Daily Roshni News

✦ ✦ اندلس کا آخری مسلمان ✦ ✦

✦ ✦ اندلس کا آخری مسلمان ✦ ✦

By: Haqeeqat Aur Fasana

وہ رات جب اندلس کا آخری مسلمان گریناڈا کے محل سے نکلا تو اس کی بیٹی نے کہا: ابا، ہم کیوں رو رہے ہیں؟

رات کے آخری پہر کی بات ہے۔

گریناڈا کے اوپر چاند ایسے لٹک رہا تھا جیسے کسی دار زدہ کے گلے میں پھندا۔ الحمرا کے محل کی دیواریں سرخی مائل تھیں، مگر اس رات وہ سرخی خون کی طرح گہری اور سیاہی مائل لگ رہی تھی۔

ابو عبداللہ محمد الثانی — جسے تاریخ نے “الزغابی” (چھوٹا بادشاہ) کا نام دیا — اپنے محل کے آخری دروازے پر کھڑا تھا۔

اس کے پیچھے سات سو سال کی مسلمان حکومت تھی۔ سات سو سال، جس میں اندلس نے دنیا کو علم دیا، شعاعیں دیں، وہ روشنی دی جو یورپ کی تاریک راتوں میں گم ہو چکی تھی۔ قرطبہ کی جامع مسجد کی روشنی، اشبیلیہ کے باغات کی خوشبو، غرناطہ کے ستاروں سے بھرے آسمان تلے علمی محفلیں — سب کچھ اب ختم ہونے والا تھا۔

ابو عبداللہ نے مڑ کر دیکھا۔

الحمرا کا محل — وہ شاہکار جس کی اینٹوں میں عشق اور دیواروں میں دمِ مسیحائی تھی — اب اس کی ملکیت نہیں رہی تھی۔ فرڈیننڈ اور ازابیلا کے سپاہی اندر داخل ہو چکے تھے۔ صلیب کے نشان تلے اندلس کی آخری چاندنی بھی ڈوب رہی تھی۔

اس کی بیٹی — عائشہ — اس کا ہاتھ تھامے کھڑی تھی۔ آٹھ برس کی معصوم بچی، جس کی آنکھیں باپ کے چہرے پر لگے آنسوؤں کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔

“ابا، ہم کیوں رو رہے ہیں؟”

ابو عبداللہ نے بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ وہ کیا جواب دیتا؟ یہ کیسے بتاتا کہ وہ نہیں رو رہا — اس کی روح رو رہی تھی، اس کی نسلیں رو رہی تھیں، اس کا ماضی اور مستقبل ایک ساتھ رو رہے تھے۔

“کچھ نہیں، بیٹی۔ آنکھ میں کچھ گِرا ہے۔”

عائشہ نے باپ کی آنکھیں صاف کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ “ابا، آپ کی آنکھوں میں تو کچھ نہیں ہے۔”

“ہاں، بیٹی۔ آنکھوں میں تو کچھ نہیں۔ بس دل میں بہت کچھ ہے۔”

وہ لوگ الحمرا کے آخری دروازے سے نکل رہے تھے۔ دروازے کے باہر فرڈیننڈ کی فوج کھڑی تھی۔ ہسپانوی سپاہی خاموش تھے۔ ان میں سے کئی کی آنکھوں میں عجب کیفیت تھی — فتح کی خوشی نہیں، بلکہ کسی عظیم چیز کے ڈوبنے کا خوف۔

کیونکہ وہ جانتے تھے۔ اندلس صرف ایک مملکت نہیں تھی، ایک تہذیب تھی۔ اور تہذیبیں مرتی ہیں تو ان کی قبروں سے آنے والی صدیوں تک آہیں آتی ہیں۔

ابو عبداللہ نے اپنی بیوی — عائشہ الحُرّہ — کی طرف دیکھا۔ اس کی بیوی خاموش تھی۔ بےحد خاموش۔ اس کی آنکھوں میں طوفان تھے، لیکن اس نے ایک آنسو بھی نہ گِرنے دیا۔

وہ اندلس کی خاتون تھی۔

اس کے باپ — ابو عبداللہ کے سسر — نے صرف ایک جملہ کہا تھا جب فرڈیننڈ نے شہر چھوڑنے کی شرط رکھی: “ہم جائیں گے، لیکن یہ زمین ہمیں کبھی نہیں بھولے گی۔”

وہ گھوڑوں پر سوار ہوئے۔ رات کی ٹھنڈی ہوا میں الحمرا کی آخری خوشبو تھی — چنبیلی، لیموں کے پھول، اور صدیوں کی نمناک مٹی۔

عائشہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔

“ابا، وہ محل بہت خوبصورت ہے۔ ہم واپس کب آئیں گے؟”

ابو عبداللہ کا گلا بھر آیا۔ اس نے گھوڑا روکا۔ پیچھے مڑ کر اس نے الحمرا کو دیکھا۔ چاندنی میں وہ محل ایسے چمک رہا تھا جیسے کوئی دلہن اپنے گھر سے رخصت ہو رہی ہو۔

اور اس نے وہ مشہور سسکی لی جسے تاریخ نے کبھی معاف نہیں کیا۔

وہ سسکی جس پر شاعروں نے طنز کیا، مؤرخین نے لعنت بھیجی، اور عوام نے اسے “بے غیرت بادشاہ” کا خطاب دیا۔

لیکن اس رات وہاں کون تھا جو اس کی جگہ ہوتا تو نہ سسکی لیتا؟

ماں کی طرح؟ باپ کی طرح؟ یا ایک انسان کی طرح جو دیکھ رہا ہو کہ اس کی پوری تہذیب اس کی آنکھوں کے سامنے دریائے حیرہ میں ڈوب رہی ہے۔

عائشہ نے باپ کا ہاتھ تھاما۔ “ابا، آپ پھر رو رہے ہیں۔”

“بیٹی، میں نہیں رو رہا۔ یہ میری آنکھیں نہیں رو رہیں۔ یہ میری روح رو رہی ہے۔ اور روح کے آنسوؤں کو پونچھنا کسی کے بس کی بات نہیں۔”

وہ لوگ آگے بڑھے۔ پہاڑی راستے سے گزرتے ہوئے ابو عبداللہ نے ایک آخری بار مڑ کر دیکھا۔

اس نے کہا، “واللہ، میں اس شہر سے نہیں نکلا۔ یہ شہر میرے سینے سے نکلا ہے۔”

اور اس کے ساتھ ہی اس نے گھوڑا ایڑ لگائی اور آگے بڑھ گیا۔

لیکن تاریخ کہتی ہے کہ اس مقام پر آج بھی لوگ جاتے ہیں۔ اس پہاڑی کو کہتے ہیں “آخری سانس کی پہاڑی” — “Ultimo Suspiro del Moro”۔

جہاں اندلس کا آخری مسلمان کھڑا ہوا، رویا، اور چلا گیا۔

ابو عبداللہ کا قافلہ آگے بڑھ رہا تھا۔ راستے میں کئی لوگ خاموش کھڑے تھے — وہ مسلمان جو پہلے ہی شہر چھوڑ چکے تھے، یا جو ابھی تک نہیں چھوڑ سکے تھے۔

ایک بوڑھی عورت نے آگے بڑھ کر عائشہ کے سر پر ہاتھ رکھا۔

“بیٹی، تم اندلس کی آخری شہزادی ہو۔ تمہارے جوتوں میں یہاں کی مٹی ہے۔ اس مٹی کو کبھی مت بھولنا۔”

عائشہ نے اس عورت کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں وہی نمی تھی جو ابا کی آنکھوں میں تھی۔

“دادی، آپ بھی رو رہی ہیں؟”

بوڑھی عورت نے مسکرانے کی کوشش کی۔ “نہیں بیٹی، یہ آنسو نہیں ہیں۔ یہ اندلس کی روح ہے جو تمہارے باپ کی آنکھوں سے ٹپک رہی ہے۔”

قافلہ آگے بڑھتا گیا۔ صبح کی پہلی کرن نکلی تو وہ اندلس کی سرحد سے باہر تھے۔

ابو عبداللہ نے گھوڑا روکا۔

اس نے زمین سے مٹی اٹھائی، سونگھی، اور پھر اپنے عمامے میں باندھ لی۔

عائشہ نے پوچھا، “ابا، یہ کیا ہے؟”

“بیٹی، یہ اندلس کی مٹی ہے۔ ہم جہاں بھی جائیں گے، یہ ہمارے ساتھ ہوگی۔ اور جب ہم مر جائیں گے، یہ ہماری قبر میں ہوگی۔ تاکہ ہم اُس دن بھی اندلس میں سو سکیں۔”

عائشہ نے کچھ نہیں کہا۔ وہ اتنی چھوٹی تھی کہ یہ سب نہیں سمجھ سکتی تھی۔ لیکن اس کی روح جانتی تھی کہ آج کچھ بہت بڑا گُم ہوا ہے۔

کچھ ایسا جو کبھی واپس نہیں آئے گا۔

تاریخ میں لکھا ہے کہ ابو عبداللہ مراکش گیا، اور وہیں مرا۔ لیکن کہتے ہیں کہ اس کی قبر پر اندلس کی مٹی ڈالی گئی۔

اور عائشہ؟

عائشہ بڑی ہوئی، شادی ہوئی، اس کے بچے ہوئے، پوتے ہوئے۔ لیکن وہ اپنے بچوں کو ہمیشہ اندلس کی کہانیاں سناتی۔ الحمرا کے محل کی، قرطبہ کی مسجد کی، اشبیلیہ کے باغات کی۔

اور کہانی کے آخر میں وہ کہتی:

“بچو، ہم نے اندلس کھو دیا۔ لیکن اگر تم نے اسے اپنے دلوں میں بسا لیا، تو اندلس کبھی نہیں مرے گا۔”

آج صدیوں گزر گئیں۔ الحمرا کا محل آج بھی کھڑا ہے۔ اس کی دیواروں پر آج بھی عربی خطاطی ہے۔

“لا غالب اللا اللہ”

اور کہتے ہیں کہ جب پورے چاند کی رات ہوتی ہے، الحمرا کے پاس سے گزرنے والوں کو کبھی کبھار ایک بچی کی آواز سنائی دیتی ہے:

“ابا، ہم کیوں رو رہے ہیں؟”

اور کوئی بوڑھی آواز جواب دیتی ہے:

“بیٹی، ہم نہیں رو رہے۔ یہ اندلس رو رہا ہے۔”

✦ ✦ ✦

خلاصہ:

اندلس کی سات سو سالہ خلافت کی آخری رات۔ ایک باپ، اس کی معصوم بیٹی، اور ایک تہذیب کا غروب۔ وہ لمحہ جب تاریخ آنسو بن کر بہی اور صدیوں بعد بھی الحمرا کی دیواریں اس رات کی داستان سناتی ہیں۔

😢🌙💔

سوال:

آپ کے مطابق، کیا ابو عبداللہ کا رونا کمزوری تھی یا اس تہذیب کے زوال کا وہ المیہ جسے کوئی باپ اپنی بیٹی کو سمجھا بھی نہیں سکتا تھا؟

اپنے خیالات کمنٹس میں تحریر کریں — اور اس تحریر کو اُن دوستوں تک ضرور پہنچائیں جو تاریخ کے ان پتھرائے ہوئے آنسوؤں کو محسوس کر سکتے ہیں ۔

Loading