بھارت میں بھی اس کا ڈنکا بجتا تھا۔ بڑے بڑے موسیقار اس کے دروازے پر قطار لگاتے تھے۔ 1994 میں حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی دیا۔ 20 کتابیں چھپیں۔ “ہریالی”، “گجر”، “جل ترنگ”۔ ہر کتاب پر ایوارڈ ملا۔ مگر وہ کہتا تھا “میرا اصل ایوارڈ وہ آنسو ہے جو کوئی تنہائی میں میرا شعر پڑھ کر بہاتا ہے۔”

11 جولائی 2001 کی رات لاہور کے ہسپتال میں یہ چراغ ہمیشہ کے لیے گل ہو گیا۔ ڈاکٹر کہتے ہیں دل کا دورہ تھا۔ میں کہتا ہوں دل میں جگہ ہی نہیں بچی تھی۔ سارا دل تو اس نے زمانے کو دے دیا تھا۔ وہ خود لکھ گیا تھا:

حیراں ہوں کہ کس منہ سے ادائے وفا دوں

دل اپنا تو دے بیٹھا ہوں، دل اپنا کہاں سے لاؤں

آج بھی جب ریڈیو پر “یہ وادیاں یہ فضائیں” بجتا ہے تو لگتا ہے قتیل کہیں پاس ہی بیٹھا مسکرا رہا ہے۔ وہ مرا نہیں۔ شاعر مرتے کب ہیں؟ وہ تو لفظوں میں زندہ رہتے ہیں۔ اور قتیل شفائی کا ہر لفظ زندہ ہے، دھڑکتا ہوا۔

تو یہ تھا قصہ ایک منشی سے ملک الشعراء بننے کا۔ ایک یتیم بچے سے اردو کے سب سے زیادہ گائے جانے والے شاعر بننے کا۔ اگلی بار جب اس کا کوئی شعر سنو تو آنکھ بند کر کے سوچنا، ان لفظوں کے پیچھے ہری پور کی ایک تنگ گلی، ایک ٹوٹی ہوئی چھت، اور ایک ایسا دل ہے جس نے درد کو گیت بنا دیا۔

Loading