Daily Roshni News

50 روز سے صومالی قزاقوں کی قید میں موجود پاکستانیوں کی رہائی؛ ‘معاملہ انتہائی پیچیدہ ہے’: دفترِ خارجہ

دفترِ خارجہ پاکستان کے ترجمان طاہر اندرابی نے ملک کی خارجہ پالیسی، خطے کی صورتحال اور بیرونِ ملک محصور پاکستانیوں کے حوالے سے اہم تفصیلات سے آگاہ کیا ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران صومالی قزاقوں کی جانب سے پاکستانی شہریوں کو یرغمال بنائے جانے کے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ نائب وزیراعظم نے اس سلسلے میں صومالیہ کے وزیر خارجہ سے باقاعدہ رابطہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صومالی وزیر خارجہ کی جانب سے پاکستان کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ اغوا کیے گئے شہریوں کی بحفاظت رہائی کے لیے ہر ممکن تعاون کریں گے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستانی شہری گزشتہ تقریباً پچاس روز سے قزاقوں کی قید میں موجود ہیں اور حکومتِ پاکستان اس وقت اس بحری جہاز کے مالک کے ساتھ بھی مسلسل اور قریبی رابطے میں ہے تاکہ اس مسئلے کو جلد حل کیا جا سکے۔ تاہم صورتحال انتہائی پیچیدہ ہونے کے باعث اب تک پیش رفت محدود رہی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ یرغمالیوں کی صورتحال نہایت حساس اور پیچیدہ ہے کیونکہ یہ علاقہ نیم خودمختار اور قبائلی ڈھانچے پر مشتمل ہے، جہاں مختلف فریقین کے درمیان معاملات مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت پاکستان اس مشکل صورتحال کے باوجود اپنے شہریوں کی حفاظت اور جلد رہائی کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔

ترجمان کے مطابق یرغمال پاکستانی شہری ایک کارگو جہاز پر موجود ہیں، جن کے ساتھ دیگر ممالک کے عملے کے ارکان بھی شامل ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دو روز قبل صومالی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں انہوں نے نہ صرف پاکستانی شہریوں بلکہ دیگر یرغمال افراد کی صورتحال بہتر بنانے پر بھی زور دیا۔ اس موقع پر پاکستان نے اس معاملے پر اپنی شدید تشویش سے آگاہ کیا اور فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

طاہر اندرابی کے مطابق اسلام آباد میں صومالی سفیر کو بھی طلب کر کے اس معاملے پر پاکستان کے تحفظات سے آگاہ کیا گیا، جبکہ وزارت خارجہ میں اس حوالے سے بین الوزارتی اجلاس بھی منعقد کیے گئے ہیں تاکہ ایک مربوط حکمت عملی کے تحت پیش رفت کو یقینی بنایا جا سکے۔

ترجمان طاہر اندرابی نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سنگین صورتحال پر بات کرتے ہوئے پاکستان کا موقف بھی واضح کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش ہے اور ہم تمام متعلقہ فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان خطے کے تمام مسائل کا پرامن اور سفارتی حل چاہتا ہے۔ اس تناظر میں ملکی قیادت متحرک ہے اور وزیر داخلہ نے اپنے حالیہ دورہ تہران کے دوران اہم ملاقاتیں کی ہیں، جبکہ نائب وزیراعظم نے ترک وزیر خارجہ کے ساتھ ٹیلیفون پر رابطہ کر کے خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔

ترجمان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ تمام فریقین کو جنگ بندی کی پاسداری کرنی چاہیے اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کو حل کرنے کی حمایت کرنی چاہیے۔

کشمیر کے دیرینہ مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے بھارت کے حالیہ دعووں اور بیانات کو یکسر مسترد کر دیا۔

طاہر اندرابی نے واضح الفاظ میں کہا کہ کشمیر سے متعلق بھارتی بیانات کی قانون کی نظر میں نہ تو کوئی وقعت ہے اور نہ ہی ان کا کوئی جواز بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ ایک متنازع خطہ ہے اور بھارت ایسے بیانات دے کر دراصل مقبوضہ کشمیر کی اصل صورتحال سے دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔

ترجمان نے عالمی برادری کو یاد دلایا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں کشمیریوں کے ساتھ حقِ خودارادیت کا جو وعدہ کیا گیا تھا، اسے پورا ہونا چاہیے اور کشمیر کا تنازع سلامتی کونسل کی انھی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہی حل ہونا چاہیے۔

Loading