**حضرت شعیبؑ: عدل، تول اور کائناتی توازن کی وحی**
**حصہ اوّل: مدین کی تہذیب — خوشحالی سے تباہی تک**
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )مدین… وہ سرزمین جو آج کے شمالی حجاز اور جنوبی شام کے درمیان واقع تھی، کبھی تجارت، فراوانی اور مادی آسائشوں کا مرکز سمجھی جاتی تھی۔ یہاں کے لوگ دولت مند، ذہین اور صنعت و حرفت میں ماہر تھے۔ ان کے بازاروں میں سونا چمکتا تھا، عطر کی خوشبو مہکتی تھی، اور قافلے روز و شب آتے جاتے تھے۔ مگر اس مادی چمک کے پیچھے ایک اندھیرا پھیل رہا تھا — ظلم، ناپ تول میں کمی، اور اخلاقی زوال۔
قرآنِ کریم ان کے حالات کو یوں بیان کرتا ہے:
**”وَإِلَىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا ۚ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُ ۖ وَلَا تَنقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ”**(سورۃ الاعراف 85)
یعنی: “اور ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا، انہوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، اور ناپ تول میں کمی نہ کرو۔”
یہاں سے شعیبؑ کا پیغام شروع ہوتا ہے — ایک ایسا پیغام جو صرف تجارت تک محدود نہیں بلکہ **کائنات کے توازن (Balance of the Universe)** سے جڑا ہوا ہے۔ کیونکہ ناپ تول میں بگاڑ صرف بازاروں میں نہیں ہوتا، یہ انسان کے **ضمیر، علم، طاقت اور تعلقات** میں بھی سرایت کر جاتا ہے۔
قومِ مدین کا زوال اس وقت شروع ہوا جب مادی ترقی نے ان کے اندر انصاف کا شعور ختم کر دیا۔
تجارت عبادت بننے کے بجائے **حرص** کا ذریعہ بن گئی۔
ناپ تول کے پیمانے صرف ترازو تک محدود نہ رہے، بلکہ **اخلاق، سچائی اور انصاف** کے ترازو بھی بگڑ گئے۔
تورات میں بھی مدین کا ذکر آتا ہے — *Book of Numbers* (31:1–12) میں بیان ہے کہ بنی اسرائیل نے بعد میں مدینیوں پر حملہ کیا کیونکہ ان کی قوم نے اخلاقی فساد پھیلایا تھا۔ یہ تاریخی تسلسل قرآن کے بیان سے مکمل ہم آہنگ ہے کہ جب قومیں **ناانصافی، بدعنوانی، اور روحانی بے حسی** میں مبتلا ہو جاتی ہیں، تو اللہ کا قانونِ عدل حرکت میں آتا ہے۔
انجیل میں حضرت عیسیٰؑ نے بعد میں اسی اصول کی تکرار کی —
“تم ناپ تول کے پیمانوں میں عدل کرو، کیونکہ جس پیمانے سے تم ناپو گے، اسی سے تمہارے لیے ناپا جائے گا۔”(انجیلِ متی 7:2)
یہی شعیبی فلسفہ ہے — *کائناتی عدل کا پیمانہ۔*
**حصہ دوم: شعیبؑ — خطیب الانبیاء اور عقلِ معاش کی وحی**
حضرت شعیبؑ کو انبیاء میں “خطیب الانبیاء” کہا گیا ہے۔ ان کا کلام نرم، مدلل اور عقل و فہم سے لبریز تھا۔ ان کا پیغام جذباتی نعرہ نہیں بلکہ **معاشی عقل و روحانی بصیرت** کا امتزاج تھا۔ وہ جانتے تھے کہ **عدل** کا تصور محض عدالتوں میں نہیں بلکہ **توانائی، فطرت اور انسانی باہمی توازن** میں پوشیدہ ہے۔
سائنس آج کہتی ہے کہ **کائنات کا بقا توازن (Equilibrium)** پر منحصر ہے۔ اگر مادّہ یا توانائی میں معمولی عدم توازن ہو جائے تو کہکشائیں بکھر جائیں۔
اسی طرح اگر **انسانی معاشرہ** انصاف، دیانت اور توازن سے محروم ہو جائے، تو وہ اندر سے ٹوٹنے لگتا ہے — چاہے عمارتیں بلند ہوں، یا ڈیجیٹل معیشتیں ترقی کر جائیں۔
شعیبؑ نے اپنی قوم کو یہی سمجھایا کہ:
“جس نے تول میں کمی کی، اس نے زمین کے توازن میں خلل ڈالا۔”
یہ جملہ صرف تجارت کا نہیں بلکہ ایک **کائناتی اصول** ہے۔
آج کے سائنسدان **Thermodynamic balance** کی بات کرتے ہیں، قرآن اسی کو **میزان** کہتا ہے:
“وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ، أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ” (الرحمن 7–8)
“اور آسمان کو بلند کیا اور میزان (توازن) رکھا تاکہ تم توازن میں زیادتی نہ کرو۔”
یعنی شعیبؑ کی تعلیم صرف ناپ تول نہیں بلکہ **توانائی، اخلاق اور روح** کے نظام کو متوازن رکھنے کا حکم تھی۔
یہی وہ توازن ہے جو انسان اور فطرت کے درمیان رشتہ قائم رکھتا ہے — وہی *Eco-spiritual law* جسے آج سائنسدان “Sustainability” کہتے ہیں۔
**حصہ سوم: حضرت شعیبؑ کے معجزات — عدل کی آواز اور زمین کا ارتعاش**
حضرت شعیبؑ کی دعوت اس وقت دی گئی جب قومِ مدین ظاہری ترقی کے نشے میں گم تھی۔ ان کے بازار مال و زر سے بھرے تھے، لیکن دل محرومیوں سے خالی تھے۔ شعیبؑ نے جب انہیں صداقت، دیانت اور انصاف کی طرف بلایا تو اُن کے سرداروں نے کہا:
**”اے شعیب! کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم اپنے مال میں اپنی مرضی سے تصرف نہ کریں؟”**(سورۃ ہود 87)
یہ جملہ اُس روحانی جمود کی علامت ہے جس میں انسان **عبادت کو ذاتی مفاد کے خلاف سمجھنے لگتا ہے۔**
ان کے نزدیک مذہب صرف مسجدوں اور عبادت گاہوں تک محدود تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ اللہ کا حکم کاروبار کے ترازو میں دخل انداز نہیں ہو سکتا۔ مگر شعیبؑ نے بتایا کہ **عدل و دیانت کوئی مذہبی رسم نہیں بلکہ کائناتی اصول ہے۔**
جب قوم نے مسلسل انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر **عذابِ صَیحَہ** نازل کیا — ایک زبردست دھماکہ، ایک صاعقہ، جس نے ان کے وجود کو زمین میں دھنسا دیا۔
قرآن کہتا ہے:
**”فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ”**(سورۃ الاعراف 91)
“پھر انہیں ایک زلزلے نے پکڑ لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔”
یہ واقعہ صرف ایک تاریخی سزا نہیں تھی بلکہ **توانائیاتی حقیقت** بھی تھی۔
آج سائنس بتاتی ہے کہ **زمین کی ساختی توازن (Geological Equilibrium)** اُس وقت بگڑتا ہے جب کسی خطے میں مسلسل ارتعاشِ توانائی (Energy imbalance) پیدا ہو۔
جب انسانی عمل بدعنوانی، لالچ اور ظلم پر مبنی ہو تو زمین کا **مقناطیسی و صوتی توازن** بھی متاثر ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن میں “زلزلہ” صرف ایک فزیکل مظہر نہیں بلکہ **روحانی ارتعاش کا نتیجہ** سمجھا گیا ہے۔
یہی وہ لمحہ تھا جب شعیبؑ کی صدائے عدل نے کائنات کی خاموش فطرت کو جگا دیا — جیسے زمین خود گواہی دے رہی ہو کہ ظلم کا بوجھ اب مزید نہیں اٹھایا جا سکتا۔
یہ معجزہ دراصل ایک **اخلاقی کمپن (Moral Vibration)** تھا، جو فطرت کے توازن سے ہم آہنگ ہو گیا۔
**تورات اور بائبل کی مطابقت**
تورات (Book of Deuteronomy 25:13–16) میں اللہ فرماتا ہے:
“تمہارے تھیلے میں دو طرح کے ترازو نہ ہوں، ایک بھاری اور ایک ہلکا۔ تمہارے پاس مکمل اور درست تول ہونا چاہیے، تاکہ تمہاری عمر زمین پر دراز ہو۔”
یہی وہ اصول ہے جو حضرت شعیبؑ کے پیغام کے ہم معنی ہے۔
بائبل میں بھی یہی تصور “Divine Justice” کے نام سے موجود ہے، جہاں ناانصافی کو “روحانی زلزلہ” کہا گیا ہے — یعنی جب انسان جھوٹ اور دھوکے میں لپٹ جائے تو **زمین کا ضمیر** بیدار ہو جاتا ہے۔
یہ ایک **مابعد الطبیعی (metaphysical)** تعلق ہے: انسانی اعمال اور کائناتی قوانین کا باہمی ربط۔
**حصہ چہارم: شعیبی فلسفہ اور جدید معیشت کا بحران**
آج کی دنیا میں اگر ہم غور کریں تو مدین کی داستان دوبارہ زندہ نظر آتی ہے۔
بس فرق یہ ہے کہ آج ناپ تول کے ترازو **ڈیجیٹل سرورز** میں چھپے ہیں — *Artificial Intelligence*, *Stock Markets*, *Cryptocurrency Exchanges*, اور *Algorithmic Trading Systems*۔
یہ سب نظام بظاہر ترقی یافتہ ہیں، مگر ان کے اندر بھی وہی **انصاف کا فقدان** ہے جو قومِ مدین کو لے ڈوبا تھا۔
جب کسی نظام میں دولت کی گردش صرف طاقتوروں کے ہاتھ میں محدود ہو جائے، جب ڈیجیٹل ڈیٹا کو سچائی سے زیادہ منافع کی بنیاد پر موڑا جائے، جب “rating” اور “review” سچ کے بجائے پیسے سے خریدے جائیں — تو دراصل یہ بھی **ناپ تول میں کمی** ہے، صرف شکل بدل گئی ہے۔
قرآن نے فرمایا:
**”وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ، الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ، وَإِذَا كَالُوهُمْ أَو وَّزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ”**
(سورۃ المطففین 1–3)
“تباہی ہے ان کے لیے جو ناپ تول میں کمی کرتے ہیں، جب اپنے لیے لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں، مگر جب دوسروں کو دیتے ہیں تو کم دے دیتے ہیں۔”
یہ آیت صرف بازاروں کے لیے نہیں بلکہ آج کے **ڈیجیٹل معاشرے** کے لیے بھی ہے، جہاں ہر فرد اپنے مفاد کے مطابق “ڈیٹا” ناپتا ہے۔
سوشل میڈیا کے لائکس، خبری تجزیے، حتیٰ کہ اخلاقیات بھی آج **ڈجیٹل ترازو** میں بگڑ چکے ہیں۔
حضرت شعیبؑ کا پیغام یہاں بھی زندہ ہے —
اگر انسان علم، طاقت اور دولت میں انصاف قائم نہ کرے، تو کائنات کا توازن بگڑ جاتا ہے۔
یہی وہ قانون ہے جسے قرآن میں “میزان” کہا گیا، بائبل میں “Divine Scale” اور سائنس میں “Entropy Balance”۔
**روحانی علمِ معیشت — باطنی تول**
شعیبؑ کے فلسفے کا ایک پوشیدہ پہلو یہ ہے کہ “تول” صرف اشیاء کا نہیں بلکہ **نیتوں کا بھی ہوتا ہے۔**
ہر انسان کا عمل ایک **توانائیاتی signature** رکھتا ہے، جو کائنات میں vibration کی صورت میں محفوظ ہوتا ہے۔
جدید سائنس بھی یہ کہتی ہے کہ کوئی توانائی فنا نہیں ہوتی — “Energy cannot be destroyed, only transformed.”
اسی اصول کو قرآن بیان کرتا ہے:
**”فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ، وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ”**(الزلزال 7–8)
یعنی “جو ذرہ برابر بھی نیکی کرے گا، وہ دیکھے گا، اور جو ذرہ برابر بھی بدی کرے گا، وہ بھی دیکھے گا۔”
یہ وہ **توانائیاتی تول** ہے جو شعیبؑ کے پیغام کا باطنی پہلو ہے —
کائنات کے ہر ذرے میں نیت، عدل، اور عمل کی لہریں گونجتی ہیں۔
**زمین اور انسانی شعور کا تعلق**
روحانی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو انسان اور زمین کے درمیان ایک subtle رابطہ موجود ہے۔
جب معاشرے کے افراد انصاف سے ہٹتے ہیں، ان کی اجتماعی فریکوئنسی (collective frequency) نیچے گرنے لگتی ہے، جسے قرآن “فساد فی الارض” کہتا ہے۔
یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب زمین کانپ اٹھتی ہے، زلزلے آتے ہیں، بارشیں رک جاتی ہیں، یا آسمان کی فضا زہریلی ہو جاتی ہے۔
یہ سب مظاہر دراصل **انسانی اعمال کے توانائیاتی بگاڑ** کی علامت ہیں۔
حضرت شعیبؑ کے دور کا زلزلہ اسی فلسفے کی تجسیم تھا۔
اور آج اگر ہم دیکھیں — کاربن کے اخراج، ماحولیاتی تباہی، اور عالمی معاشی ظلم نے بھی زمین کے توانائیاتی توازن کو بگاڑ دیا ہے۔
یہ عذاب کسی آسمانی بجلی کی صورت میں نہیں بلکہ **خود ہمارے اعمال کے انعکاس** کی شکل میں نازل ہو رہا ہے۔
**زَبور کی تمثیل**
زَبور میں حضرت داؤدؑ فرماتے ہیں:
“ربّ العادل اپنے میزان کو زمین کے ستونوں پر رکھتا ہے، اور ظالم خود اپنے بوجھ سے دب جاتا ہے۔”(زبور 75:3–8)
یہ تمثیل شعیبی فلسفے کی عکاسی ہے کہ **عدل ہی زمین کا ستون** ہے، اور جب وہ ٹوٹتا ہے، تہذیبیں مٹ جاتی ہیں۔
**جدید سائنس کا اعتراف**
آج کے ماہرینِ فلکیات اور معاشیات دونوں ایک نکتے پر متفق ہیں:
**“Balance is the law of survival.”**
چاہے وہ کہکشاؤں کا مدار ہو یا اسٹاک مارکیٹ کا نظام، ہر چیز توازن پر قائم ہے۔
قرآن نے اسی کو “میزان” کہا اور حضرت شعیبؑ نے اسے **انسانی اخلاق کے پیمانے** سے جوڑ دیا۔
اگر کسی قوم کے مالی نظام میں حرص بڑھ جائے، اگر وہ اعداد و شمار میں جھوٹ بولے، اگر مصنوعی ذہانت (AI) کو اخلاق سے آزاد کر دے — تو وہ دراصل میزانِ کائنات سے باہر نکل جاتی ہے۔
پھر زمین خود جواب دیتی ہے، کبھی زلزلے سے، کبھی وبا سے، کبھی ذہنی انتشار سے۔
یہی شعیبؑ کا پیغام ہے:
“عدل قائم کرو، ورنہ زمین تمہیں عدل سکھائے گی۔”
**حصہ پنجم: شعیبی نظامِ معیشت — الٰہی اکانومی کا قانون**
حضرت شعیبؑ کے پیغام کا سب سے گہرا پہلو یہ تھا کہ انہوں نے **دولت کو عبادت کے تابع** کر دیا۔
یعنی معیشت کو اخلاق سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
وہ سمجھتے تھے کہ اگر انسانی ہاتھ دولت کمائے مگر دل عدل سے خالی ہو، تو وہ دولت دراصل ایک **زہرِ میٹھا** ہے جو آہستہ آہستہ معاشرے کے ریشے کھا جاتا ہے۔
قرآنِ کریم میں ان کا فرمان محفوظ ہے:
**”وَيَا قَوْمِ أَوْفُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ، وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ، وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ”**(سورۃ ہود 85)
“اے میری قوم! انصاف کے ساتھ ناپ تول پورا کرو، لوگوں کو ان کی چیزوں میں کمی نہ دو، اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔”
یہ آیت “الٰہی معیشت” (Divine Economy) کی بنیاد رکھتی ہے —
ایک ایسا تصور جس میں **اخلاق، عدل، توانائی، اور رزق** آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔
حضرت شعیبؑ کا پیغام یہ نہیں تھا کہ صرف تول درست کرو، بلکہ یہ کہ **اپنے ارادوں، فیصلوں، اور تقسیمِ رزق میں عدل قائم کرو۔**
**الٰہی معیشت کے بنیادی اصول**
-
**عدل کا پیمانہ**
ہر نظام میں عدل ہی توازن پیدا کرتا ہے۔ جب انصاف ختم ہوتا ہے، معاشی نظام طاقتوروں کی گرفت میں چلا جاتا ہے۔
آج کی کارپوریٹ دنیا میں دولت چند ہاتھوں میں سمٹ چکی ہے۔
۹۰٪ وسائل صرف ۱۰٪ لوگوں کے پاس ہیں —
یہ وہی “فساد فی الارض” ہے جسے شعیبؑ نے اپنی قوم میں پہچانا تھا۔
-
**روحانی رزق**
حضرت شعیبؑ نے رزق کو صرف مادی تصور نہیں کیا۔
وہ فرماتے تھے: “اللہ تمہیں برکت دے گا اگر تم ایمان سے تجارت کرو۔”
یعنی نیت اور سچائی خود ایک توانائی ہے جو رزق میں اضافہ کرتی ہے۔
جدید سائنس اب **“Quantum Energy of Intention”** کو تسلیم کر چکی ہے
نیت کے vibration سے نتائج متاثر ہوتے ہیں۔
قرآن اسی حقیقت کو “برکت” کہتا ہے۔
-
**تول کا قانون**
کائنات میں ہر چیز توازن پر قائم ہے — چاہے وہ انسانی سانس ہو یا سیاروں کا مدار۔
جب تول میں بگاڑ آتا ہے تو نہ صرف نظامِ معیشت بلکہ **نظامِ فطرت** بھی متاثر ہوتا ہے۔
کاربن کا توازن، سمندروں کی تیزابیت، اور زمینی درجہ حرارت —
سب اس “ناپ تول کے بگاڑ” کی علامتیں ہیں جو انسان نے خود پیدا کیا۔
-
**روحانی ذمہ داری (Moral Accountability)**
شعیبؑ کا پیغام تھا کہ “انصاف کرو، کیونکہ تمہیں حساب دینا ہے۔”
یہی اصول بائبل (Luke 16:10) میں یوں بیان ہوا:
“جو چھوٹی باتوں میں ایماندار ہے، وہ بڑی باتوں میں بھی ایماندار ہوگا۔”
اور یہی اصول زبور میں کہا گیا:
“رب سچے تول کا مالک ہے، جھوٹا ترازو اُس کے نزدیک نفرت ہے۔” (زبور 11:7)
**روحانی معیشت کی جدید تعبیر**
آج جب دنیا Artificial Intelligence، ڈیجیٹل کرنسی اور روبوٹک ٹریڈنگ کی طرف جا رہی ہے،
تو انسان آہستہ آہستہ **روحانی معیشت** سے کٹتا جا رہا ہے۔
ہماری کمائیاں تیز ہو گئیں، مگر نیتیں بے وزن۔
ڈیٹا لاکھوں میں ہے، مگر دلوں میں خالی پن۔
یہ وہی لمحہ ہے جب شعیبؑ کا پیغام پھر زندہ ہو جاتا ہے —
کہ اگر تول کے پیمانے صرف مشینوں کے ہاتھ میں آ جائیں، تو عدل ختم ہو جاتا ہے۔
آج کے معاشی نظام کو شعیبی فلسفہ یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ:
“انسانی ارادے کا وزن ڈیجیٹل کوڈ سے زیادہ بھاری ہے۔”
**حصہ ششم: عدلِ ارضی سے عدلِ فلکی تک — شعیبؑ اور کائناتی ریاضی**
کائنات ایک عظیم ترازو ہے —
جہاں کہکشائیں اپنے مدار میں یوں توازن سے گھومتی ہیں جیسے کسی غیر مرئی ہاتھ نے ان کے محور کو ناپ رکھا ہو۔
اسی توازن کو قرآن “میزان” کہتا ہے، اور سائنس “Cosmic Symmetry”۔
حضرت شعیبؑ نے زمین پر وہی اصول نافذ کرنے کی کوشش کی جو آسمانوں میں جاری ہے۔
**“اللّٰهُ الَّذِي رَفَعَ السَّمٰوَاتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا… ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۖ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ يُفَصِّلُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُم بِلِقَاءِ رَبِّكُمْ تُوقِنُونَ”**(الرعد 2)
یہ آیت بتاتی ہے کہ کائنات ایک **ریاضیاتی توازن (Divine Mathematics)** پر چل رہی ہے۔
اگر کہکشاؤں کی رفتار میں معمولی فرق آ جائے تو نظام بکھر جائے۔
اسی طرح انسانی سماج میں عدل کا ذرّہ برابر انحراف بھی **اخلاقی بلیک ہول** پیدا کر دیتا ہے۔
**کوانٹم سائنس اور الٰہی میزان**
سائنس آج کہتی ہے کہ ہر ذرّہ دوسرے ذرّے کے اثر میں ہے — اسے “Quantum Entanglement” کہا جاتا ہے۔
یعنی ایک ذرے کا ارتعاش دوسرے ذرے میں بھی تبدیلی پیدا کرتا ہے، چاہے وہ ہزاروں نوری سال دور ہو۔
یہی وہ تصور ہے جسے شعیبؑ نے اخلاقی میدان میں سمجھایا:
تمہاری بددیانتی صرف تمہیں نہیں بلکہ پوری قوم کو متاثر کرتی ہے۔
ہر ظلم، ہر جھوٹ ایک ارتعاش ہے جو فضا میں پھیل کر **اجتماعی اخلاقیات** کو متاثر کرتا ہے۔
جب انسان جھوٹ بولتا ہے، توانائی بگڑتی ہے؛
جب سچ بولتا ہے، فطرت مسکراتی ہے۔
یہی “Quantum Justice” ہے —
اور یہی وہ قانون ہے جو ہر زمانے میں الٰہی میزان کو قائم رکھتا ہے۔
**عصرِ حاضر میں شعیبؑ کا پیغام**
آج دنیا کے پاس علم ہے مگر شعور نہیں، ٹیکنالوجی ہے مگر انصاف نہیں۔
ہم نے ہر چیز کی پیمائش کرنا سیکھ لیا ہے مگر **ضمیر کا وزن** بھول گئے ہیں۔
یہ وہ لمحہ ہے جب حضرت شعیبؑ کی صدائیں وقت کی دیواروں سے گونجتی ہیں:
“تول درست کرو، کیونکہ زمین عدل کی سانس سے جیتی ہے۔”
اگر انسان نے کائنات کے توازن کے ساتھ انصاف نہ کیا تو وہ خود **زمین کے خلاف جرم** کا مرتکب ہوگا۔
ماحولیاتی تبدیلی، ذہنی بے سکونی، اور اخلاقی انتشار — یہ سب ایک ہی مرض کی علامات ہیں:
**ناپ تول کا بگاڑ۔**
**نتیجہ — میزانِ ارض و فلک**
حضرت شعیبؑ کی تعلیم ہمیں بتاتی ہے کہ:
* عدل صرف عدالت کا اصول نہیں بلکہ کائنات کا سانس ہے۔
* تول کا توازن صرف بازار میں نہیں بلکہ دل، علم اور ارادے میں قائم ہونا چاہیے۔
* رزق کی برکت علم و اخلاق سے جڑی ہے، صرف محنت سے نہیں۔
* جب معاشرہ انصاف سے دور ہو جاتا ہے تو زمین خود انصاف سکھاتی ہے۔
یہی وہ پیغام ہے جو قرآن سے شروع ہو کر تورات، بائبل، اور زبور تک پھیلتا ہے —
کہ **خدا کا نظام توازن پر قائم ہے، اور جو اس توازن کو توڑتا ہے، وہ خود مٹ جاتا ہے۔**
![]()

