Daily Roshni News

“تعلیم کو تربیت سے الگ کیوں کیا گیا ہے؟”

“تعلیم کو تربیت سے الگ کیوں کیا گیا ہے؟”

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )یہ سوال ہمارے معاشرتی زوال کی ایک بڑی وجہ کو بےنقاب کرتا ہے۔ مثالی یا ترقی یافتہ معاشروں میں تعلیم اور تربیت ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتیں — وہاں تعلیمی ادارے نہ صرف علم دیتے ہیں بلکہ بچوں کی کردار سازی (Character Building)، اخلاقی شعور، سماجی ذمہ داری، وقت کی پابندی، دیانت، اور صفائی جیسے اقدار بھی سکھاتے ہیں۔

تو ہمارے ہاں یہ فرق کیوں پیدا ہوا؟

یہ خلا چند بنیادی وجوہات کی بنیاد پر پیدا ہوا:

________________________________________

  1. استعماری نظامِ تعلیم کا تسلسل

برصغیر میں جب انگریزوں نے تعلیمی نظام وضع کیا تو اس کا مقصد ایک ایسا طبقہ پیدا کرنا تھا جو صرف نوکری کے قابل ہو — ایسا طبقہ جو حکم ماننے والا ہو، سوال نہ کرے، اور صرف دفتری کاموں کا ماہر ہو۔ اس نظام میں نہ تربیت کی جگہ تھی اور نہ شخصیت سازی کی۔ افسوس کہ ہم نے آزادی کے بعد بھی اسی نظام کو بغیر نظرثانی کے جاری رکھا۔

________________________________________

  1. والدین کا کردار اور تربیت کا تسلسل ٹوٹ جانا

پہلے گھروں میں بچوں کی تربیت نانی، دادی، والدین اور بزرگوں کی صحبت میں ہوتی تھی۔ وقت کے ساتھ جب معاشی دباؤ بڑھا، والدین مصروف ہو گئے، خاندانی نظام بکھر گیا، اور سوشل میڈیا نے بچوں کا وقت نگل لیا — تو تربیت کا ماحول ناپید ہوتا گیا۔

بدقسمتی سے، اس خراب تعلیمی اور تربیتی نظام کی وجہ سے جن بچوں کی نہ تعلیم مکمل تھی اور نہ تربیت، آج وہی بچے والدین بن چکے ہیں۔ جب ایک نسل خود تربیت یافتہ نہ ہو تو وہ آگے نئی نسل کی تربیت کیسے کرے گی؟

یوں یہ خلا وقت کے ساتھ نسل در نسل بڑھتا جا رہا ہے۔

________________________________________

  1. اساتذہ کی تربیت کا فقدان

اساتذہ کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں، لیکن آج بہت سے اساتذہ خود تربیت یافتہ نہیں۔ ان کے پاس نہ وقت ہوتا ہے، نہ وسائل، اور نہ ہی بعض اوقات جذبہ کہ وہ بچوں کی شخصی اور اخلاقی تربیت کریں۔ جب استاد خود کردار سازی سے خالی ہو، تو وہ صرف رٹّا لگوا سکتا ہے، راہ نہیں دکھا سکتا۔

________________________________________

  1. تعلیم کے مقاصد کی غلط ترجیحات

ہم نے تعلیم کو محض “اچھے نمبر” اور “اچھی نوکری” کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ تعلیم کی اصل روح — یعنی انسان سازی، سوچنے کی صلاحیت، فیصلہ سازی، اور سچائی کا شعور — کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔ جب مقصد صرف ڈگری ہو، تو تربیت غیرضروری معلوم ہونے لگتی ہے۔

________________________________________

ترقی یافتہ ممالک میں کیا ہوتا ہے؟

ان ممالک کے تعلیمی نصاب میں کردار سازی، سماجی رویّے، وقت کی پابندی، ٹیم ورک، اخلاقیات، اور کمیونٹی سروس جیسے عناصر لازمی شامل ہوتے ہیں۔

وہاں صرف IQ (ذہانت) نہیں بلکہ EQ (جذباتی ذہانت) پر بھی زور دیا جاتا ہے۔ بچے کو انسان بننے کی مشق دی جاتی ہے، محض روبوٹ نہیں بنایا جاتا۔

________________________________________

حل اور امید:

اگر ہم واقعی اس مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں، تو محض ظاہری اصلاحات کافی نہیں۔ ہمیں نظامِ تعلیم کو ازسرِ نو ترتیب دینا ہوگا — ایسا نصاب تشکیل دینا ہوگا جو نہ صرف علم دے، بلکہ تربیت بھی کرے۔

  • ہمیں تعلیم کے شعبے میں باصلاحیت، تربیت یافتہ، اور باکردار افراد کو لانا ہوگا۔

  • استاد کو عزت اور تربیت دونوں دینی ہوں گی۔

  • نصاب میں اخلاقیات، سماجی خدمت، اور عملی زندگی کی مہارتوں کو شامل کرنا ہوگا۔

اگر آج ہم اپنے تعلیمی نظام کی سمت درست کر لیں، تو آنے والی نسل — جو بیس سال بعد والدین اور اساتذہ بنے گی — نہ صرف تعلیم یافتہ ہو گی بلکہ تربیت یافتہ بھی ہوگی۔

تب جا کے ایک باکردار، باشعور، اور کامیاب معاشرہ تشکیل پائے گا۔

Loading