🌸 قیصر کا دستور الوداع — اے شام 🌸
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )قیصر روم انطاکیہ میں مقیم تھا جب اسے ملک شام کی مسلسل شکستوں کی خبر پہنچی۔ دل مایوس ہو کر اس نے قسطنطنیہ کی طرف رخ کیا۔
قیصر کا معمول تھا کہ جب وہ حج بیت المقدس سے فارغ ہو کر واپس قسطنطنیہ آتا، تو شام کی سرحد پر پہنچ کر یہ الفاظ ادا کرتا:
“اے شام! مسافر کا سلام قبول ہو—جس کا دل تجھ سے بھرا نہیں اور جو پھر لوٹ کر تیری طرف آئے گا۔”
لیکن اس بار جب وہ مقامِ شِمشاطہ پہنچا، تو بلند پہاڑی پر کھڑے ہو کر بیت المقدس کی طرف رخ کیا اور کہا:
“اے شام! رخصت ہونے والے کا سلام قبول ہو۔ یہ جدائی ایسی ہے جس کے بعد ملاقات ممکن نہیں۔”
قسطنطنیہ پہنچ کر قیصر نے ایک رومی مسلمان کی قید سے بھاگنے والے سے دریافت کیا:
“مجھے مسلمانوں کے حالات سناؤ۔”
رومی نے جواب دیا:
“اے بادشاہ! یہ لوگ دن کو بہادر شہسوار اور رات کو عابد و شب زندہ دار ہیں۔ وہ فتح شدہ علاقوں کے مال کو بغیر قیمت ادا کیے استعمال نہیں کرتے۔ جہاں بھی قدم رکھتے ہیں، امن اور سلامتی کی برکتیں ساتھ لاتے ہیں۔ اور جو قوم ان کا مقابلہ کرے، اسے تب تک نہیں چھوڑتے جب تک وہ ہتھیار نہ ڈال دے۔”
قیصر نے کہا:
“اگر یہ مسلمان اسی طرح ہیں، تو وہ میرے قدموں تلے کی زمین بھی فتح کر لیں گے۔”
(تاریخِ ملت، ج ۱، ص ۱۹۷)
🌹♥️🌸🤲🌼
ری ایکٹ ضرور کریں
ری ایکٹ علامت ہے… احساس کی، شعور کی، جذبے کی، اخلاق کی، حوصلہ افزائی کی، قدردانی کی، شکریہ کی، باہمی تعلق اور وفاداری کی۔ اسے معمولی نہ سمجھیں، سلامت رہیں۔
بارك الله بكم جميعا
اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئے تو مجھے فالو ضرور کریں۔
![]()

