🌹 ــــــــــــــــــ سفرِ عشق ــــــــــــــــــــ 🌹
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )بشر سے اگر “ب” نکال دی جائے تو صرف “شر” رہ جاتا ہے۔ اور “شر” اشرف المخلوقات کے مقام سے گِرنے کا نام ہے۔ بسم اللہ والے نے “ب” عطا کر کے اس “شر” کو بشر بنایا۔ یعنی انسان کا سفر پیچھے نہیں بلکہ آگے کی طرف ہے۔
یہاں سے “اشرف” کا “الف” ہٹا دیا جائے تو یہ “شرف” کی جانب سفر شروع کرتا ہے۔ مگر شرف حاصل کرنے کے لیے اسے “میم” کی ضرورت ہے۔ “میم” کی مدد سے ہی بشر، شرف سے مُشرف ہو سکتا ہے۔
جب “احد” میں “میم” شامل ہوا تو یہ “احمد” بن گیا۔ اب اس بشر کا سفر “احمد” کی “دال” سے شروع ہوتا ہے جو کہ دنیا ہے۔ “د” سے یہ “میم” تک پہنچے گا، یعنی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے “ح” سے متعارف کرائیں گے جو کہ حق ہے۔ اور حق کے بعد اسے “الف” پھر سے واضح دکھائی دے گا، جو کہ اللہ ہے۔
ا-ح-م-د → احمد
اسی طرح، “شر” کو “ب” کی طاقت دے کر بشر بنایا گیا، اور “الف” سے شرف دے کر اسے اشرف کا مقام دیا گیا۔
“ا ل م” میں آپ میم کے اس جانب کھڑے ہیں، نہ کہ الف کی طرف۔ جب تک آپ میم (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فیضیاب نہیں ہوں گے، لام (لا الہ الا اللہ) تک نہیں پہنچ سکتے۔ اور لام کی روشنی کے بعد ہی آپ کو الف (اللہ) کا مقام دکھائی دے گا۔
یہی ہے آپ کا سفرِ امتحان، جو صرف عشق کے بغیر ممکن نہیں۔ اس کے بعد جا کے انا الحق کی صدائیں ہر طرف گونجتی ہیں۔
> اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں۔
![]()

