فرانس ، شب عاشور کی مناسبت سے امامیہ نجف اشرف پیرس کے زیر انتظام و انصرام مجلس منعقد کی گئی۔ اعزا داروں کی بھر پور شرکت ۔
پیرس۔ فرانس(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ رپورٹ۔۔۔ منیر احمد ملک) شب عاشور کے موقع پر امامیہ نجف اشرف پیرس فرانس میں ایک تعزیتی مجلس کا اھتمام کیا گیا – یہ مجلس ذائقہ ریسٹورنٹ ولییر لا بیل میں منعقد کی گئی ـ اس مجلس کا انتظام اور لنگر کا اہتمام ذائقہ ریسٹورنٹ کے ڈائیریکٹر عمران میمن نے کیا تھا ـ؛۔ انجمن امامیہ اشرف فرانس کے صدر سید ذوالفقار کاظمی ـ نائب صدر ںسید موسیٰ کاظم جنرل سیکرٹری ملک تنویر الحسن کے علاؤہ چوھدری ضیغم عباس ـ نسیم افضل عباسی – میاں غلام عباس جعفری۔ راجہ قمر عباس۔ صدف اقبال ۔۔فدا حسین۔ شجاع چیمہ۔ اور ندیم نقوی نے عزاداروں کا استقبال کیا – عزاداروں کے لئے دودھ اور روح افزاء کی سبیلیں بھی لگی ھوئی تھیں -تلاوت قرآن پاک کے بعد راجہ قمر عباس نے ابتدائیہ پیش کیا – یورپ کے مشہور نعت خواں حافظ محمد معظم نے اپنی خوبصورت آواز میں سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام اور خانوادہ رسول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نذرانہ عقیدت پیش کیا اور حاضرین نے دل کھول کر داد دی۔ لکھنؤ انڈیا سے تشریف لائے ھوئے ذاکر اھل بیت۔ سید حبیب حیدر عابدی نے مجلس پڑھنا شروع کی۔ علامہ حیدر حبیب عابدی نے واقعہ کربلا کے محرکات اور امام حسین علیہ السلام کی شہادت پر تفصیلی روشنی ڈالی – ان کا کہنا تھا کہ واقعہ کربلا یکدم پیش آنے والا واقعہ نھیں ھے۔ اس پیچھے ایک پوری تاریخ موجود ھے۔ انہوں نے کہا کہ شیر خدا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خلافت کے فوری بعد وہ تمام عناصر مجتمع ھوئے اور انہوں نے خلافت راشدہ سے بغاوت کردی جو ساری زندگی اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم کے جانی دشمن تھے اور اھل بیت کے سخت ترین مخالفین میں ان کا شمار ھوتا تھا – اور انہوں نے دین محمد صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف ایک استحصالی نظام قائم کر رکھا تھا۔ اور انھیں اپنی ظالمانہ ملوکیت کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے اھل بیت کے لوگوں کی بیعت کی ضرورت تھی۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے اس ملوکیت کے مظالم اور دین میں ھونے والی تحاریف کو بہت عرصہ برداشت کیا۔ آخر کار انہوں نے کربلا کا سفر شروع کیا۔ اس میں ان کے اھل خانہ ـ بیوی بچے اور دیگر لوگ شامل تھے – ان کا کہنا تھا کہ کیا جنگ کرنے والے اس طرح معصوم بچوں کو ساتھ لیکر جاتے ھیں۔ آپ کوفہ تشریف لے جانا چاھئے تھے تاکہ وہاں بیٹھ کر وہ یزید کے ظالمانہ نظام کے خلاف جدوجھد کرسکیں۔ یزید کے لشکر جس کی قیادت ابن زیاد ملعون کررہا تھا نے آپ کو کربلا کے مقام پر محصور کردیا۔ ان کے لئے ہر قسم کی خورد و نوش۔ حتی کہ پانی تک بند کردیا -؛ یکم محرم الحرام سے لیکر یوم عاشورہ تک ظالم یزیدی فوج نے امام حسین علیہ السلام کے ایک ایک فرد کو چن چن کر قتل کردیا۔ معصوم علی اصغر۔ چھ ماہ کے بچے کو پانی مانگنے پر تیر چلا کر اسے بھی شہید کردیا – اٹھارہ سالہ جوان علی اکبر دشمنوں سے لڑتے لڑتے نیزے کے ایک وار سے شہید کردیا۔ بوڑھے حسین علیہ السلام کے جب تمام جوان مرد اور چھوٹے بچے تک شہید کر دیئے گئے تو پھر امام حسین علیہ السلام خود میدان میں اترے اور یزیدی لشکر کے ساتھ انتہائی بہادری سے لڑتے ہوئے شہادت کا وہ درجہ حاصل کرلیا۔ جس کی پیشگوئی سرور کائنات حضرت محمد صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپنی زندگی میں کردی تھی۔ بعد میں حضرت علی اکبر کا تابوت بھی نکالا گیا اور عزاداروں نے ماتم بھی کیا۔ حسینی لنگر کے ساتھ اس شب عاشور کا اختمام ھوا۔ رپورٹ منیر احمد ملک پیرس فرانس
![]()












