Daily Roshni News

مالکِ یومِ الدین۔۔۔ تحریر۔۔۔مقیتہ وسیم

مالکِ یومِ الدین
#مقیتہ وسیم

وہ فائل بند کرتے ہوئے ذرا ٹھٹکا۔
کمرے میں ائیرکنڈیشنر کی ٹھنڈک تھی، دیوار پر لگی گھڑی باقاعدہ چل رہی تھی اور میز پر رکھا نامیاتی قلم اب بھی اسی کی گرفت میں تھا
مگر دل میں ایک بےترتیب سی گرہ لگ گئی تھی۔
یہ اس دن کا آخری کیس تھا۔
ایک کمزور سا آدمی، جھکی نگاہیں، اور کپڑوں سے غربت کی خاموش چیخ۔
الزام معمولی تھا مگر نتیجہ اس کے لیے بھاری ہو سکتا تھا۔
وہ چاہتا تو فائل ایک خاص سمت موڑ سکتا تھا۔
قانون کے لفظ اس کے ہاتھ میں تھے،
اور اختیار… اختیار بھی۔

اسی لمحے عدالت کے باہر سے اذانِ عصر کی آواز آئی۔
موذن نے جب پڑھا:
مالکِ یومِ الدین
تو اس کا ہاتھ بے اختیار کانپ گیا۔
وہ چونکا۔
یہی تو وہ آیت ہے جو وہ ہر نماز میں پڑھتا ہے۔
مگر آج…
آج یہ الفاظ اس کے سامنے کھڑے ہو گئے تھے، سوال بن کر۔

یومِ دین
وہ دن جب کوئی فائل بند نہیں ہو گی،
کوئی قلم نہیں رکھا جائے گا،
اور کوئی دلیل کام نہیں آئے گی۔
وہ اپنے کرسی پر پیچھے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔
آنکھیں بند ہوئیں تو ایک منظر ابھرا:
ایک وسیع میدان،
خاموشی،
اور وہ خود
اکیلا، بغیر منصب، بغیر عہدے۔
وہ سوچنے لگا:
اگر آج میں نے طاقت کے ساتھ فیصلہ کیا
تو کل کون سا لفظ میرا وکیل بنے گا؟
اس نے آنکھیں کھولیں۔
سامنے وہی آدمی کھڑا تھا
امید اور خوف کے درمیان معلق۔
قلم کاغذ پر چلا،
فیصلہ لکھا گیا۔
نہ رعایت، نہ زیادتی
صرف انصاف۔
آدمی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
وہ کچھ کہہ نہ سکا، بس سر جھکا لیا۔
وہ کرسی سے اٹھا،
کھڑکی کے پاس جا کر آسمان کی طرف دیکھا۔
سورج ڈھل رہا تھا،
اور دل پر سے بوجھ اتر رہا تھا۔
اس نے آہستہ سے کہا:
“یا اللہ،
تو ہی مالکِ یومِ دین ہے۔
آج میں نے صرف تیرے دن کو یاد رکھا تھا۔”

گھر لوٹا تو معمول کے مطابق زندگی تھی
چائے، اخبار، خاموشی۔
مگر دل میں ایک نیا سکون تھا۔
اگلی صبح جب نماز میں اس کی زبان سے
مالکِ یومِ الدین
نکلا،
تو یہ محض ایک آیت نہ تھی
یہ ایک عہد تھا
کہ اختیار عارضی ہے،
اور حساب دائمی۔
انسان کو اندر سے سیدھا کر دیتا ہے.

#مقیتہ وسیم
#مالک_یوم_الدین
#روز_جزا
#جوابدہی
#انصاف
#اختیار_اور_حساب
#قرآنی_افسانہ
#روحانی_تحریر
#اسلامی_فکر
#ایمان
#حیات_کا_سبق
#FaithAndJustice
#Accountability
#IslamicReflection

Loading