Daily Roshni News

1991 میں جب خلیج کی جنگ ہو رہی تھی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )1991 میں جب خلیج کی جنگ ہو رہی تھی، فرانسیسی فلسفی ژاں بودریار نے ایک حیران کن بات کہی۔

اس نے کہا یہ جنگ ہو ہی نہیں رہی۔

لوگ غصے میں آ گئے۔ کیسے نہیں ہو رہی؟ لوگ مر رہے ہیں۔ بم گر رہے ہیں۔ ٹینک چل رہے ہیں۔

لیکن بودریار کی بات کچھ اور تھی۔

وہ کہہ رہا تھا کہ جو چیز دنیا دیکھ رہی تھی، وہ جنگ نہیں تھی۔ وہ جنگ کی ایک simulation تھی۔ ایک ٹی وی شو۔ ایک ویڈیو گیم۔

امریکی میڈیا نے جنگ کو اس طرح دکھایا جیسے یہ ایک کھیل ہو۔ سبز رنگ کی اسکرین پر چمکتے ہوئے نشانے۔ صاف ستھری میزائلیں۔ کوئی خون نہیں۔ کوئی لاشیں نہیں۔ کوئی چیخیں نہیں۔

لاکھوں لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ کر یہ جنگ دیکھ رہے تھے۔ پاپ کارن کھاتے ہوئے۔ کولڈ ڈرنک پیتے ہوئے۔ جیسے کوئی فلم دیکھ رہے ہوں۔

اور بودریار نے کہا یہ ہے hyperreality۔

جب تصویر اصل سے زیادہ حقیقی بن جائے۔

جب نقشہ علاقے سے بڑا ہو جائے۔

جب simulation حقیقت کو نگل جائے۔

بودریار کون تھا اور کیا دیکھ رہا تھا

ژاں بودریار 1929 میں فرانس میں پیدا ہوا۔ وہ ایک سماجیات کا پروفیسر تھا لیکن اس کی سوچ فلسفے، نفسیات، اور ثقافتی تنقید میں گھس گئی۔

1981 میں اس نے ایک کتاب لکھی Simulacra and Simulation۔

اس کتاب میں اس نے ایک خوفناک بات کہی۔ اس نے کہا کہ جدید دنیا میں ہم حقیقت کے ساتھ نہیں رہ رہے۔ ہم حقیقت کی نقلوں کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ اور یہ نقلیں اتنی طاقتور ہو گئی ہیں کہ انہوں نے اصل کو مار دیا ہے۔

تصور کرو ایک نقشہ۔ پہلے نقشہ علاقے کی نمائندگی کرتا تھا۔ تم نقشے کو دیکھتے تھے اور سمجھتے تھے کہ اصل علاقہ کیسا ہے۔

لیکن اب؟

اب نقشہ اتنا تفصیلی ہو گیا ہے کہ وہ خود حقیقت بن گیا ہے۔ لوگ نقشے کو دیکھتے ہیں، اصل علاقے کو نہیں۔ لوگ Google Maps پر زندگی جیتے ہیں، سڑک پر نہیں۔

بودریار نے کہا یہ صرف نقشوں کی بات نہیں۔ یہ ہماری پوری زندگی کی بات ہے۔

بودریار نے کہا کہ simulacra یعنی نقل کی چار منزلیں ہیں۔

پہلی منزل: نقل اصل کی عکاسی کرتی ہے

ایک تصویر۔ ایک مجسمہ۔ یہ اصل چیز کی نمائندگی کرتے ہیں۔ تم ایک شخص کی تصویر دیکھتے ہو۔ تصویر اصل نہیں ہے لیکن وہ اصل کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہاں ابھی فرق واضح ہے۔ تم جانتے ہو کہ تصویر تصویر ہے اور شخص شخص ہے۔

دوسری منزل: نقل اصل کو بگاڑتی ہے

اب تصویر میں تبدیلی آتی ہے۔ فوٹوشاپ۔ فلٹرز۔ چہرے کو چھوٹا کیا۔ جلد کو صاف کیا۔ آنکھوں کو بڑا کیا۔ اب تصویر اصل کی نمائندگی نہیں کرتی۔ وہ ایک جھوٹ ہے۔ لیکن ابھی بھی اصل موجود ہے۔ تم جانتے ہو کہ یہ بدلا ہوا ہے۔

تیسری منزل: نقل اصل کی غیرموجودگی کو چھپاتی ہے

اب بات اور گہری ہو جاتی ہے۔ کچھ چیزیں ایسی بن جاتی ہیں جن کا کوئی اصل ہی نہیں تھا۔ مثال Disney World۔ یہ کسی حقیقی جگہ کی نقل نہیں۔ یہ ایک خیالی دنیا ہے جو حقیقی ہونے کا ڈرامہ کرتی ہے۔

یا سوچو Coca Cola کی مارکیٹنگ۔ وہ خوشی بیچتے ہیں۔ لیکن کیا خوشی کو بوتل میں بند کیا جا سکتا ہے؟ نہیں۔ لیکن تصویریں، اشتہار، لوگو یہ سب ایک احساس تخلیق کرتے ہیں جس کا کوئی حقیقی بنیاد نہیں۔

چوتھی منزل: خالص simulation جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں

یہ ہے hyperreality۔ اب نقل اور اصل میں کوئی فرق نہیں رہا۔ نقل نے اصل کو مار دیا ہے اور اس کی جگہ لے لی ہے۔ مثال سوشل میڈیا پر تمہاری زندگی۔ کیا وہ تمہاری اصل زندگی کی نمائندگی ہے؟ نہیں۔ وہ ایک carefully constructed simulation ہے۔

لیکن دھیرے دھیرے یہ simulation ہی تمہاری حقیقت بن جاتی ہے۔ تم وہ کرنے لگتے ہو جو اچھی تصویر بنے۔ تم وہاں جاتے ہو جو instagrammable ہو۔ تم وہ کھاتے ہو جو اچھا نظر آئے۔

تمہاری اصل زندگی simulation کی نقل بن جاتی ہے۔

بودریار نے Disneyland کو hyperreality کی سب سے کامل مثال کہا۔

Disneyland ایک جعلی دنیا ہے۔ وہاں جعلی محل ہیں۔ جعلی کردار ہیں۔ سب کچھ نقلی ہے۔ لیکن یہ اتنا صاف، اتنا منظم، اتنا خوبصورت ہے کہ یہ حقیقت سے بہتر لگتا ہے۔

لوگ Disneyland جاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ جادو ہے۔ یہ خواب ہے۔ یہ کامل ہے۔

لیکن بودریار نے کہا Disneyland کا اصل مقصد کچھ اور ہے۔

Disneyland اس لیے موجود ہے تاکہ ہم سوچیں کہ باہر کی دنیا حقیقی ہے۔ یہ ایک جھوٹ ہے کہ Disneyland جعلی ہے اور باقی امریکہ حقیقی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پورا امریکہ ہی Disneyland بن چکا ہے۔ ہر شہر، ہر مال، ہر suburb ایک carefully designed simulation ہے۔

لیکن Disneyland کو جعلی کہہ کر ہم اپنے آپ کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ باقی سب کچھ حقیقی ہے۔

ایک نفسیاتی مطالعہ: جب simulation بہتر لگے

1990 کی دہائی میں نفسیات کے ماہرین نے ایک دلچسپ تجربہ کیا۔

انہوں نے لوگوں کو دو قسم کے سیب دیے۔ ایک حقیقی باغ سے۔ دوسرا مصنوعی طور پر بنایا ہوا perfect looking plastic apple۔

پھر انہوں نے لوگوں سے پوچھا کون سا سیب زیادہ حقیقی لگتا ہے۔

حیرت کی بات۔ بہت سے لوگوں نے plastic apple کو زیادہ حقیقی کہا۔

کیوں؟

کیونکہ وہ perfect تھا۔ اس میں کوئی داغ نہیں تھا۔ رنگ یکساں تھا۔ سائز بالکل ٹھیک تھا۔

اصل سیب؟ وہ تھوڑا ٹیڑھا تھا۔ اس میں کچھ داغ تھے۔ رنگ یکساں نہیں تھا۔

لوگوں کو اصل سیب ناقص لگا۔

یہ ہے hyperreality کی طاقت۔

جب simulation اتنی کامل ہو جائے کہ حقیقت ناقص لگنے لگے۔

سوشل میڈیا: ہماری hyperreal زندگیاں

اب سب سے اہم مثال۔

سوشل میڈیا۔

تم انسٹاگرام پر جاتے ہو۔ تمہیں کیا نظر آتا ہے؟

کامل زندگیاں۔

خوبصورت لوگ۔ خوبصورت جگہیں۔ خوبصورت کھانا۔ ہر کوئی خوش نظر آتا ہے۔ ہر کسی کی زندگی دلچسپ لگتی ہے۔ ہر کوئی کامیاب نظر آتا ہے۔

لیکن یہ حقیقت نہیں ہے۔ یہ carefully curated simulation ہے۔

لوگ صرف وہ دکھاتے ہیں جو اچھا لگے۔ تصویر سے پہلے دس تصویریں لیتے ہیں۔ بہترین زاویہ تلاش کرتے ہیں۔ فلٹر لگاتے ہیں۔ caption سوچتے ہیں۔

کوئی اپنی روتی ہوئی تصویر نہیں لگاتا۔ کوئی اپنی ناکامی نہیں دکھاتا۔ کوئی اپنی بے ترتیب زندگی نہیں دکھاتا۔

تو جو چیز تم دیکھ رہے ہو وہ لوگوں کی زندگیاں نہیں ہیں۔ وہ لوگوں کی زندگیوں کی highlight reel ہے۔ ایک edited version۔ ایک simulation۔

لیکن دھیرے دھیرے یہ simulation تمہاری حقیقت بن جاتی ہے۔

تم اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں کی simulated زندگیوں سے کرتے ہو۔ اور تم محسوس کرتے ہو کہ تمہاری زندگی ناقص ہے۔

ڈپریشن بڑھتا ہے۔ بےچینی بڑھتی ہے۔ عدم اطمینان بڑھتا ہے۔

کیوں؟

کیونکہ تم حقیقت کا موازنہ hyperreality سے کر رہے ہو۔

اور hyperreality ہمیشہ بہتر نظر آتی ہے۔

2017 کا ایک تحقیق: Instagram اور ڈپریشن

2017 میں Royal Society for Public Health نے ایک تحقیق کی۔

انہوں نے 1500 نوجوانوں سے پوچھا کہ کون سا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ان کی ذہنی صحت کے لیے سب سے برا ہے۔

نتیجہ؟

Instagram۔

کیوں؟

کیونکہ Instagram سب سے زیادہ hyperreal ہے۔ یہ سب سے زیادہ curated ہے۔ یہ سب سے زیادہ perfect ہے۔

لوگ Instagram پر وقت گزارتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ ان کا جسم ناقص ہے، ان کی زندگی بورنگ ہے، ان کے تجربات کم ہیں۔

یہ ہے hyperreality کا سب سے خطرناک اثر۔

یہ تمہیں اپنی اصل زندگی سے نفرت کرنا سکھاتی ہے۔

خبریں: جب واقعات spectacle بن جائیں

اب بات کرتے ہیں خبروں کی۔

پہلے خبریں واقعات کی رپورٹ کرتی تھیں۔ کچھ ہوا، اخبار نے لکھا، لوگوں نے پڑھا۔

لیکن اب؟

اب خبریں خود واقعات بنتی ہیں۔

ٹی وی نیوز چینلز۔ 24 گھنٹے چلتے رہتے ہیں۔ ڈراماتی موسیقی۔ تیز آوازیں۔ بریکنگ نیوز کے banners۔ ہر چیز ایک spectacle ہے۔

سیاستدان یہ جانتے ہیں۔ تو وہ کیا کرتے ہیں؟ وہ spectacle پیدا کرتے ہیں۔ متنازع بیانات۔ ڈرامائی اعلانات۔ حیران کن tweets۔

کیوں؟

کیونکہ خبروں میں آنے کے لیے تمہیں spectacle بننا پڑتا ہے۔

اور پھر کیا ہوتا ہے؟

لوگ simulation کو حقیقت سمجھنے لگتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ جو ٹی وی پر ہے وہی اصل دنیا ہے۔

لیکن اصل دنیا بہت مختلف ہے۔ اصل دنیا میں زیادہ تر چیزیں سست، بورنگ، پیچیدہ ہیں۔ اصل دنیا میں spectacle نہیں ہے۔

لیکن لوگ اصل دنیا کو نہیں دیکھتے۔ وہ صرف simulation دیکھتے ہیں۔

Trump کی مثال: سیاست بطور Reality TV

Donald Trump کو دیکھو۔

وہ ایک reality TV star تھا۔ اس نے سیاست میں آنے سے پہلے The Apprentice نامی شو کیا تھا۔

جب وہ صدارتی انتخابات میں آیا تو اس نے سیاست کو reality TV کی طرح چلایا۔

ہر روز ایک نیا ڈرامہ۔ ہر روز ایک نیا tweet۔ ہر روز ایک نیا scandal۔

اور میڈیا؟ میڈیا نے ہر چیز کو cover کیا۔ کیونکہ یہ spectacle تھا۔ یہ entertaining تھا۔ لوگ دیکھتے تھے۔

لیکن یہ سیاست نہیں تھی۔ یہ simulation تھی۔ یہ ایک show تھا۔

اور بودریار کی بات سچ ہو گئی۔ simulation نے حقیقت کو نگل لیا۔

محبت: جب جذبات بھی simulate ہو جائیں

اب سب سے گہری بات۔

محبت۔

پہلے لوگ محبت کرتے تھے۔ وہ ایک دوسرے سے ملتے تھے، بات کرتے تھے، وقت گزارتے تھے، جذبات پیدا ہوتے تھے۔

لیکن اب؟

اب لوگ فلموں، ڈراموں، ناولوں سے محبت سیکھتے ہیں۔ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ محبت کیسی نظر آنی چاہیے۔ کیا کہنا چاہیے۔ کیسے propose کرنا چاہیے۔ کیسے date پر جانا چاہیے۔

تو وہ کیا کرتے ہیں؟

وہ محبت کی simulation کرتے ہیں۔

لڑکا پھول لاتا ہے کیونکہ فلموں میں ایسے ہوتا ہے۔ لڑکی shy ہوتی ہے کیونکہ ڈراموں میں ایسے ہوتا ہے۔ دونوں romantic restaurant میں جاتے ہیں کیونکہ یہ romantic لگتا ہے۔

لیکن یہ اصل جذبات نہیں ہیں۔ یہ سیکھے ہوئے، simulate کیے ہوئے جذبات ہیں۔

لوگ محبت نہیں کرتے۔ لوگ محبت کا role play کرتے ہیں۔

اور پھر جب اصل زندگی فلمی نہیں ہوتی، تو مایوسی ہوتی ہے۔

کیونکہ hyperreality نے expectations بنا دی ہیں جو حقیقت پوری نہیں کر سکتی۔

نفسیاتی اثرات: جب تم نہیں جانتے کہ تم کون ہو

بودریار کی سب سے خوفناک بات یہ تھی۔

Hyperreality میں رہنے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو کھو دیتے ہو۔

تم نہیں جانتے کہ تمہاری اصل خواہشات کیا ہیں۔ کیونکہ تمہاری خواہشات تمہیں بتائی گئی ہیں۔ اشتہارات نے، فلموں نے، سوشل میڈیا نے۔

تم نہیں جانتے کہ تمہاری اصل رائے کیا ہے۔ کیونکہ تمہاری رائے تمہیں دی گئی ہے۔ میڈیا نے، influencers نے، algorithms نے۔

تم نہیں جانتے کہ تم واقعی کیسے محسوس کر رہے ہو۔ کیونکہ تم نے سیکھ لیا ہے کہ کیسے محسوس کرنا socially acceptable ہے۔

تو پھر تم کون ہو؟

تم ایک collection of simulations ہو۔

تم ایک carefully constructed image ہو۔

لیکن اصل تم؟

وہ کہیں گم ہو گیا ہے۔

ایک مریض کی کہانی: جب simulation ٹوٹی

ایک نفسیاتی ماہر نے ایک کیس بیان کیا۔

ایک 28 سالہ لڑکی۔ اس کی Instagram پر 50,000 followers تھیں۔ وہ ایک influencer تھی۔

ہر دن اس کی perfect تصویریں۔ perfect lifestyle۔ perfect smile۔

لیکن ایک دن وہ breakdown ہو گئی۔ وہ ڈاکٹر کے پاس آئی اور رونے لگی۔

ڈاکٹر نے پوچھا کیا ہوا۔

اس نے کہا میں نہیں جانتی کہ میں کون ہوں۔ میں ہر وقت camera کے لیے جیتی ہوں۔ میں ہر وقت perfect ہونے کی کوشش کرتی ہوں۔ لیکن جب میں اکیلی ہوتی ہوں اور camera نہیں ہوتا تو میں خالی محسوس کرتی ہوں۔

ڈاکٹر نے پوچھا تمہیں کیا پسند ہے۔

اس نے سوچا۔ پھر رونے لگی۔ اس نے کہا میں نہیں جانتی۔

یہ ہے hyperreality کا سب سے تاریک اثر۔

تم اپنے آپ کو کھو دیتے ہو۔

کیا یہ ہمیشہ سے ایسا تھا؟

بودریار نے کہا نہیں۔

پہلے symbols اور حقیقت کے درمیان فرق تھا۔ لوگ جانتے تھے کہ نقشہ نقشہ ہے اور علاقہ علاقہ ہے۔

لیکن جدید technology کے ساتھ یہ فرق مٹ گیا ہے۔

ٹیلی ویژن نے یہ شروع کیا۔ پھر انٹرنیٹ نے اسے تیز کیا۔ پھر سوشل میڈیا نے اسے مکمل کر دیا۔

اب ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں simulation ہر جگہ ہے۔ اور حقیقت؟ حقیقت مر چکی ہے۔

یا بودریار کے الفاظ میں the desert of the real۔

اختتام: کیا ہم واپس جا سکتے ہیں؟

بودریار نے کوئی آسان حل نہیں دیا۔

وہ کہتا تھا کہ شاید ہم hyperreality سے نکل ہی نہیں سکتے۔ کیونکہ یہ اب ہماری حقیقت ہے۔

لیکن شاید پہلا قدم یہ ہے کہ ہم اسے پہچانیں۔ یہ سمجھیں کہ ہم simulation میں رہ رہے ہیں۔ یہ سمجھیں کہ جو چیزیں ہم دیکھ رہے ہیں وہ حقیقت نہیں ہیں۔

پھر چھوٹے چھوٹے قدم۔ کبھی کبھی فون بند کرنا۔ کبھی کبھی بغیر تصویر لیے کوئی تجربہ کرنا۔ کبھی کبھی اپنے اصل جذبات محسوس کرنا بغیر انہیں edit کیے۔

کبھی کبھی اپنے آپ سے پوچھنا یہ میری خواہش ہے یا مجھے یہ بتایا گیا ہے؟ یہ میری رائے ہے یا میں نے یہ کہیں سے لی ہے؟ یہ میرا تجربہ ہے یا میں نے یہ simulate کیا ہے؟

یہ آسان نہیں۔ کیونکہ hyperreality بہت طاقتور ہے۔ لیکن شاید یہی واحد راستہ ہے اپنے آپ کو دوبارہ ڈھونڈنے کا۔

پروفیسر اسامہ رضا

حوالہ جات

Baudrillard Jean. Simulacra and Simulation 1981

Baudrillard Jean. The Gulf War Did Not Take Place 1991

Royal Society for Public Health. Status of Mind: Social media and young peoples mental health 2017

Turkle Sherry. Alone Together: Why We Expect More from Technology and Less from Each Other 2011

Loading