Daily Roshni News

✦ ✦ ✦ ندی کے کنارے قبر ✦ ✦ ✦

✦ ✦ ✦ ندی کے کنارے قبر ✦ ✦ ✦

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )وہ امتحان دے کر گھر لوٹا تو دشمنوں نے اس کے لیے بندوقیں تیار کر رکھی تھیں — مگر گھر پہنچ کر پتہ چلا کہ اصل قاتل اور کوئی تھا

ریحان نے جب گھر سے نکلتے ہوئے اماں کو دیکھا تو وہ برتن مانجھ رہی تھیں۔ ہاتھوں پر جھاگ تھی اور آنکھوں میں نمی۔ کیوں رو رہی ہیں اماں؟ پوچھا تو بولیں، “کچھ نہیں پتر، دھواں آنکھ میں لگ گیا۔”

دھواں۔

ریحان کو پتا تھا اماں کے آنسوؤں کا دھواں سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن امتحان کا دن تھا، پندرہ سال کی محنت کا پھل۔ باپ نے کہا تھا، “بیٹا آج تم پاس ہو کر آؤ تو میں تمہیں وہ چیز دوں گا جو میں نے خود کبھی نہیں پائی۔” باپ کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ وہ غریب تھے، مگر ان کی خواہشوں پر کوئی ٹیکس نہیں لگتا۔

ریحان سائیکل پر سوار ہوا۔ گلی میں سے گزرا تو چاچا غلام رسول نے آواز دی، “ریحان! امتحان دے کر واپسی پر حلوہ لینا، دعا ہے بیٹا۔” مسکرایا اور آگے بڑھ گیا۔ پرانے بانی والے کی دکان سے گزرا تو اس نے بھی ہاتھ ہلایا۔ پھر وہ موڑ آیا جہاں سے پہاڑی کا راستہ شروع ہوتا تھا۔

موڑ پر کھڑا تھا ارشاد۔

وہی ارشاد جس کے باپ نے ریحان کے باپ کی زمین ہتھیانے کی کوشش کی تھی۔ وہی ارشاد جس نے کبھی کلاس میں ریحان کی پیٹھ پر چھری سے لکیر کھینچ دی تھی۔ آج وہ مسکرا رہا تھا۔

“ریحان! امتحان مبارک ہو۔”

ریحان نے سوچا شاید وقت بدل گیا ہے۔ شاید دشمنیاں مر جاتی ہیں۔ وہ مسکرا کر آگے بڑھ گیا۔ پیچھے سے ارشاد کی نگاہیں اس کی پیٹھ میں گڑ رہی تھیں۔

امتحان گزر گیا۔ سوالات آسان تھے یا مشکل، ریحان کو کچھ یاد نہیں۔ وہ صرف اماں کی آنکھوں میں نمی اور باپ کے وعدے کے بارے میں سوچتا رہا۔ جوابی پرچہ جمع کر کے جیسے ہی باہر نکلا، تو دھوپ نے آنکھیں چُندھیا دیں۔ دوپہر تھی۔ پہاڑی راستے پر سایہ نہیں تھا۔

سائیکل چلائی تو پھر وہی موڑ۔

پھر وہی ارشاد۔ لیکن اب اکیلے نہیں۔ اس کے ساتھ تھے تنویر اور لطیف۔ تینوں کے ہاتھ میں بندوقیں۔

ریحان نے سوچا خواب ہے۔ آنکھیں ملنے لگا۔ لیکن ارشاد نے گولی چلا دی۔ پہلی گولی کان کے پاس سے گزری۔ دوسری گولی سائیکل کے ٹائر میں لگی۔ ریحان سائیکل سمیت گرا۔ اٹھنے کی کوشش کی تو تیسری گولی آئی اور وہ پہاڑی سے نیچے لڑھکتا ہوا ندی میں جا پڑا۔

پانی ٹھنڈا تھا۔ بہت ٹھنڈا۔ اور سیاہ۔

ریحان کو تیرنا آتا تھا۔ اس نے پانی کے اندر ہی اندر آگے بڑھنا شروع کیا۔ اوپر سے ارشاد کی آواز آئی، “گر گیا! پانی میں گر گیا! خون آ رہا ہے۔ ضرور مر گیا ہوگا۔ چلو بھاگو!”

ریحان نے پانی میں ہی اپنے بازو کو چھوا۔ گولی نہیں لگی تھی۔ صرف پتھر سے کٹ گیا تھا۔ خون بہہ رہا تھا مگر زندہ تھا۔

وہ گھنٹوں پانی میں چلتا رہا۔ جب اندھیرا ہوا تو کنارے پر نکلا۔ کپڑے پھٹے ہوئے، جسم کانپ رہا تھا، لیکن دل میں صرف ایک خیال تھا — اماں اور ابا جان۔

صبح تک پیدل چلتا رہا۔ جب گاؤں کی پہلی مسجد کی اذان سنی تو آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ زندہ ہوں۔ زندہ ہوں میں۔

گھر کے قریب پہنچا تو دیکھا باہر لوگ کھڑے ہیں۔ سب خاموش۔ اماں کا وہی پرانا دوپٹہ سر پر ڈالے بیٹھی ہیں، اور ابا جان دیوار سے لگ کر رو رہے ہیں۔

ریحان نے آواز دی، “ابا جان!”

سب نے سر اٹھایا۔ پہلے تو کوئی یقین نہیں کیا۔ پھر اماں دوڑیں۔ دوڑیں اور بیٹے سے لپٹ گئیں۔ “بیٹا! تیرا جنازہ پڑھ چکے ہیں لوگوں نے!”

ریحان نے ساری کہانی سنائی۔ ارشاد کا مسکرانا، بندوقیں، پانی میں گرنا اور پھر رات بھر کا سفر۔ ابا جان نے سنا اور پھر ایک لمبی سانس لی۔

“بیٹا، ارشاد نہیں مرا۔”

“کیا؟”

“کل شام وہ گاؤں واپس آیا۔ کہتا ہے وہ اس وقت وہاں تھا ہی نہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ ساری دوپہر ہمارے گھر کے سامنے کھڑا رہا۔ تجھے دیکھنے آیا تھا، تیرے امتحان کی خیریت پوچھنے۔”

ریحان کے پیروں تلے زمین سرک گئی۔ “ابا جان، وہ وہاں تھا۔ اس نے گولی چلائی!”

“بیٹا، تم نے اس کے ہاتھ میں بندوق دیکھی؟”

ریحان نے آنکھیں بند کیں۔ دیکھنے کی کوشش کی۔ پانی میں گرنے سے پہلے اس نے صرف ارشاد کو دیکھا، اور پھر گولیوں کی آواز۔ لیکن بندوق کس کے ہاتھ میں تھی؟ اندھی دھوپ میں، خوف میں، وہ پہچان نہیں سکا تھا۔

تباہی پھیل گئی۔

ارشاد آج تک دشمن تھا۔ کیا وہ بے گناہ ہے؟ پھر وہ کون تھے؟ اور کیوں؟

مہینے گزر گئے۔ ارشاد نے معافی مانگی، باپ نے معاف کر دیا۔ لیکن ریحان کی نیند اڑ گئی۔ راتوں کو اٹھتا تو کانوں میں گولیوں کی آوازیں گونجتیں۔ پھر ایک دن وہ ندی کے کنارے گیا جہاں سے وہ بچ کر نکلا تھا۔

وہاں ایک قبر تھی۔

چھوٹی سی، پختہ نہیں، صرف مٹی کا ڈھیر۔ اور اس پر پرانے کپڑوں کے ٹکڑے۔ ریحان نے قریب جا کر دیکھا تو اس کے ہاتھ کانپ گئے۔ وہ کپڑے اس کے اپنے تھے۔ وہی کپڑے جو اس نے امتحان والے دن پہنے تھے۔

گاؤں واپس آیا تو بڈھی عابدہ بی بی سے ملا۔ وہ کہانی سناتی ہے۔

“بیٹا، اس رات ندی میں ایک لاش آئی تھی۔ تمہارے کپڑوں میں۔ تمہارے قد کا۔ چہرہ بگڑ گیا تھا، پانی میں زیادہ دیر رہنے سے۔ ہم سمجھے تم ہو۔ قبر کھودی اور دفن کر دیا۔”

ریحان نے پوچھا، “کون تھا وہ؟”

عابدہ بی بی کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ “وہ ارشاد تھا، بیٹا۔ ارشاد کا بڑا بھائی۔ وہی جس کے بارے میں کبھی کسی کو پتا نہیں چلا۔ وہ باہر رہتا تھا، لوگوں سے کٹا کٹا۔ تمہیں مارنے والوں نے غلطی کی۔ اندھیرے میں تمہارے کپڑے پہنے اسے مار دیا۔ ارشاد تمہیں بچانے آیا تھا اس دن۔ اسی لیے وہ گاؤں میں تھا، اسی لیے تمہارے گھر کے سامنے کھڑا تھا۔”

ریحان کو یاد آیا۔ ارشاد اس دن مسکرایا تھا۔ موڑ پر کھڑا تھا۔ لیکن وہ اسے روکنے آیا تھا، مارنے نہیں۔ اور اس کے بھائی نے اس کی جگہ موت پائی۔

آج ارشاد گاؤں میں نہیں رہتا۔ وہ چلا گیا ہے، کبھی واپس نہیں آیا۔ لیکن ندی کے کنارے ایک قبر ہے جس پر ہر سال امتحان والے دن کوئی نہ کوئی پھول رکھ جاتا ہے۔

ریحان جب بھی ندی کے پاس سے گزرتا ہے، رک جاتا ہے۔ کھڑا ہو کر پانی کو دیکھتا ہے۔ پانی آج بھی ویسا ہی ہے۔ ٹھنڈا، سیاہ، خاموش۔ اور اس خاموشی میں چھپی ہے وہ کہانی جسے کبھی کوئی نہیں جان سکے گا — کہ کس کی قربانی نے کس کی زندگی بچائی۔

خلاصہ:

دشمن وہ نہیں جسے ہم سمجھتے ہیں، دوست وہ ہے جو ہماری حفاظت میں اپنی جان دے دے۔ ندی کے کنارے وہ قبر آج بھی بتا رہی ہے کہ محبت کی انتہا قربانی ہے، اور دشمنی کی انتہا پچھتاوا۔ 🌙💔🌊

سوال:

کیا آپ نے کبھی کسی کو غلط سمجھ کر اسے کھویا ہے؟ وہ لمحہ آج بھی آپ کو جلاتا ہے؟ پلیز فالو اور شیر کریں ۔

Loading