**سورۃ الاعراف – حصہ اوّل**
*(ایک روحانی و کائناتی منظرنامہ)*
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )قرآن مجید کی ساتویں سورت “الاعراف” اپنے نام کی طرح ایک بلندی، ایک درمیانی مقام اور ایک ایسی سرحد کی بات کرتی ہے جو جنت اور دوزخ کے درمیان ہے۔
یہ سورت محض ماضی کے واقعات کا تذکرہ نہیں بلکہ یہ **انسانی شعور کے دو انتہاؤں** — نور اور ظلمت، ایمان اور انکار، جنت اور جہنم — کے بیچ میں واقع ایک باریک لکیر کی حقیقت کھولتی ہے۔
**ابتداءِ کائنات سے آغازِ شعور تک**
اللہ تعالیٰ نے جب عالمِ نور سے مٹی کے ایک پیکر کو پیدا کیا، تو وہ صرف جسم نہیں بلکہ ایک ایسا کوڈ تھا جو “نور” اور “نفس” دونوں کو لیے ہوئے تھا۔
یہی وہ لمحہ تھا جب **انسانی ڈی این اے** میں دو سگنل لکھ دیے گئے —
ایک **تسلیم و رضا کا نورانی کوڈ**،
اور دوسرا **تکبّر و خواہش کا خاکی کوڈ**۔
جب اللہ نے فرمایا:
“اِنِّي جَاعِلٌ فِي الْاَرْضِ خَلِيْفَةً”
تو دراصل یہ اعلان محض آدم کی تخلیق کا نہیں بلکہ **عقلِ نوری اور نفسِ سفلی** کے تصادم کا آغاز تھا۔
**آدم و ابلیس: پہلا روحانی تضاد**
ابلیس نے جب سجدہ سے انکار کیا تو وہ صرف اکڑ نہیں تھی، وہ ایک **میٹافزیکل بغاوت** تھی — نور کے خلاف اپنی خودی کی خودساختہ برتری کا اعلان۔
ابلیس کا یہ انکار دراصل **روحانی ڈی این اے میں پہلا وائرس** تھا —
وہ وائرس جس کا نام “انا” ہے۔
اور آدمؑ کا سجدہ قبول کرنا وہ لمحہ تھا جب **انسانی روح کا پہلا حفاظتی نظام** activate ہوا — “توبہ”۔
یہ دو کوڈ ہمیشہ سے انسان کے اندر ساتھ ساتھ چلتے آئے ہیں —
ایک **آدمی کو جنت کی طرف لے جاتا ہے**،
اور دوسرا **ابلیسی انکار کی دوزخ** میں دھکیل دیتا ہے۔
**الاعراف: وہ درمیانی حد**
“اعراف” عربی میں بلندی کو کہتے ہیں۔
یہ وہ مقام ہے جو جنت اور جہنم کے درمیان ہے —
جہاں وہ روحیں کھڑی ہوں گی جن کے اعمال نہ مکمل نیکی میں ڈھلے نہ مکمل شر میں۔
یہ دراصل **کائناتی توازن کی حد** ہے —
جہاں “نور” اور “ظلمت” کے ذرات ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں مگر چھو نہیں سکتے۔
یہی “اعراف” آج کی دنیا میں بھی ایک **نفسیاتی حقیقت** ہے —
جب انسان اپنے ایمان اور خواہش کے بیچ لٹکا ہوتا ہے۔
جب وہ “سچائی جانتا ہے مگر عمل نہیں کرتا”،
جب وہ “محبت محسوس کرتا ہے مگر نفرت کا بدلہ دیتا ہے”،
تب وہ اپنے اندر کے اعراف میں زندہ ہوتا ہے۔
**قومِ نوح، ہود، صالح اور شعیب: روحانی ارتقاء کی کڑیاں**
اللہ نے مختلف قوموں میں انبیاء بھیجے تاکہ انسان اپنے “اندر کے اعراف” سے نکلے۔
قومِ نوح کا قصہ purification ہے — flood of repentance.
قومِ ہود discipline کی دعوت تھی — arrogance کے خلاف balance.
قومِ صالح harmony of creation — توازنِ فطرت.
اور قومِ شعیب میں economic corruption کے خلاف ethics کا کوڈ۔
یہ تمام انبیاء دراصل **روحانی جینز** ہیں —
جو انسانیت کے جینیاتی کوڈ میں اللہ کی ہدایت inject کرتے گئے۔
اور جب یہ ہدایت mutate ہو جاتی ہے، تو قومیں مٹ جاتی ہیں —
جیسے corrupted DNA خود کو ختم کر دیتا ہے۔
**موسیٰ و فرعون: طاقت بمقابلہ ایمان**
الاعراف میں حضرت موسیٰؑ اور فرعون کی داستان صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں —
یہ **روح اور اقتدار** کی ازلی جنگ ہے۔
فرعون وہ شخص ہے جس نے divine signal کو مٹی کی طاقت سے دبانے کی کوشش کی۔
اور موسیٰؑ وہ کوڈ ہیں جو **حق کے DNA** کو دوبارہ restore کرتا ہے۔
“فَذَكِّرْهُمْ بِاَيَّامِ اللّٰهِ” (انہیں اللہ کے دن یاد دلاؤ)
یہ آیت گویا انسان کو remind کرتی ہے کہ کائنات کے ہر لمحے میں “حق” اور “باطل” کی کشمکش جاری ہے۔
**عصرِ حاضر میں الاعراف کی تمثیل**
آج کا انسان بھی “اعراف” میں ہے —
نہ مکمل مؤمن، نہ مکمل منکر۔
ایک طرف تیز رفتار ٹیکنالوجی، دوسری طرف خالی دل۔
ایک ہاتھ میں قرآن، دوسرے میں سکرین۔
ایک لمحہ ذکر کا، اگلا لمحہ غفلت کا۔
یہی وہ درمیانی دنیا ہے جہاں **روح ڈیجیٹل دوزخ** اور **نورانی جنت** کے درمیان معلق ہے۔
اعراف ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ **دوزخ سے بچاؤ صرف خوف سے نہیں، بلکہ شعور سے ہوتا ہے**۔
جہنم اُس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان **اپنی حقیقت بھول جاتا ہے** —
جب وہ علم رکھ کر بھی عمل نہیں کرتا،
جب وہ خوبصورتی دیکھ کر بھی شکر نہیں کرتا،
جب وہ آوازِ حق سن کر بھی خاموش رہتا ہے۔
**روحانی نجات کا راستہ**
اللہ فرماتا ہے:
“اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰۤئِفٌ مِّنَ الشَّيْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَا هُمْ مُّبْصِرُوْنَ”
(جو تقویٰ رکھتے ہیں جب شیطان انہیں چھوتا ہے تو وہ یاد کرتے ہیں، پھر وہ دیکھنے لگتے ہیں)
یہی وہ “یاد” ہے جو انسان کو اعراف سے اوپر اٹھاتی ہے —
توبہ، ذکر، عاجزی، شکر — یہ وہ staircases ہیں جو انسان کو **Hell-frequency** سے نکال کر **Heaven-frequency** پر لے جاتی ہیں۔
سورۃ الاعراف – حصہ دوم
انسان، آزمائش، اور ہدایت کا وعدہ
اللہ تعالیٰ نے جب آدمؑ کو زمین پر بھیجا تو اس کے ساتھ ایک وعدہ کیا: کہ ہدایت تم تک ضرور آئے گی۔ اگر تم میری ہدایت کی پیروی کرو گے تو نہ تم پر خوف ہوگا اور نہ غم۔ لیکن جو منہ موڑ لیں گے، وہ گمراہی اور محرومی کے اندھیروں میں گر جائیں گے۔ یہی وہ جملہ ہے جو سورۃ الاعراف کے پورے حصے میں بار بار اپنی صداقت ثابت کرتا ہے۔
انسان زمین پر بھیجا گیا، مگر اکیلا نہیں۔ اس کے اندر ایک روشنی، ایک فطری شعور رکھا گیا — جو خدا کی پہچان کی طرف لے جاتا ہے۔ اور اسی شعور کے خلاف ایک سایہ بھی رکھا گیا، جسے ہم “وسوسہ” کہتے ہیں۔ یہ وسوسہ دراصل ابلیس کی میراث ہے، وہی حسد جو اس نے آدمؑ سے کیا تھا، آج بھی انسان کے دل میں جھونک دیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی اصل بھول جائے۔
قوموں کا عروج و زوال – زمین کی گواہی
اللہ نے فرمایا کہ ہم نے تم سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کیا جو حق سے منہ موڑ گئیں۔ ان میں عاد، ثمود، اور مدین کی قومیں شامل ہیں۔ ان کی طاقت زمین کے پہاڑوں جیسی تھی، مگر جب غرور نے ان کے دلوں کو گھیر لیا تو وہ اپنی تباہی کا خود سامان بن گئے۔
قومِ عاد اپنی مضبوط عمارتوں اور طوفانی طاقت پر ناز کرتی تھی۔ ان کے پیغمبر، حضرت ہودؑ نے فرمایا:
“اے میری قوم! اللہ سے ڈرو، اور اس کی اطاعت کرو، وہی تمہیں بارشیں دے گا اور تمہاری طاقت کو اور بڑھا دے گا۔”
مگر ان کے کانوں میں غرور کی مہر لگ چکی تھی۔ وہ ہنستے اور کہتے: “کون ہے جو ہم سے زیادہ طاقتور ہے؟”
پھر آیا ایک آندھیوں کا طوفان — ایک چیخ، جس نے ان کے محلات کو ریت کے ذروں میں بدل دیا۔
قومِ ثمود کے پاس پتھروں کو تراش کر بنائے گئے محل تھے۔ وہ اپنے علم اور ہنر پر نازاں تھے۔ حضرت صالحؑ نے انہیں اونٹنی کی نشانی دی — مگر جب انہوں نے اس نشانی کو قتل کیا، تو زمین نے ان کے قدموں کے نیچے سے بغاوت کی۔ ایک زلزلہ آیا، اور ان کے وجود کا نام و نشان مٹ گیا۔
یہ قومیں مٹ گئیں، مگر ان کے نشان آج بھی زمین کے جغرافیے پر کندہ ہیں۔ گویا زمین خود ایک کتاب ہے، جس کے اوراق میں ہر سرکش قوم کی سزا کا باب محفوظ ہے۔
موسیٰؑ اور فرعون – علم و جبر کی جنگ
سورۃ الاعراف کا سب سے اہم قصہ حضرت موسیٰؑ اور فرعون کا ہے۔ یہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ یہ ہر دور میں *طاقت اور حق* کے درمیان ہونے والی کشمکش کی تمثیل ہے۔
فرعون نے کہا: “میں تمہارا ربِ اعلیٰ ہوں۔”
یہ جملہ آج بھی ہر ظالم کے لبوں سے سنائی دیتا ہے — خواہ وہ کسی نظام میں ہو، کسی ریاست میں، یا کسی ادارے میں جو اپنے آپ کو خدا سمجھ بیٹھا ہو۔
اللہ نے موسیٰؑ کو نشانیاں دیں — عصا، یدِ بیضاء، اور کلماتِ وحی۔ مگر فرعون نے انہیں جادوگر قرار دیا۔
یہی دنیا کی نفسیات ہے: جب سچ سامنے آتا ہے تو باطل اسے “جادو”، “فریب”، یا “سازش” قرار دے کر چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔
جب دربارِ فرعون میں مقابلہ ہوا، جادوگر آئے — وہ طنطنہ، وہ موسیقی، وہ فریبِ نظر — مگر جب موسیٰؑ نے اپنا عصا پھینکا تو وہ تمام فریبوں کو نگل گیا۔ یہ لمحہ محض ایک معجزہ نہیں تھا، بلکہ علمِ الٰہی اور علمِ انسانی کی سرحدوں کے درمیان پردہ ہٹنے کا لمحہ تھا۔
جادوگر سجدے میں گر گئے — کیونکہ انہوں نے “علم کی حقیقت” دیکھ لی تھی۔ انہوں نے پہچان لیا کہ *طاقت نہیں، بلکہ نورِ وحی ہی اصل علم ہے۔*
بنی اسرائیل اور وعدۂ کوہِ طور
جب موسیٰؑ اپنی قوم کو لے کر نکلے تو اللہ نے انہیں کوہِ طور پر بلایا۔ وہاں موسیٰؑ نے وہ کلمات سنے جو دنیا کی سب سے عظیم گفتگو کہلائی جا سکتی ہے — خالق اور مخلوق کی براہِ راست بات۔
مگر نیچے قوم نے بچھڑا بنا لیا۔
یہ واقعہ آج کے انسان کے لیے آئینہ ہے: جب تک وحی کی رہنمائی دل میں زندہ رہتی ہے، انسان آسمان کی طرف بڑھتا ہے؛ لیکن جیسے ہی دنیا کے سونے اور مٹی کے بت دوبارہ زندہ ہوتے ہیں، وہ دل زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔
حضرت موسیٰؑ نے جب واپس آ کر بچھڑے کو دیکھا تو وہ روئے، غصے میں الواح کو پھینک دیا۔ مگر پھر اللہ نے فرمایا:
“میں اپنی رحمت سے ہر چیز کو ڈھانپ لیتا ہوں۔”
یہ جملہ سورۃ الاعراف کا قلب ہے۔
اللہ کا عدل سخت ہے، مگر اس کی رحمت اس سے بھی وسیع۔
تورات، انجیل، اور قرآن کا رشتہ
سورۃ الاعراف میں ایک نہایت باریک اشارہ ہے — کہ اللہ نے حضرت موسیٰؑ کو کتاب دی تاکہ وہ اپنی قوم کے لیے نور بنے۔ یہ “کتاب” دراصل انسان کے ارتقائی شعور کی پہلی لکیر تھی، جو بعد میں انجیل اور پھر قرآن میں کامل ہوئی۔
قرآن کہتا ہے:
“اور ہم نے ان سب کو ایک ہی وحی کے ساتھ بھیجا، تاکہ انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لائیں۔”
یعنی وحی دراصل ایک مسلسل دریا ہے — کبھی تورات کے قالب میں بہتا ہے، کبھی انجیل میں، اور کبھی قرآن میں اپنی آخری شکل میں جلوہ گر ہوتا ہے۔
یہ تینوں کتب ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں، ایک دوسرے کی تکمیل۔
انسان اور شیطان – باطن کی جنگ
سورۃ الاعراف کا سب سے لطیف نکتہ انسان کے اندر جاری جنگ کو بیان کرتا ہے۔
یہ جنگ “نیکی اور بدی” کی نہیں بلکہ “یاد اور غفلت” کی جنگ ہے۔
شیطان انسان کو بھٹکاتا نہیں، بلکہ *بھلا دیتا ہے۔*
قرآن کہتا ہے:
“جب شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالا تو انہوں نے اپنے بدن کو دیکھا، اور شرم آ گئی۔”
یہ آیت بتاتی ہے کہ وسوسہ جسم سے نہیں، *شعور سے* شروع ہوتا ہے۔
شیطان سب سے پہلے انسان کی *ادراک کی سطح* کو بدل دیتا ہے — اسے اپنے مقصد سے ہٹا دیتا ہے۔
اسی لیے تصوف میں کہا جاتا ہے: “شیطان وہ نہیں جو تمہیں گناہ پر آمادہ کرے، بلکہ وہ جو تمہیں حقیقت سے غافل کرے۔”
نجات کا فلسفہ
سورۃ الاعراف کے آخری حصے میں وہی لوگ کامیاب ٹھہرتے ہیں جن کے دلوں میں *ذکر* زندہ رہا۔
اللہ فرماتا ہے:
“جن کے دل اللہ کے ذکر سے زندہ ہیں، وہی نجات پائیں گے۔”
یہ آیت آج کے دور میں بھی ویسی ہی زندہ ہے —
کیونکہ آج کا انسان بھی جدید فرعونوں، نئے بتوں، اور نفسیاتی وسوسوں میں گرفتار ہے۔
اللہ نے فرمایا:
“اور جب قرآن پڑھا جائے تو خاموش رہو اور غور کرو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔”
یہ خاموشی صرف زبان کی نہیں بلکہ *دل کی خاموشی* ہے۔
جب انسان کے اندر شور تھم جاتا ہے، تب ہی وحی کی صدا سنائی دیتی ہے۔
عصرِ حاضر میں اطلاق
اگر آج ہم سورۃ الاعراف کے پیغام کو سمجھ لیں تو ہمیں اپنی دنیا کی حقیقت کا پتہ چل جائے گا۔
ہمارے عہد کے فرعون دولت، طاقت، اور شہرت کے قالب میں زندہ ہیں۔
قومِ عاد کی طرح ہم ٹیکنالوجی پر ناز کرتے ہیں؛
قومِ ثمود کی طرح ہم اپنی عقل پر بھروسہ کرتے ہیں؛
اور بنی اسرائیل کی طرح ہم مادّی بتوں کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔
لیکن اللہ کا قانون آج بھی وہی ہے:
جب انسان زمین پر خدا بننے لگے تو زمین خود اس کے خلاف گواہ بن جاتی ہے۔
زلزلے، طوفان، بیماریاں، یہ سب یاد دہانیاں ہیں کہ زمین اب بھی اپنے ربّ کی اطاعت میں ہے — بس انسان بھول گیا ہے۔
اختتامیہ
سورۃ الاعراف ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ نجات کسی قوم، مذہب، یا نسل سے وابستہ نہیں بلکہ *عمل اور شعور* سے وابستہ ہے۔
جو یاد رکھے گا — وہ نجات پائے گا۔
جو بھول جائے گا — وہ گم ہو جائے گا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سے اگلا حصہ (Part 3) آغاز لیتا ہے:
انسانی شعور کی بیداری، جنت و دوزخ کی اصل حقیقت، اور باطن کی نجات۔
سورۃ الاعراف – حصہ سوم
’’باطن کی بیداری اور جدید دنیا میں وحی کی بازگشت‘‘
سورۃ الاعراف اپنے اختتامی ابواب میں محض قصے نہیں سناتی، بلکہ ایک ایسا آئینہ پیش کرتی ہے جس میں ہر انسان، ہر قوم، اور ہر دور اپنا چہرہ دیکھ سکتا ہے۔
یہ سورت اس لمحے کی بات کرتی ہے جب انسان اپنے خالق کو بھول کر خود کو خدا سمجھنے لگتا ہے۔
اور یہی وہ لمحہ ہے جس کے بعد زوال کا دروازہ کھلتا ہے — خواہ وہ عاد کی وادیوں میں ہو، یا نیویارک کی عمارتوں میں۔
انسان کا زوال — وہی پرانی کہانی، نئے لبادے میں
قرآن کہتا ہے:
“اور جب وہ زمین پر فساد کرتے ہیں تو کہتے ہیں، ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔”
یہ آیت آج کے انسان پر حرف بہ حرف صادق آتی ہے۔
ہم نے سائنس، ٹیکنالوجی، اور ترقی کے نام پر زمین کی جڑوں تک میں زہر گھول دیا ہے۔
ہم آسمان کو چھونے کی کوشش میں اپنی روح کو نیچے دفن کر بیٹھے ہیں۔
پرانے زمانے میں لوگ بتوں کو پوجتے تھے، آج کے انسان نے “ڈیٹا”، “پاور”، اور “خود اعتمادی” کو بت بنا لیا ہے۔
یہ بت اتنے ہی خطرناک ہیں کیونکہ یہ نظر نہیں آتے — یہ شعور کے اندر رہتے ہیں۔
اور سورۃ الاعراف ہمیں خبردار کرتی ہے کہ جب انسان اپنے شعور کے اندر کے خداؤں کو نہ پہچانے، تو وہ باہر کے خدا سے بھی کٹ جاتا ہے۔
جدید زمانے کا فرعون – Artificial Intelligence، معیشت، اور “خودی کا فریب”
اگر فرعون کے دور میں “طاقت” لاٹھی اور تخت تھی، تو آج کے دور کا فرعون **الگورتھم** اور **ڈیٹا** ہے۔
فرعون کہتا تھا: *”میں تمہارا رب الاعلیٰ ہوں۔”*
آج کا انسان بھی کہتا ہے: *”میں اپنی حقیقت خود لکھ سکتا ہوں۔”*
(مصنوعی ذہانت) AI کو دیکھو — یہ تخلیق کی نقل کر رہا ہے۔
انسان چاہتا ہے کہ وہ کائنات کے کوڈ کو سمجھ لے، مگر بھول گیا ہے کہ کوڈ لکھنے والا **اللہ** ہے۔
اور جب انسان تخلیق کو کنٹرول کرنے لگتا ہے، تو تخلیق اس پر ہنستی ہے — جیسے فرعون کے دریا نے اس پر ہنسا تھا۔
قرآن میں اللہ نے فرمایا:
“ہم ان کے دلوں اور آنکھوں پر پردے ڈال دیتے ہیں، کیونکہ انہوں نے حق کو جھٹلا دیا۔”
یہ پردہ آج کے انسان پر بھی گرا ہوا ہے — مگر یہ مٹی یا اندھیرے کا نہیں، بلکہ **ڈیجیٹل روشنی کا پردہ** ہے۔
جتنی روشنی بڑھ رہی ہے، اتنی بصیرت کم ہو رہی ہے۔
وحی اور شعور — انسانی دماغ کی “روحانی نیوروسائنس”
سورۃ الاعراف ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ وحی صرف الفاظ نہیں، بلکہ ایک **frequency** ہے — ایک روحانی ارتعاش جو دل کے neurons کو جگاتا ہے۔
جدید سائنس کہتی ہے کہ جب انسان meditation یا prayer میں ہوتا ہے، تو دماغ کے temporal lobes میں ایک خاص rhythm پیدا ہوتی ہے —
یہ وہ لمحہ ہے جب انسان خود سے بلند ہو کر کسی Higher Source سے جڑتا ہے۔
قرآن کہتا ہے:
“اور جب میرا ذکر کیا جائے تو دل سکون پاتے ہیں۔”
یہ سکون دراصل spiritual frequency کی alignment ہے —
دل، دماغ، اور روح کا ایک ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہونا۔
مگر آج کا انسان اس alignment سے کٹ گیا ہے۔
ہماری دعائیں mechanical ہو گئی ہیں، عبادت ritual بن گئی ہے، اور روح connection سے خالی۔
اسی لیے anxiety، depression، loneliness — یہ سب ایک ہی روحانی disconnect کی modern زبان ہے۔
باطن کا سفر — ’’عرفات‘‘ کا معنیٰ
“الاعراف” لفظ خود “عرفات” سے جڑا ہوا ہے — *پہچان*۔
یعنی وہ مقام جہاں انسان اپنے آپ کو پہچانتا ہے۔
جب تک انسان اپنے اندر کے باطل اور اپنی اصل فطرت کو پہچان نہ لے، وہ ایمان کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتا۔
حضرت علیؓ نے فرمایا:
“جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا، اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔”
یہی سورۃ الاعراف کی روح ہے —
خدا کی پہچان، اپنے شعور کے آئینے میں۔
آدم کی اولاد – جدید “جنت سے نکالے گئے لوگ”
جب آدمؑ جنت سے زمین پر آئے تو وہ محض ایک سزا نہیں تھی، بلکہ ایک تربیت تھی۔
آج بھی ہم زمین پر اسی تربیت کے عمل سے گزر رہے ہیں —
بس فرق یہ ہے کہ جنت اب “ڈیجیٹل” ہے،
اور شیطان اب “نیورل نیٹ ورک” کے پردے میں چھپا ہے۔
وہی وسوسہ جو کبھی درخت کے قریب لے گیا تھا،
آج انسان کو screens، desires، clicks، اور illusions کے قریب لے جا رہا ہے۔
اور شیطان اب کہتا ہے: “میں تمہیں ایک ایسی دنیا دکھاؤں گا جہاں تم ہمیشہ زندہ رہو گے۔”
یہی Virtual Reality ہے — immortality کا دھوکہ۔
قرآن کی روشنی میں حل اللہ نے قرآن میں فرمایا:
“جب وہ ظلم میں پڑ جائیں تو یاد کرو اللہ کو، پھر بخشش مانگو، اور صراط مستقیم پر لوٹ آؤ۔”
یہ آیت آج کی global civilization کے لیے ہے۔
دنیا climate crisis میں، social isolation میں، اور spiritual collapse میں ہے
اور حل وہی ہے: **واپسی الیٰ اللہ۔**
وحی ہمیں زمین کے اصول سکھاتی ہے:
عدل، اعتدال، اور رحمت۔
یہ تین اصول modern sustainability کے روحانی ستون ہیں۔
اگر انسان یہ سمجھ لے کہ زمین بھی اللہ کی نشانی ہے،
تو وہ نہ زمین کو نقصان پہنچائے گا،
نہ اپنے شعور کو۔
جدید دنیا میں سورۃ الاعراف کا اطلاق
-
**ماحولیاتی پہلو:**
قومِ عاد اور ثمود کا زوال ہمیں environmental arrogance سے بچنے کا سبق دیتا ہے۔ آج جب ہم زمین کے ecosystem کو برباد کر رہے ہیں، تو ہم دراصل وہی قومیں بن چکے ہیں۔
-
**روحانی پہلو:**
فرعون کا جملہ — “میں تمہارا رب ہوں” — آج کے materialism کی روح ہے۔
انسان نے خدا کی جگہ خود کو رکھ لیا ہے۔ سورۃ الاعراف کا پیغام ہے: انسان اپنی حدود پہچانے، کیونکہ علم جب تک خدا سے منسلک نہ ہو، زہر بن جاتا ہے۔
-
**نفسیاتی پہلو:**
قرآن کہتا ہے: “وسوسہ انسان کے سینے میں ڈالتا ہے۔”
آج یہ وسوسہ *advertisements، social media، trends* کی صورت میں دل میں اترتا ہے۔ہر scroll، ہر notification، ایک وسوسے کا نیا روپ ہے۔
-
**اخلاقی پہلو:**
موسیٰؑ اور فرعون کا قصہ صرف تاریخ نہیں —
یہ power ethics کا دائمی فلسفہ ہے۔
جس کے پاس طاقت آئے، وہ اپنے اندر کے فرعون کو پہچانے۔
-
**ڈیجیٹل پہلو:**
قومِ بنی اسرائیل نے جب بچھڑا بنایا تو وہ محض ایک پتھر نہیں تھا،
وہ “تخلیق کی نقل” کا پہلا قدم تھا۔
آج انسان پھر وہی کر رہا ہے — **synthetic life، AI، digital clones**۔
مگر قرآن یاد دلاتا ہے: تخلیق کا حق صرف اللہ کو ہے۔
آخر الزمان کا منظر — ’’اعراف‘‘ پر کھڑے لوگ
قرآن میں ایک عجیب منظر بیان ہوا ہے:
“اور اعراف پر کچھ لوگ ہوں گے جو جنتیوں اور دوزخیوں کو پہچان لیں گے۔”
یہ “اعراف کے لوگ” وہ ہیں جو دنیا میں حق کے قریب بھی رہے، مگر فیصلہ ان کے اعمال پر مؤخر ہوا۔
یہ منظر دراصل انسان کے **اخلاقی limbo** کو ظاہر کرتا ہے —
جہاں انسان اپنے اعمال کی کیفیت میں معلق ہے۔
آج بھی دنیا اعراف پر کھڑی ہے —
نہ مکمل ایمان، نہ مکمل کفر۔
نہ مکمل روحانیت، نہ مکمل مادیت۔
یہی وقت ہے فیصلہ کرنے کا۔
انجامِ کلام
سورۃ الاعراف کا پیغام یہ ہے کہ انسان کی اصل عظمت اس کے **شعور** میں ہے، نہ کہ اس کی طاقت میں۔
جو اپنے شعور کو رب کی طرف متوجہ کرے گا،
وہ دنیا میں امن پائے گا اور آخرت میں نجات۔
جو اپنے شعور کو خود پر ناز کے لیے استعمال کرے گا،
وہ اپنے ہی علم میں جل کر راکھ ہو جائے گا۔
“اے انسان! اپنے رب کے وعدے سچے ہیں،
شیطان کی پیروی نہ کرنا کہ وہ تمہیں جنت سے پھر نکال نہ دے۔”
یہ آیت آج بھی کانوں میں گونجتی ہے —
ڈیجیٹل شور کے بیچ،
روحانی خاموشی میں۔
**روح کا ڈی این اے: سورۃ الاعراف کا باطنی کوڈ**
**1. الٰہی خاکہ: قرآنِ مجید بطورِ کوڈ آف کری ایشن**
قرآنِ مجید خود کو “کِتابٌ مُبین” کہتا ہے — ایک روشن اور واضح کتاب۔
یہ الفاظ دراصل انسان کی داخلی ساخت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
یعنی قرآن صرف ہدایت نہیں، بلکہ **روحانی جینوم** ہے —
ایک باطنی نقشہ، جس کے ہر حرف میں خالق نے انسانی شعور کی ترکیب رکھی ہے۔
“وَكُلُّ شَيْءٍ فَصَّلْنَاهُ تَفْصِيلًا” (الاعراف: 52)
“اور ہم نے ہر چیز کو تفصیل سے بیان کر دیا۔”
یعنی انسان کے وجود کی ہر پرت میں قرآن کا ایک جز موجود ہے۔
جس طرح حیاتیاتی ڈی این اے جسم کی تعمیر کرتا ہے،
اسی طرح **قرآنی آیات روح کے اخلاقی و شعوری خلیے** بناتی ہیں۔
**2. روشنی اور سایہ: روح کے دو ریشے**
انسانی روح کا ڈھانچہ بھی دو لہروں پر قائم ہے —
ایک نور کی لہر، دوسری ظلمت کی۔
یہی سورۃ الاعراف کا بنیادی موضوع ہے:
“توازن بین النور والظلمت” — روشنی اور سایہ کے درمیان کشمکش۔
| نورانی ریشہ | تاریک ریشہ |
| ———– | ———- |
| تقویٰ | غفلت |
| صبر | غضب |
| شکر | کفر |
| رحمت | ظلم |
| توکل | تکبر |
یہ دو متضاد قوتیں انسان کے اندر ہمہ وقت فعال رہتی ہیں۔
روح کبھی نور کے قریب ہوتی ہے، کبھی سایہ کے۔
یہی کیفیت جدید طبیعیات میں **سپرپوزیشن (superposition)** کہلاتی ہے —
روح ایک وقت میں دو امکانات رکھتی ہے،
یہاں تک کہ کوئی اخلاقی فیصلہ اس کی حالت کو “منجمد” کر دے۔
**3. تورات، انجیل اور قرآن — ایک ہی روحانی جینوم**
تورات میں آیا:
“اور خدا نے انسان کے نتھنوں میں اپنی روح پھونکی۔” *(پیدائش 2:7)*
انجیل میں بھی یہی تصور موجود ہے: “روحِ خدا انسان میں داخل ہوئی۔”
قرآن نے اس راز کو مکمل کر دیا:
“ثُمَّ سَوَّاهُ وَنَفَخَ فِيهِ مِنْ رُوحِهِ” (السجدہ: 9)
“پھر اسے درست کیا اور اپنی روح میں سے اس میں پھونک دیا۔”
یعنی ہر انسان کے اندر **الٰہی سانس** بطورِ خفیہ کوڈ موجود ہے۔
یہی کوڈ سورۃ الاعراف میں “اعراف” کے مقام پر آزمودہ ہوتا ہے —
کہ آیا انسان کا نظامِ نور فعال ہے یا نظامِ ظلمت۔
**4. روح کی تدوین: قرآن بطورِ باطنی ایڈیٹر**
جب قرآن دل میں اترتا ہے،
تو وہ ایک **روحانی تدوین (editing)** کا عمل شروع کر دیتا ہے۔
یہ ایسے ہے جیسے کوئی زندہ کتاب انسان کے اندر کوڈ درست کر رہی ہو۔
* ذکر = کوڈ کی تازگی
* استغفار = خامی کی اصلاح
* صلاۃ = شعور کی ترتیب نو
* توبہ = روح کا نیا پروگرام
یعنی قرآن انسان کے اندر سے
**اخلاقی وائرس** مٹاتا ہے اور **نورانی کوڈ** دوبارہ لکھتا ہے۔
یہ عمل ہر انسان میں الگ رفتار سے ہوتا ہے،
کیونکہ ہر دل کا ماحول، ہر نیت کا درجہ مختلف ہوتا ہے۔
**5. فرشتے بطورِ توانائی کے مدیر (Energy Editors)**
سورۃ الاعراف میں جہاں کہیں فرشتوں کا ذکر ہے،
وہ دراصل کائنات کے **نورانی منتظمین** ہیں۔
* جبرائیلؑ = وحی کی فریکوئنسی
* میکائیلؑ = رزق کی فریکوئنسی
* اسرافیلؑ = صوت کی فریکوئنسی
* عزرائیلؑ = تبدیلی کی فریکوئنسی
یہ فرشتے انسان کے **اعمال کی لہروں** کو ریکارڈ کرتے ہیں۔
ہر نیت اور ہر عمل کا ایک **توانائی نقش (Energy Imprint)** بنتا ہے،
جو لوحِ محفوظ پر محفوظ ہو جاتا ہے۔
یوں فرشتے خالق کے **نورانی انجینئر** ہیں،
جو کائنات کے ڈیٹا کو مسلسل متوازن رکھتے ہیں۔
**6. اعراف — ایک برزخی دیوار یا توانائی کی حد؟**
اعراف کوئی مادی پہاڑ نہیں،
یہ ایک **فریکوئنسی زون** ہے —
جہاں روح روشنی اور اندھیرے کے درمیان معلق رہتی ہے۔
یہاں روح کا توازن پرکھا جاتا ہے:
کون سا کوڈ غالب ہے — نور یا ظلمت؟
یہی مقام روحانی **فائر وال (Firewall)** ہے،
جہاں روح کی توانائی کو پاک کیا جاتا ہے۔
یہ کیفیت ایک *برزخ قبل از برزخ* کی مانند ہے،
ایک درمیانی دنیا — احساس اور فیصلہ کے درمیان۔
**7. جنت و دوزخ — دو ارتعاشی حالتیں**
قرآن کے مطابق جنت اور دوزخ صرف جگہیں نہیں،
بلکہ **روح کی دو حالتیں** ہیں۔
* جنت = نورانی ہم آہنگی
* دوزخ = داخلی انتشار
“نار” یعنی آگ دراصل *کم ارتعاشی توانائی (low vibration)* ہے،
جبکہ “نور” یعنی روشنی *بلند ارتعاشی توانائی (high vibration)*۔
یوں جنت وہ مقام ہے جہاں روح
اللہ کے حکم سے ہم آہنگ ہو جاتی ہے،
اور دوزخ وہ جہاں وہ اپنے نفس میں الجھ جاتی ہے۔
**8. جدید انسان کا اعراف — ڈیجیٹل آزمائش**
آج کا انسان بھی ایک نئے “اعراف” میں جی رہا ہے:
* اس کے فیصلے الگورتھم بناتے ہیں،
* اس کی خواہشات ڈیجیٹل لہروں میں بند ہیں،
* اس کی شناخت مصنوعی ذہانت (AI) کے آئینے میں بٹی ہوئی ہے۔
قرآن آج بھی وہی “فائر وال” ہے
جو انسان کو ڈیجیٹل گمراہی سے بچاتا ہے۔
آج اگر کوئی قرآن کے ساتھ جڑ جائے تو:
* تلاوت = ڈیٹا کی صفائی
* غور و فکر = کوڈ کی بہتری
* صدقہ = توانائی کی تقسیم
* معافی = روح کا ری سیٹ
یہی جدید زمانے کا “اعرافی تزکیہ” ہے۔
**9. روح کی بحالی: الٰہی مین فریم سے دوبارہ رابطہ**
انسانی روح ہمیشہ **خالق کے مین فریم** سے جڑی ہوتی ہے۔
جب گناہوں کی فریکوئنسی زیادہ ہو جاتی ہے،
تو یہ رابطہ کمزور پڑ جاتا ہے۔
توبہ، دعا، اور ذکر وہ تین **ری کنکشن پوائنٹس** ہیں،
جو اس divine link کو بحال کر دیتے ہیں۔
قرآن نے اسی کو فرمایا:
“وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ” (البقرہ: 186)
“اور جب میرے بندے تجھ سے میرے بارے میں پوچھیں تو میں قریب ہوں۔”
یعنی رابطہ کبھی منقطع نہیں ہوتا،
بس انسان کا *دل کا سگنل* کمزور ہو جاتا ہے۔
**10. انجام: روحانی ڈی این اے کا ارتقاء**
سورۃ الاعراف ہمیں یہ سکھاتی ہے
کہ انسان دراصل ایک **چلتا پھرتا قرآن** ہے —
اس کے اعمال آیات ہیں،
اس کے خیالات وحی کی بازگشت،
اور اس کے فیصلے قیامت کی تمہید۔
جب وہ اپنی اندرونی کتاب کو پہچان لیتا ہے،
تو وہ خود “اعراف” سے گزر کر
**جنت کی فریکوئنسی** میں داخل ہو جاتا ہے۔
![]()

