Daily Roshni News

زندگی اور وقت کی جنگ

زندگی اور وقت کی جنگ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )انسان جب کائنات کی وسعتوں کو اعداد و شمار کی زبان میں سمجھنے کی کوشش کرتا ہے تو معلوم پڑتا ہے کہ سامنے آنے والے حیرت انگیز حقائق میں سب سے تلخ حقیقت ‘زندگی کی نایابی’ ہے۔

ہماری کہکشاں ‘ملکی وے’ (Milky Way) ستاروں کا ایک عظیم سمندر ہے جس میں کم از کم ایک سو ارب اور ممکنہ طور پر چار سو ارب تک ستارے جگمگا رہے ہیں۔ جدید فلکیات نے یہ راز بھی افشا کیا ہے کہ کائنات میں سیارے کوئی نایاب شے نہیں بلکہ کہکشاؤں کی عمومی ساخت کا ایک معمولی حصہ ہیں اور بیشتر ستاروں کے گرد ایک سے زیادہ سیارے رقصاں ہیں۔ اب اگر کائنات میں کیمیائی عناصر اور طبیعی قوانین ہر جگہ یکساں ہیں تو یہ سوال ذہن کے دروازے پر دستک دیتا ہے کہ آخر زندگی اور بالخصوص ذہین مخلوق ہمیں کہیں اور نظر کیوں نہیں آتی؟

اسی کائناتی تضاد کو 1950 میں نوبل انعام یافتہ طبیعیات دان ‘اینریکو فرمی’ (Enrico Fermi) نے ایک سادہ مگر گہرے سوال کی صورت میں پیش کیا تھا۔ یہ سوال کسی پیچیدہ مقالے کا حصہ نہیں تھا بلکہ ایک عام گفتگو کے دوران اچانک ان کی زبان سے ادا ہوا تھا۔

“اگر کائنات ستاروں اور سیاروں سے بھری پڑی ہے تو پھر سب مخلوقات کہاں ہیں؟”

بعد ازاں یہی سوال ‘فرمی پیراڈوکس’ (Fermi Paradox) کے نام سے مشہور ہوا۔

یہ پیراڈوکس اس عجیب تضاد کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایک طرف کائنات میں ذہین مخلوق کی موجودگی کے امکانات بہت روشن ہیں مگر دوسری طرف مشاہداتی ثبوت مکمل طور پر صفر ہے۔ آج تک نہ کوئی ریڈیو پیغام موصول ہوا، نہ کسی اجنبی خلائی جہاز نظر آیا اور نہ ہی کسی قدیم تہذیب کے آثار ملے۔ یہ پراسرار خاموشی محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سائنسی معمہ ہے۔

اسی معمے کو حل کرنے کے لیے سائنسدان اکثر ‘گریٹ فلٹر’ (Great Filter) کے مفروضے کا سہارا لیتے ہیں۔ اس کے مطابق کائنات میں زندگی کے ارتقاء کے راستے میں کوئی ایسی بڑی رکاوٹ (Filter) موجود ہے جو زندگی کو سادہ حالت سے ذہانت اور ٹیکنالوجی کے درجے تک پہنچنے سے روک دیتی ہے۔ شاید کائنات میں زندگی کا آغاز تو نسبتاً عام ہو لیکن ذہانت تک کا سفر اتنا کٹھن ہے کہ اکثر تہذیبیں اس فلٹر سے گزرنے سے پہلے ہی دم توڑ دیتی ہیں۔

اس تصور کو گہرائی میں جا کر پرکھنے کے لیے آسٹریا کے محققین ‘مانویئل شرف’ اور ‘ہیلمٹ لیمر’ نے ایک منفرد زاویہ اپنایا۔ یہ سوچنے کی بجائے کہ کائنات میں کہیں اور ذہین زندگی موجود ہے یا نہیں، انہوں نے وقت کی اہمیت کی طرف منطقی انداز میں اشارہ کرتے ہوئے ایک دلچسپ سوال اٹھایا کہ اگر زندگی کسی سیارے پر جنم لے بھی لے تو کیا اسے اتنا وقت میسر آتا ہے کہ وہ پیچیدہ شکل اختیار کر کے ذہین مخلوق بن سکے؟

یہاں ایک بنیادی نقطے کو ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی والی زندگی کسی جادوئی لمحے کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے اربوں سال کے مسلسل سازگار حالات درکار ہوتے ہیں جن میں حیاتیات، ارضیات اور فضا کا ایک نازک توازن شامل ہے۔

ان محققین نے ایک ریاضیاتی ماڈل تشکیل دیا تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ کوئی سیارہ زیادہ سے زیادہ کتنے عرصے تک ایک فعال ‘بایو سفیئر’ (Biosphere) کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ بایو سفیئر کسی سیارے کا وہ غلاف ہوتا ہے جہاں ہوا، پانی اور زمین مل کر زندگی کو سہارا دیتے ہیں۔ اس ماڈل میں صرف ان سیاروں کو شامل کیا گیا جن کے حالات زمین سے مماثلت رکھتے ہوں یعنی جہاں آکسیجن، نائٹروجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ والی فضا موجود ہو۔ آکسیجن کی کم از کم مقدار اٹھارہ فیصد رکھی گئی کیونکہ پیچیدہ جاندار اس سے کم پر زندہ نہیں رہ سکتے جبکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی حد ایک سے دس فیصد مقرر کی گئی جو ضیائی تالیف (Photosynthesis) کا بنیادی ایندھن ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ‘پلیٹ ٹیکٹونکس’ کے فعال نظام کو بھی لازمی قرار دیا گیا جو زمین کے درجہ حرارت اور کاربن کے سائیکل کو مستحکم رکھتا ہے۔

اس حساب کتاب کا نتیجہ خاصا چشم کشا تھا۔ اگر کسی سیارے کی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ دس فیصد ہو تو وہ تقریباً 4.2 ارب سال تک پیچیدہ زندگی کو سہارا دے سکتا ہے لیکن اگر یہ مقدار کم ہو کر ایک فیصد رہ جائے تو بایو سفیئر کی عمر سمٹ کر صرف 3.1 ارب سال رہ جاتی ہے۔ یہ محض اعداد کا کھیل نہیں بلکہ زندگی اور موت کا فیصلہ ہے کیونکہ سادہ جرثوموں سے لے کر ٹیکنالوجی بنانے والی ذہین مخلوق تک کے ارتقائی سفر کے لیے قدرت کو طویل وقت درکار ہوتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ضیائی تالیف یا فوٹوسنتھیسس (Photosynthesis) کے عمل کے دوران کاربن ڈائی آکسائیڈ مسلسل استعمال ہوتی رہتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قدرت کا ایک اور عمل ‘ویدرنگ’ (Weathering) بھی جاری رہتا ہے جس میں بارش کا پانی فضا سے کاربن جذب کر کے زمین پر لاتا ہے جو آخرکار سمندروں میں جا کر سمندری حیات کے خول اور پھر تہہ میں جم کر ‘چونے کے پتھر’ (Limestone) کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ جب فضا میں اس کی مقدار ایک خاص حد سے گر جاتی ہے تو پودے خوراک بنانا چھوڑ دیتے ہیں اور یہیں سے پیچیدہ زندگی کے زوال کا آغاز ہو جاتا ہے۔

خود ہماری زمین کے بارے میں سائنسی اندازے یہی بتاتے ہیں کہ یہ مرحلہ اگلے 200 ملین سے ایک ارب سال کے اندر آ سکتا ہے۔

یہ تصویر اس وقت مزید واضح اور خوفناک ہو جاتی ہے جب اسے زمین کی تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے۔ زمین پر زندگی تقریباً 3 سے 4 ارب سال پہلے شروع ہوئی مگر انسان جیسی ذہین مخلوق کو نمودار ہونے میں 4.5 ارب سال لگ گئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کے بیشتر سیاروں پر زندگی کو ارتقاء کے لیے کافی طویل مدت درکار ہو سکتی ہے اور اکثر و بیشتر وہاں اتنی مہلت مل ہی نہیں پاتی۔ زیادہ تر سیارے یا تو کچھ ہی کروڑ سالوں میں درجہ حرارت کی تبدیلی سے گزرتے ہیں یا ان کی فضا کی ترکیب قائم نہیں رہتی یا پھر کسی نہ کسی انداز میں وہ زندگی کے لیے مطلوبہ عناصر اور لوازمات کو کھو دیتے ہیں۔ نتیجتاً ذہین زندگی کا سفر منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی تمام ہو جاتا ہے۔

تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ انسانوں کے ساتھ ہم عصر ہونے کے لیے کسی دوسری ٹیکنالوجی والی تہذیب کو کم از کم 2 لاکھ 80 ہزار سال تک اپنا وجود برقرار رکھنا پڑے گا۔

جب محققین نے ان تمام عوامل کو یکجا کیا تو نتیجہ مایوس کن حد تک تلخ نکلا۔ اس ماڈل کے مطابق اگر آج ہماری کہکشاں میں کوئی اور ذہین تہذیب موجود ہے تو وہ زمین سے تقریباً 33,000 نوری سال دور ہو سکتی ہے یعنی روشنی کو بھی وہاں سے ہم تک پہنچنے میں 33 ہزار سال لگیں گے۔ جس کا مطلب ہے کہ اگر انہوں نے ہماری طرف کوئی سگنل بھیجا بھی ہو تو جب وہ ہم تک پہنچے گا تب تک شاید بھیجنے والی تہذیب خاک ہو چکی ہوگی یا پھر ہماری اپنی زمین ویران ہو چکی ہوگی۔

اس شماریاتی اندازے کا مطلب یہ نہیں کہ کائنات میں زندگی ممکن نہیں بلکہ یہ ہے کہ زندگی کو ٹیکنالوجی کی سطح تک ذہانت حاصل کرنے کے لیے وقت چاہیے اور وہ وقت زیادہ تر سیاروں کو نہیں مل پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ کائنات میں زندگی کا کوئی سراغ نہیں مل پایا اور شاید اسی لیے سائنسدان کہتے ہیں کہ اگر ہم واقعی اکیلے نہیں ہیں تو بھی ہمارے پڑوسی ہم سے اس قدر دور ہیں کہ ان کی تلاش یا ان سے رابطہ ہماری موجودہ ٹیکنالوجی کے ذریعے ممکن نہیں۔

اس تحقیق نے ‘سیٹی’ (SETI) جیسے منصوبوں کی اہمیت اور حکمت عملی کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔ سیٹی (Search for Extraterrestrial Intelligence) وہ سائنسی منصوبہ ہے جو بڑی بڑی دوربینوں اور ریڈیو ٹیلی اسکوپس کے ذریعے کائنات کی وسعتوں میں کسی ذہین مخلوق کے بھیجے گئے سگنلز کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ اس نئے ماڈل کے بعد یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ہمیں قریبی یا نئی تہذیبوں کی بجائے انتہائی قدیم اور طویل عمر پانے والی تہذیبوں کے آثار تلاش کرنے چاہئیں جو کہکشاں کے دور دراز کونوں میں کہیں چھپی ہو سکتی ہیں۔

یہ تحقیق 2025 میں EPSC-DPS نامی بین الاقوامی سائنسی کانفرنس میں پیش کی گئی اور اس نے فرمی پیراڈوکس کو محض قیاس آرائیوں سے نکال کر ٹھوس اعداد و شمار پر کھڑا کر دیا ہے۔ اب سوال صرف یہ نہیں کہ کیا کہیں اور زندگی ہے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا کائنات میں کہیں اور وقت نے مادہ کو اتنی مہلت دی کہ وہ شعور کی آنکھ کھول کر خود کو سمجھ سکے؟

حاصلِ کلام یہ ہے کہ وقت کی اہمیت بتانے والی پرانی کہاوتیں سچ تھیں اور دراصل ‘وقت’ ہی وہ قیمتی دولت ہے جس کی کائنات میں سب سے زیادہ کمی ہے۔ شاید کائنات میں ہماری تنہائی کا راز بھی یہی ہے کہ قدرت اپنی یہ مہنگی ترین سوغات ہر سیارے کو اتنی فراوانی سے نہیں بانٹتی جتنی ہماری زمین کے حصے میں آئی۔

(ڈاکٹر احمد نعیم)

RESEARCH PAPER:

Manuel Scherf et al., “How common are biological ETIs in the Galaxy?”, Europlanet Science Congress (EPSC) American Astronomical Society’s Division for Planetary Sciences (DPS) – EPSC-DPS2025 (2025)

Loading