یہ واقعہ 11 جولائی 2025 کا ہے
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )میں اسلام اباد منسٹری اف فیڈرل ایجوکیشن
میں ایک ضروری کام کے سلسلے میں جا رہا تھا جاتے ہوئے
میری نظر پارک میں بیٹھی لڑکی پہ پڑی دکھنے میں وہ لڑکی کسی یونیورسٹی کی سٹوڈنٹ لگ رہی تھی مکمل حجاب پہنا ہوا تھا لیکن ہچکیاں لے کر رو رہی تھی اور بار بار اپنی انکھیں صاف کر رہی تھی
پہلے میں نے کھڑے ہو کر سوچا کہ اس کے پاس جاؤں ہو سکتا ہے کسی مشکل میں ہو تو اس کی مدد کر دوں لیکن ٹائم بہت مختصر تھا کیونکہ میں نے جس بندے سے ملنا تھا اس بندے نے مجھے فکس ٹائم دیا ہوا تھا اگر میں پانچ منٹ بھی دیر سے جاتا تو اس بندے نے اٹھ کر چلے جانا تھا لہذا میرا ٹائم پہ پہنچنا بہت زیادہ ضروری تھا
لہذا میں نکل کر منسٹری پہنچا وہاں جا کر اپنے مطلوبہ بندے سے ملا 20 منٹ کی ملاقات کے بعد میں منسٹری سے نکلا اور واپس اسی پارک کے پاس ایا تو وہ لڑکی اس بینچ سے اٹھ کر دوسرے بینچ پر جا بیٹھی تھی اور لڑکی کی پشت اس طرف تھی جدھر سے میں پہلے گزر کر گیا تھا لڑکی کا بیگ اس کے پہلو میں رکھا ہوا تھا اور وہ اس وقت بھی ہاتھوں کے زاویے بنا رہی تھی جن سے نفسیاتی طور پہ پتہ چل جاتا ہے کہ یہ بہت زیادہ پریشان ہے
میں اللہ کا نام لے کر پارک میں داخل ہوا اور اہستہ اہستہ چلتا ہوا اس لڑکی کے پاس جا پہنچا لڑکی کو سلام کیا
اور احتیاط کو بالا طاق رکھتے ہوئے لڑکی سے تین فٹ کے فاصلے پہ کھڑا ہو گیا پہلے لڑکی کو تحفظ کا احساس دلایا پھر اس سے میں مخاطب ہوا
میری بہن اپ کو میں نے روتے ہوئے دیکھا ہے اور مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اپ بہت زیادہ پریشان ہیں اگر اپ مناسب سمجھیں تو اپنی پریشانی کا سبب بتا دیں ہو سکتا ہے کہ میں ہر ممکن اپ کی مدد کر سکوں۔
پہلے تو لڑکی نے مجھے سر سے پاؤں تک غور سے دیکھا اور پھر غصے اور پریشانی کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ مجھے کہنے لگی جی نہیں اپ کا بہت شکریہ مجھے اپ کی کوئی مدد نہیں چاہیے
لیکن میں اس لڑکی کو اس طرح پریشانی میں چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا تھا کیونکہ وہ کسی کی بہن بیٹی اور کسی کے گھر کی عزت تھی اور نہ جانے کیوں مجھے ایسا لگتا تھا کہ وہ اس وقت کسی شدید ترین کرب میں مبتلا ہے اور وہ اس کرب کا ذکر کسی سے نہیں کر سکتی
لیکن میں نے پھر بھی ایک بار پھر اس سے درخواست کی کہ اپ مجھے اپنا بھائی سمجھیں میں اپ کو کسی طرح کا کوئی نقصان نہیں دوں گا
میری اپ سے گزارش ہے کہ اگر اپ مناسب سمجھ جائیں تو اپ
اپنی پریشانی بتا دیں دو تین بار کے اصرار کے بعد
اس لڑکی کی انکھوں میں ایک بار پھر انسو بھر آئے
لیکن اس بار وہ خاموش ہو گئی اور میں خاموش کھڑا اس کے چہرے کی طرف دیکھتا رہا اس نے اپنے بیگ سے ٹشو پیپر نکالا اپنی انکھیں صاف کی اور پھر کہنے لگی
اپ کون ہیں کہاں سے ہیں اور اپ میری مدد کیوں کرنا چاہتے ہیں
اس بار میں نے تھوڑا لہجہ سخت کر کے کہا کہ دیکھیں میری بہن مجھے اپ سے اپنی بےعزتی کروانے کا کوئی شوق نہیں ہے لیکن میں نے اپ کو پریشان دیکھا تو میں نے اپ کو اپنی بہن سمجھ کر اپ کی مدد کرنا مناسب سمجھا اب اپ کی مرضی یہ ہے کہ اپ اپنا مدعا بیان کرتی ہیں یا پھر میں رخصت چاہتا ہوں
اس بار لڑکی نے اپنا مدعا بیان کرنا شروع کیا اور پریشانی کی وجہ بتا دی
اس نے اسلام اباد کی ایک یونیورسٹی کا نام لیا اور کہنے لگی کہ میں اس یونیورسٹی کی طالبہ ہوں میں نے زندگی میں کبھی کسی لڑکے سے بات نہیں کی تھی لیکن یونیورسٹی انے کے بعد مجھے ایک لڑکے نے پروپوز کیا میں نے تو پہلے اس کو بہت زیادہ انکار کیا لیکن بالاخر اس کی محبت کے اگے اور اس کی شدت کے اگے میں بے بس ہو گئی میں نے اس کی محبت کو قبول کیا ایک سال میں اس کے ساتھ محبت کے رشتے میں رہی
اور ہم گھومنے جاتے ہم ایک ساتھ تصویریں بناتے سیلفیاں بناتے
اور زندگی کو انجوائے کر رہے تھے مجھے اس لڑکے نے یہی کہا تھا کہ میں تم سے شادی کروں گا اور تمہارے گھر رشتہ بھیجوں گا لہذا میں نے اس کو اپنی زندگی میں اپنا ہمسفر مان کر اس کو اپنے قریب کر لیا
ایک دن اس نے مجھے میسج کیا کہ میں تمہارے ساتھ س۔۔۔۔ کرنا چاہتا ہوں لیکن میں نے صاف انکار کر دیا کیونکہ میں نے کہا کہ بغیرنکاح کسی کو اپنے ساتھ یہ کچھ نہیں کرنے دے سکتی
جب میں نے صاف انکار کیا تو اس لڑکے نے میری تصاویر جو کہ میں نے اس کے ساتھ سیلفیاں لی تھیں اس نے مجھے ان تصاویر کے ذریعے بلیک میل کرنا شروع کر دیا اور میری دو تصاویر ارٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے ایڈٹ کر کے مجھے بھیجی اور کہنے لگا کہ اگر تم مجھ سے نہ ملی اور میرے ساتھ یہ نہ کیا تو میں یہ تمہاری تصاویر سوشل میڈیا پہ بھی وائرل کر دوں گا اور تمہاری فیملی کو بھی بھیج دوں گا
میں بہت زیادہ ڈر گئی میں نے اس سے التجا کی اور میں نے اس کے پیر بھی پکڑے کہ اللہ کا واسطہ ہے اگر میں نے تم سے محبت کی ہے تو مجھے اس محبت کی یہ سزا نہ دو کہ میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہوں تم یہ تصاویر ڈیلیٹ کر دو اگر تم نے شادی کرنی ہے تو تم میرے گھر رشتہ بھیجو میں تمہارا رشتہ قبول کروں گی اور اپنے ماں باپ کو تمہارے لیے رضامند کروں گی تو نکاح کے بعد جو دل ہوا وہ کرنا کیونکہ میں تمہارے لیے حلال اور تم میرے لیے حلال ہو جاؤ گے
لیکن وہ ایک شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ ہنسا اور کہنے لگا کہ میں نے تمہارے ساتھ کوئی نکاح نہیں کرنا اب اگر تم مجھے یہ کچھ نہیں کرنے دو گی تو بہت برا انجام ہوگا
اج چار دن ہو گئے ہیں میں یونیورسٹی نہیں گئی اور میں نے اپنا موبائل بھی چار دن سے بند کیا ہوا ہے میں گھر سے یونیورسٹی کے بہانے سے اتی ہوں لیکن میں یونیورسٹی نہیں جاتی میں یہاں اسی پارک میں ا کے اکیلی بیٹھتی ہوں روتی ہوں اور چھٹی کے ٹائم پہ گھر چلی جاتی ہوں کیونکہ اگر یونیورسٹی نہ جاؤں تو میرے والدین مجھ سے یونیورسٹی نہ جانے کا سبب پوچھیں گے اور میں کوئی بہانہ نہیں بنا پاؤں گی اور اگر گھر میں یہ کچھ پتہ چل گیا تو میرے گھر والوں نے میرے ساتھ جو کرنا ہے وہ اپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں
میں سارا معاملہ سمجھ گیا تھا میں نے اسے بہن کہا تھا اور میں نے اس کے سر پہ بھائیوں والا دست شفقت رکھا اور اسے کہا کہ پریشان نہ ہونا میں اپ کے ساتھ کھڑا ہوں اور اپ کا یہ معاملہ میں مکمل رازداری کے ساتھ سلجھا دوں گا
لہذا میں نے وہاں کھڑے کھڑے ایڈووکیٹ انیلہ زاہد عباسی کو کال کی اور ان کو مختصرا یہ واقعہ بتایا انہوں نے مجھے کہا کہ اپ اس لڑکی کو لے کر میرے چیمبر میں ا جائیں
لڑکی کو مکمل تحفظ کا احساس ہو چکا تھا اور وہ ڈوبتے ہوئے کو
تنکے کا سہارا مثال پہ عمل کرتے ہوئے میرے ساتھ خاموشی سے چل دی میں نے ان کو اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھایا اور ان کو سیدھا ایڈوکیٹ انیلہ زاہد عباسی صاحبہ کے چیمبر میں لے گیا وہاں میں نے ساری گفتگو اور سارا واقعہ من و عن کے سامنے رکھا
سب سے پہلے تو ایڈوکیٹ انیلہ زاہد عباسی نے میرا احترام کرتے ہوئے ایک پروفیشنل ایڈوکیٹ اور ایک فیملی ممبر کی طرح چائے منگوائی لڑکی نے چائے پی اس کا سر درد دور ہوا
اور لڑکی کچھ پرسکون نظر انے لگی پھر اس کے بعد ایڈوکیٹ انیلہ زائد عباسی نے لڑکی سے اس لڑکے کا نمبر لیا اور لڑکے کو کال ملائی لڑکی سے کہنے لگی کہ اپ کے خلاف ڈسٹرکٹ کورٹ اسلام ابادمیں کیس دائر ہوا ہے جس میں اپ نے فلاں طالبہ کو بلیک میل اور ہراساں کیا ہے
اپ کے میسجز کے سکرین شاٹس بطور ثبوت اور اپ کی تصاویر عدالت میں پیش کر دی گئی ہیں لہذا اپ کو جلد ہی پیشی کے ثمن
اپ کے گھر کے پتے پر پہنچ جائیں گے
لڑکے کا اتنا سننا تھا کہ لڑکے کی اواز کانپنا شروع ہو گئی پہلے تو وہ لڑکا بدمعاشی کے ساتھ بات کر رہا تھا لیکن جیسے ہی ایڈوکیٹ انیلہ عباسی نے اپنا مکمل تعارف کروایا تو لڑکے نے کال پہ منتیں ترلے شروع کر دیے
کال سے پہلے میرا اور ایڈوکیٹ صاحبہ کا مکمل اور مصمم ارادہ تھا کہ اس لڑکے کے خلاف جتنے سیکشنز لگ سکتے ہیں لگا کر اس کا مکمل کیس فائل کیا جائے لیکن معاملہ صرف زبانی ہراسمنٹ کا تھا اور اس نے لڑکی کے ساتھ فزیکلی کچھ غلط نہیں کیا تھا لہذا ہم نے فی الوقت لڑکے کو
ڈرا کر اس کے موبائل سے تصاویر اور نمبرز ڈیلیٹ کروانے کا پروگرام بنایا جب لڑکا پوری طرح سے بے بس ہو چکا تھا تو ایڈوکیٹ صاحبہ نے لڑکے کو 20 منٹ کے اندر اندر اپنے چیمبر میں پہنچنے کا حکم دیا
لڑکا 20 منٹ سے پہلے ہی بار کونسل اسلام اباد کے دروازے پر تھا اس کو چیمبر نہیں مل رہا تھا لہذا میں نے جا کے لڑکے کو وصول کیا اور اسے لے کر چیمبر میں اگیا
وہ جیسے ہی چیمبر میں داخل ہوا
لڑکی کو اور ایڈوکیٹ صاحبہ کو وہاں بیٹھے دیکھ کر اس کا رنگ زرد پڑ گیا اور ہونٹ خشک ہو گئے
اس لڑکے سے ٹھیک سے نہ تو بیٹھا جا رہا تھا اور نہ ہی بولا جا رہا تھا
میں نے اس مشکل کو اسان کرتے ہوئے اس لڑکے سے ساری بات کی اور اس کے سامنے دونوں اپشنز رکھ دیے کہ اب یا تو جیل یاترا کے لیے تیار ہو جاؤ یا پھر عزت اور شرافت کے ساتھ اس لڑکی کا مکمل ڈیٹا ڈیلیٹ کر دو اسی صورت میں تمہاری جان بخشی ہو سکتی ہے اس لڑکے نے ہمارے کے بنا اس لڑکی کے اگے ہاتھ جوڑے اس سے معافی مانگی اور ہمارے سامنے اپنے موبائل سے سارا ڈیٹا ڈیلیٹ کر دیا
میں نے موبائل لے کر گوگل ڈرائیو ہڈن فولڈرز اور سارا بیک اپ تسلی سے چیک کیا جب ہر طرح سے تسلی کر لی تو موبائل سوئچ اف کر کے ایڈوکیٹ صاحبہ کے حوالے کیا کہ موبائل کی مکمل فرانزک کے بعد موبائل لڑکے کو واپس کر دیجئے گا
لہذا لڑکے کو یہ وارننگ دی کہ اگر تمہارے پاس لیپ ٹاپ یا کسی دیگر ڈرائیو میں لڑکی کا کوئی ڈیٹا ہوا تو اس بار معافی کا کوئی بہانہ نہیں ہوگا تمہارے اوپر جتنے سیکشنز لگ سکے لگائے جائیں گے اور تمہیں جیل یاترا کروائی جائے گی اور اس کی ذمہ دار مکمل طور پہ تم خود ہو گے
لڑکے نے قران پاک اپنے سر پہ رکھا اور قسم کھائی کہ موبائل کے علاوہ لڑکی کی تصاویر کہیں بھی نہیں ہے اور اگر کہیں ہوئی یا میں نے لڑکی کو دوبارہ بلیک میل کیا تو میں اپنی ذمہ داری خود لیتا ہوں اپ بے شک میرے اوپر کیس فائل کر سکتے ہیں
میں نے لڑکی کے چہرے کی طرف دیکھا لڑکی مکمل طور پہ پرسکون ہو چکی تھی اور اس کے چہرے پہ ہلکی ہلکی مسکراہٹ بھی اوررقص کر رہی تھی میری وہ بہن اب ہر طرح کی ٹینشن سے نکل چکی تھی اس کی انکھوں میں لگا ہوا سرمہ بہہ کر اس کے گالوں تک ا چکا تھا
لڑکے کا شناختی کارڈ ضبط کر لیا گیا تھا موبائل شناختی کارڈ ایڈوکیٹ صاحبہ نے اپنے لاکر میں رکھے
اور لڑکے کو جانے کا اشارہ کیا لڑکا بڑے مہذبانہ انداز کے ساتھ اٹھ کر چیمبر سے چلا گیا
لڑکی نے اپنے وائلٹ سے پانچ ہزار کا نوٹ نکالا اور میری طرف بڑھاتے ہوئے بولی کہ یہ میری طرف سے اپ رکھ لیں میں نے وہ نوٹ اس سے لینے سے انکار کر دیا اور اسے بولا کہ اپ کو میں نے اپنی بہن بولا ہے تو بھائیوں کا یہ فرض ہے کہ اپنی بہن کی عزت اور تحفظ کے لیے ہر حد سے گزر جائیں
لڑکی نے وہ نوٹ ایڈوکیٹ صاحبہ کی طرف بڑھایا لیکن ایڈوکیٹ صاحبہ نے بھی ہنستے ہوئے وہ نوٹ لے کر لڑکی کے وائلٹ میں زبردستی واپس ڈال دیا اور اسے بولا کہ تم میری چھوٹی بہن ہو صرف تم ہی نہیں بلکہ اس شہر اس ملک اور اس خطے میں بسنے والی سب لڑکیاں میری بہنیں اور بچیاں ہیں
جب بھی کسی لڑکی کو اپنی عزت اور اپنے تحفظ کے لیے میری ضرورت پڑی تو میں ہر وقت حاضر ہوں
ماحول کافی پرامن اور پرسکون ہو چکاتھا
ایک بہن کی ایک درندے سے عزت اور جان بچ گئی تھی
میں نے ماحول کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ایڈوکیٹ صاحبہ کے خرچے سے ایک پیزا ارڈر کیا ہم تینوں نے مل کر پارٹی اڑائی
اور جب لڑکی کے چہرے کی طرف نظر گئی تو لڑکی رو رہی تھی لیکن اس بار یہ انسو خوشی کے انسو تھے
لڑکی نے مجھ سے میرا نمبر لیا اور ہم دونوں کا شکریہ ادا کر کے ہم سے اجازت چاہی میں چیمبر سے نکل کر اس لڑکی کو گاڑی تک چھوڑنے ایا اس کو پبلک ٹرانسپورٹ گاڑی میں بٹھایا اور اس کے گھر جانے والے روٹ پر وہ روانہ ہو گئی
اگر اپ بھی کسی درندے کے شکنجے میں پھنس چکی ہیں کوئی اپ کو اپ کی تصاویر اور اپ کی ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کر رہا ہے تو ڈرنے اور اس درندے کو مزید ڈھیل دینے کی بجائے اپ ایڈوکیٹ انیلہ زاہد عباسی یا مجھ سے رابطہ کر سکتی ہیں
اپ کی عزت اور اپ کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی قانونی مشاورت اور کیسز کے لیے اسلام اباد کی ماہر قانون ایڈوکیٹ انیلہ زاہد عباسی
ہر وقت حاضر ہیں
ایڈوکیٹ صاحبہ سے رابطے کے لیے اپ مجھ سے واٹس ایپ پہ رابطہ کر سکتے ہیں
اگر اپ ڈائریکٹ ایڈوکیٹ صاحبہ سے رابطہ کرنا چاہیں تو اl ان کے افیشل فیس بک پیج کو میں نے اس پوسٹ کے ساتھ ٹیگ کر دیا ہے اپ اس پوسٹ کے شروع میں میرے نام کے ساتھ ایڈوکیٹ انیلہ عباسی لکھا ہوا دیکھ سکتے ہیں اوراپ ان کے افیشل فیس بک پیج کے ذریعے ان سے رابطہ کر سکتے ہیں
اس پوسٹ کو اپنے تمام جاننے والوں تک شیئر کر دیں تاکہ خدا نہ خواستہ اگر کوئی اور لڑکی اس طالبہ جیسے حالات سے دو چار ہو تو وہ مدد حاصل کر سکے شکریہ۔
علی بٹ
نوٹ: مجھے پاکستان کے تمام شہروں سے خواتین اور مرد حضرات کی ضرورت ہے
جو کسی سرکاری اچھے عہدے پر ہوں اور مالی طور پہ مضبوط ہوں اور جو اس نیک سفر میں میرے ہمقدم ہوکر میرا ساتھ دیں
مزید اس سفر میں کالجز اور یونیورسٹیز کی گرلز طالبات بھی شامل ہوسکتی ہیں
جو فی سبیل اللہ اور خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے اس ملک کی بچیوں کی عزت بچانے کے لیے میری ٹیم کا حصہ بن سکیں
ٹیم کا مقصد پاکستان کے ہر شہر میں موجود کالجز اور یونیورسٹیز تک اگاہی مہم چلانا اور کالجز اور یونیورسٹیز کی طالبات لڑکیوں کی عزتیں بچانا اور انھیں قانونی مدد فراہم کرنا ہے
![]()

