Daily Roshni News

لاہور : ایک عام سا انسان پلک جھپکتے میں جانور کیسے بن گیا ؟

لاہور : ایک عام سا انسان پلک جھپکتے میں

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ) جانور کیسے بن گیا ؟بیوی پر 10 گھنٹے لگا تار تش۔دد اور ایک ہی سوال ؟؟ 3 سال قبل پیش آنے والا واقعہ جسکا مرکزی کردار بیوی کو ق۔ت۔ل کرکے آج جیل میں پڑا ہے ۔۔۔۔۔

یہ لاہور کے ایک متوسط علاقے کی سچی کہانی ہے جو عبرت دلانے کے لیے بیان کی جارہی ہے ۔۔۔ 28 سالہ یہ نوجوان محنت مزدوری کرتا اور اپنی بیوی کے ساتھ کرائے کے دو کمرے کے مکان میں رہتا ، اسکی بیوی کا نوجوان کے ماں باپ کے ساتھ گزارا نہی ہوتا تھا اس لیے یہ اسکی فرمائش پر علیحدہ گھر میں رہ رہا تھا ۔۔۔ ایک روز روٹین سے ہٹ کر دن کے ٹائم گھر آگیا ، باہر والا دروازہ کھلا تھا ، شاید اسکی بیوی کنڈی لگانا بھول گئی تھی یہ اندر چلا گیا تو دیکھا اسکی بیوی ایک لڑکے کے ساتھ نازیبا حالت میں تھی ۔۔۔۔

اس نے لڑکے کو گریبان سے پکڑا مگر عاشق اور محبوبہ دونوں نے اسے ملکر دھکا دیا یہ زمین پر گرا اور اسے کمر پر شدید چوٹ آئی ، اس دوران لڑکی اور لڑکا دونوں باہر نکلے کمرے کو باہر سے کنڈی لگا دی اورگلی میں نکل گئے ، یہ نوجوان زمین سے اٹھا اور دروازہ کھولنا چاہا مگر باہر سے بند تھا ، پتلی شیٹ کا عام سے دروازہ تھوڑی کھینچا تانی سے کچھ منٹوں بعد کھل گیا تو یہ انکے پیچھے باہر بھاگا ، لڑکا تو گلیوں میں کہیں گم ہو گیا مگر اسکی بیوی مین روڈ کے قریب اسے دکھائی دے گئی ،

 اس نے بیوی کو جا لیا ایک دو تھپڑ مارے اور بازو سے پکڑ کر گھر کی طرف لے جانا چاہا ، اس دوران پولیس وہاں پہنچ گئی جو اپنے روٹین کے گشت پر تھی ، انہوں نے درمیان میں پڑ کر لڑکی کو چھڑایا تھانیدار نے سارا معاملہ پوچھا ، لڑکی روتے ہوئے کہہ رہی تھی کہ تھانیدار صاحب یہ مجھے مارتا ہے گا۔لیاں دیتا ہے میں اسکے ساتھ نہیں رہ سکتی ، لڑکے نے بھی ساری روداد تھانیدار کو سمجھائی ، اس اللہ کے بندے نے حالات کی نزاکت کو نہ سمجھتے ہوئے میاں بیوی میں صلح کروا دی اور دونوں کو ایک دوسرے کی جپھی ڈلوا دی ۔۔۔

یہ دونوں اب چپ چاپ اپنے گھر پہنچے ، شاید یہ معاملہ یہاں ٹھنڈا ہو جاتا ، رات بھی چپ چاپ گزر گئی ، انکا ایک دودھ پیتا بچہ بھی تھا شاید اسی کا خیال کرکےدونوں چپ ہو گئے ۔۔ش۔س۔۔صبح اس معاملے میں نیا موڑ آیا جب اوپر کی منزل پر رہنے والی ایک کرایہ دار خاتون نے بتایا کہ دو روز قبل بھی دو لڑکے تمہاری بیوی کے پاس کمرے میں 1 گھنٹہ رہے ہیں ۔۔۔۔ بس پھر کیا تھا ؟

 اس مزدوری پیشہ نوجوان کا دماغ الٹ گیا ۔۔۔ اس نے بیوی کو بازو سے پکڑا کمرے میں لے گیا اور ایک ہی سوال پوچھا ، غیر لوگ کمرے میں بلا کر کیا کرتی ہو اور کون ہیں یہ لڑکے ؟ بیوی خاموش رہی ۔۔۔۔ یہ بار بار پوچھتا رہا مگر بیوی بدستور چپ ۔۔۔ آخر اس نے پہلے بچے کو ساتھ والے کمرے میں لٹا دیا ۔۔۔۔۔

 اور خود واپس آکر بیوی پر تھپڑوں کی بارش کردی ، تھپڑ اور مکے مار مار کر تھک گیا مگر بیوی نے ایک لفظ زبان سے نہ نکالا ۔۔۔۔ جنون میں یہ بار بار پوچھتا رہا لڑکوں کا بتا دے تمہیں کچھ نہیں کہتا ۔۔۔بیوی کی خاموشی نے شوہر کے خدشات کو یقین میں بدل دیا اس نے پلاسٹک کا پائپ اٹھایا اور بیوی کو مارنا شروع کردیا۔ وقفے وقفے سے مار کھاتے کئی گھنٹے گزر گئے یہ عورت نہ بولی ، آخر اس نوجوان نے اپنے اوزاروں سے ہتھوڑی نکالی اور اپنی بیوی کو ضربیں لگانا شروع کر دیں  ، اس بدقسمت عورت کا جسم چور ہوتا گیا ، کمر ،بازو ، ٹانگیں ہتھوڑی کےو ار سے ٹوٹتی رہیں اور آخر کار بیوی بے ہوش ہو گئی ، یہ اسے ہوش میں لانے کے لیے بھی اسے تھپڑ ما۔رتا رہا ، لیکن نازک جان شاید اب روح کو آزاد کرنے والی تھی ۔

 اس خاتون کو ہوش نہ آیا اور شدید اذیت کے 10 گھنٹوں بعد یہ فوت ہو گئی ، شوہر یہ سب دیکھ کر بدحواس ہو گیا لیکن اسے یقین نہیں آیا تو قریب ہی سے ایک دوست کے گھر گیا اور اسے بلا لایا کہ دیکھو میری بیوی مر تو نہیں گئی ، دوست نے نبض چیک کی اور کہا یہ تو مر گئی ہے اور دوست وہاں سے نکل بھاگا ، اب یہ شخص کچھ گلیاں چھوڑ کر اپنے والدین کے گھر پہنچا ماں کو سارا ماجرا بتایا ، یہ سب اکٹھے ہو کر واپس آئے اور مری ہوئی لڑکی کو ہسپتال لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے موت کی تصدیق کردی ، پولیس کو اطلاع دی گئی ،

 یہ نوجوان وہیں موجود رہا ۔ آنکھیں پھاڑے سب کچھ دیکھتا رہا اور بالاآخر پولیس کے ساتھ تھانے چلا گیا جہاں اس نے ساری کہانی بتا کر اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ، پولیس نے اسے  چالان کرکے جیل بھیج دیا اور اب تک شاید اسے عمر قید کی سزا سنائی جا چکی ہو گی۔۔۔ اس سچی کہانی سے ثابت ہوا کہ انسان مجرم نہیں ہوتا ، یہ معاشرہ ہوتا ہے اور حالات ہوتے ہیں جو ایک انسان کو  پلک جھپکتے  حیوان بنا ڈالتے ہیں ۔۔۔۔

آپ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں

Loading