Daily Roshni News

ابن عربی ۔۔۔ ایک حیرت انگیز روحانی شخصیت۔۔۔قسط نمبر2

ابن عربی

ایک حیرت انگیز روحانی شخصیت

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ ابن عربی ۔۔۔ ایک حیرت انگیز روحانی شخصیت) خاندان کا شمار ملک کے باوقار لوگوں میں ہوتا تھا ۔ اندلس کے صوبہ اشبیلہ کے حاکم کے یہاں شیخ ابن عربی کا اپنے والد کے ساتھ آنا جانا لگا رہتا تھا۔ حصول علم کے بعد آپ پہلے پہل ڈیڑھ دو سال کا عرصہ سرکاری ملازمت میں بطور فوجی (الجندی) اور پھر کاتب (سیکرٹری) کے عہدے پر فائز ہوئے ، جودیوان سلطنت کا اہم عہد ہ تھا۔

اس وقت آپ کی عمر میں برس کی تھی آپ اشبیلیہ کے کسی امیر کی دعوت میں مدعو تھے، جہاں دوسرے روسیاہ کے بیٹوں کو بھی بلایا گیا تھا۔ کھانے کے بعد جب جام گردش کرنے لگا اور صراحی آپ تک پہنچی اور آپ نے جام کو ہاتھ میں لے کر پینا چاہ رہے تھے کہ اچانک ایک شخص کی آواز ان کو سنائی دیتی ہے۔

نوجوان ….! تمہارا کام اس طرح کی مجلسوں میں شرکت کرنا نہیں ہے۔“ اس واقعہ کے بعد ابن عربی نے جام ہاتھ سے پھینک دیا اور پریشانی کے عالم میں دعوت سے باہر نکل آئے۔ دورازے پر آپ نے وزیر کے چرواہے کو دیکھا، جس کا لباس مٹی سے اٹا ہوا تھا۔ وہ بکریاں لیے چلا جار ہا تھا۔ آپ اس کے ساتھ ہو لئے اور شہر سے باہر جا کر اپنا شاہانہ لباس اس چرواہے کو دیا اور اس کے بوسیدہ کپڑے پہن کر کئی گھنٹوں تک ویرانوں میں گھومتے رہے۔ اس دوران ان کے دل کی کیفیت بدل چکی تھی۔ شاہی ماحول سے آپ کا دل اچاٹ ہونے لگا تو آپ نے ملازمت سے ہاتھ اٹھالیا اور زہد و فقر کو اپنا شعار بنایا۔

محی الدین ابن عربی کے مرشد شیخ یوسف نے آپ کی سمت نمائی میں اہم کردار ادا کیا۔ تصوف میں اندلس کے بزگوں اور صوفیوں سے علم حاصل کرنے کے بعد مزید حصول علم کی خاطر ابن عربی نے دور دراز کے سفر کیے آپ نے کئی علاقوں میں درس و تدریس کا سلسلہ قائم کیا۔ ابن عربی نے 590ھ (1194ء) میں پہلی بار اندلس کی سر زمین سے باہر کا سفر کیا۔ وہ اندلس سے شمالی افریقہ گئے۔ یہاں آپ کو ایسے صوفیا کی صحبت میسر آئی جنہوں نے آپ کی روحانی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ نے تونس میں ابوالقاسم بن قسی نامی صوفی کی کتاب ضلع التعلمین کا درس لیا۔ بعد میں آپ نے اس کتاب کی شرح پر ایک مستقل رسالہ تصنیف کیا۔

اس سفر میں آپ کی ملاقات ابو محمد عبد العزیز بن ابو بكر القریشی المہدوی کے ساتھ ہوئی۔ ان کی فرمائش پر آپ نے اندلس کے صوفیا کے تذکروں پر مشتمل اپنی کتاب روح القدس لکھی۔ اس کتاب میں پچپن صوفیا کا تعارف کرایا گیا، جن کے ساتھ آپ کا رابطہ رہا یا جن کے ساتھ آپ کا شاگرد گی کا رشتہ تھا۔

شمالی افریقہ میں شیخ محی الدین ابن عربی نے ایک خانقاہ قائم کی۔ دو سال کے عرصے میں وہاں ان کا ایک بڑا حلقہ بن گیا۔

اندلس کے ساتھ آپ کا رابطہ بحال تھا کیونکہ آپ کے والدین، قریبی عزیز واقارب وہاں مستقل رہائش پذیر تھے۔ ابن عربی کو جلد ہی اندلس لوٹنا پڑا، جس کا سبب آپ کے والد کی وفات تھی۔ اندلس واپسی کے راستے میں ابن عربی مریہ کے مقام پر ، جہاں پر ابن عریف ( مصنف محاسن المجالس) نے صوفیوں کے لئے تربیتی دائرہ قائم کر رکھا تھا پہنچے ، یہاں آپ نے اپنی کتاب مواقع النجوم صرف گیارہ روز کے اندر تصنیف کی۔ یہاں سے آپ آبائی وطن مرسیہ پہنچے ۔ وہاں والد کی جائیداد کو فروخت کر کے آپ اشبلیہ پہنچے اور چند برس گھر والوں کے ساتھ رہے۔

آپ پر گھر بار کی ذمہ داری آن پڑی تھی ہر طرف سے ابن عربی پر زور ڈالا جانے لگا کہ وہ ریاست کی ملازمت اختیار کر لیں، مگر آپ نے انکار کر دیا۔ آپ اپنی والدہ اور دو بہنوں کے ساتھ فاس (مراکش) آگئے اور وہیں اپنی بہنوں کی شادی کی ذمہ داری سے سبکدوش ہو کر اپنی والدہ کی خدمت میں مصروف ہو گئے۔ چند سال کے بعد ابن عربی کی والدہ

بھی واصل بحق ہو گئی۔

اس کے بعد اپنی دیرینہ خواہش مکہ مکرمہ کی زیارت کے بارے میں سوچنے لگے ۔ والدہ کی بیماری اور بہنوں کی ذمہ داری کے سبب اس آپ خواہش کو ملتوی کرتے رہے تھے۔

596ھ (1199ء) میں ابن عربی نے اندلس سے مکہ مکرمہ کا سفر کیا وہ براستہ بنجابیہ (الجزائر) ، تیونس، مصر، القدس (یروشلم) سے ہوتے ہوئے مکہ مکرمہ پہنچے اور تقریبا دو سال وہاں قیام کیا۔ ابن عربی کی تصنیفی سر گرمیوں کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ آپ نے اس دوران میں اپنی کتاب روح القدس کے مسودے کو مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ تین دوسری کتابیں (مشکوۃ الانوار، حلیة الابدال اور تاج الرسائل) تحریر کیں۔ انہوں نے ایک معرکۃ الآراء کتاب الفتوحات المکیہ تصنیف کی۔ یہ تصنیف آپ نے 599ھ میں لکھنا شروع کی۔ جس کی تکمیل 28 برس بعد 627ھ میں ہوئی۔ یہ کتاب 37 جلدوں، 560 ابواب پر مشتمل ہے۔ عبد الوہاب الشعراني (المتوفى 973ھ) نے فتوحات مکیہ کا خلاصہ لواقع الانوار القدسية المنتقاة من الفتوحات المکیہ کیا۔ اس خلاصہ کا خلاصہ بعنوان الكبريت الاحمر من علوم الشیخ الاکبر بھی ہوا۔

ابن عربی نے اپنی مختصر زندگی میں آٹھ سو سے زائد کتابیں لکھیں …. اس دوران آپ نے تجاز سے لے کر مراکش، حلب اور ایران عراق سے لے کر ترکی، مصر اور یروشلم تک سفر در سفر تلاش حق ، ریاضت اور تبلیغ میں وقت گزارا۔

اس دور میں ذرائع ابلاغ بہت محدود ہوتے تھے اور سفر دشوار گزار تھے ، ان کٹھن مسافتوں میں بھی ان کا پڑھنے لکھنے کا سلسلہ جاری رہا۔ بعض جگہ آپ کی کتابوں کی تعداد 651 دی گئی ہے، جب کہ عثمان یحیی کی بلیو گرافی میں آپ کی 846 کتابوں کے عنوان درج کئے گئے ہیں۔

آج ابن عربی کی پانچ سو سے زائد کتا بیں ؟ حالت میں ہیں۔ یہ کتا بیں بھی چند صفحات پر من کتا بچے یا پھر رسالے کی طرح نہیں تھیں صرف ایک الفتوحات المکیہ کے مجموعی صفحات کی تعداد پندرہ ہزار ہے۔

کہا جاتا ہے کہ آپ کے لکھنے کی رفتار فی روز تین جزو تھی۔ سفر یا حضر میں بھی تصنیف و تالیف کا کام جاری رہتا۔ ابن عربی، عربی نظم و نثر پر یکساں دسترس رکھتے تھے۔ جو بات نثر میں بھی لکھنا محال ہو اس کو نظم میں بے تکلف بیان کر دیتے تھے۔ شعر کہنے کا ملکہ فطری تھا اور اکثر و بیشتر فی البدیہہ اشعار کہتے تھے۔ عربی کی لغت اور محاورہ پر ان کو غیر معمولی قدرت۔۔۔جاری ہے۔

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ اکتوبر 2025

Loading