Daily Roshni News

قلعۂ الموت اور اسماعیلی ریاست — تاریخ کا ایک پراسرار باب

قلعۂ الموت اور اسماعیلی ریاست — تاریخ کا ایک پراسرار باب

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )تاریخِ اسلام میں کچھ مقامات ایسے ہیں جو محض اینٹ اور پتھر نہیں بلکہ نظریات، تحریکوں اور انقلابات کی علامت بن جاتے ہیں۔ قلعۂ الموت بھی ایسا ہی ایک مقام ہے، جو صدیوں تک خوف، حکمت، راز اور فکری مزاحمت کی علامت بنا رہا۔ یہ قلعہ اسماعیلی ریاست کا مرکز تھا، جس نے عباسی خلافت اور سلجوقی سلطنت جیسے طاقتور نظاموں کو فکری اور عملی طور پر چیلنج کیا۔

قلعۂ الموت کہاں واقع ہے؟

قلعۂ الموت موجودہ ایران کے صوبہ قزوین کے شمال میں واقع ہے۔ یہ قلعہ ایک بلند و بالا پہاڑی چوٹی پر تعمیر کیا گیا تھا، جس کے چاروں طرف گہری وادیاں اور خطرناک راستے تھے۔

بلندی: تقریباً 2100 میٹر

رسائی: انتہائی محدود اور دشوار

دفاعی حیثیت: ناقابلِ تسخیر

اسی ناقابلِ رسائی مقام نے اسے ایک مضبوط سیاسی اور عسکری مرکز بنا دیا۔

قلعۂ الموت کا مطلب

لفظ “الموت” کے بارے میں دو آراء ملتی ہیں:

  1. بعض کے نزدیک یہ لفظ “عقاب کا گھونسلہ” (Eagle’s Nest) کے معنی رکھتا ہے

  2. جبکہ عام لوگ اسے “موت کا قلعہ” سمجھنے لگے، جس نے اس کے خوف کو مزید بڑھا دیا

اسماعیلی تحریک کا پس منظر

اسماعیلی فرقہ، شیعہ اسلام کی ایک شاخ ہے، جو حضرت امام جعفر صادقؒ کے بعد امامت کے مسئلے پر الگ ہوا۔

اسماعیلی، امام اسماعیل بن جعفرؒ کو ساتواں امام مانتے ہیں

جبکہ اثنا عشری شیعہ، امام موسیٰ کاظمؒ کو

یہ اختلاف وقت کے ساتھ ایک منظم فکری، مذہبی اور سیاسی تحریک میں بدل گیا۔

حسن بن صباح — قلعۂ الموت کا معمار

حسن بن صباح کون تھا؟

حسن بن صباح (وفات: 1124ء) ایک غیر معمولی ذہانت رکھنے والا شخص تھا:

عالمِ دین

فلسفی

سیاسی حکمتِ عملی کا ماہر

اسماعیلی داعی

قلعۂ الموت پر قبضہ (1090ء)

حسن بن صباح نے بغیر کسی بڑی جنگ کے، چالاکی اور دعوتی حکمت کے ذریعے قلعۂ الموت پر قبضہ کر لیا۔

کہا جاتا ہے کہ:

> “قلعے کے محافظوں کو یہ بھی خبر نہ ہوئی کہ قلعہ ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے”

اسماعیلی ریاست کا قیام

قلعۂ الموت محض ایک قلعہ نہیں رہا بلکہ:

ایک خودمختار ریاست

ایک فکری مرکز

ایک انقلابی تحریک کا ہیڈ کوارٹر بن گیا

اس ریاست کی خاص بات یہ تھی کہ:

اس کا کوئی روایتی لشکر نہیں تھا

مگر اس کا اثر سلطنتوں تک پھیلا ہوا تھا

فدائی نظام — حقیقت اور افسانہ

اسماعیلیوں کے بارے میں سب سے زیادہ مشہور اور متنازع بات “فدائی” ہیں۔

فدائی کون تھے؟

خاص تربیت یافتہ نوجوان

انتہائی وفادار

جان قربان کرنے کے لیے تیار

یہ لوگ دشمن حکمرانوں، وزیروں اور جرنیلوں کو نشانہ بناتے تھے۔

> یہی لفظ آگے چل کر مغربی زبانوں میں Assassin بن گیا

حشیش کا الزام

تاریخی طور پر یہ الزام لگایا گیا کہ فدائیوں کو نشہ آور چیزیں دے کر کنٹرول کیا جاتا تھا،

لیکن جدید مؤرخین اس نظریے کو زیادہ تر سلجوقی اور صلیبی پروپیگنڈا قرار دیتے ہیں۔

قلعۂ الموت کا علمی پہلو

یہ بات کم لوگ جانتے ہیں کہ قلعۂ الموت:

ایک بڑا کتب خانہ

علمی و فکری مرکز

فلسفہ، ریاضی، فلکیات اور دینی علوم کا گڑھ تھا

یہاں علمی مباحث اور مکالمے ہوتے تھے، جو اسماعیلی ریاست کو محض عسکری نہیں بلکہ فکری طاقت بھی بناتے تھے۔

سلجوقیوں اور خلافت سے ٹکراؤ

اسماعیلی ریاست:

عباسی خلافت

سلجوقی سلطنت

دونوں کے لیے ایک خطرہ سمجھی جاتی تھی، کیونکہ یہ ریاست:

مرکزی اقتدار کو تسلیم نہیں کرتی تھی

فکری آزادی کی داعی تھی

منگول حملہ اور قلعۂ الموت کا زوال

1256ء — ہلاکو خان کا حملہ

منگول سردار ہلاکو خان نے ایران پر حملہ کیا اور:

قلعۂ الموت کو فتح کیا

کتب خانے جلا دیے

اسماعیلی ریاست کا خاتمہ کر دیا

یوں تقریباً 166 سالہ اسماعیلی ریاست تاریخ کا حصہ بن گئی۔

آج قلعۂ الموت:

ایک تاریخی کھنڈر

سیاحتی مقام

مؤرخین کے لیے تحقیق کا خزانہ ہے

یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ:

> طاقت ہمیشہ تلوار سے نہیں،

کبھی خیال، نظم اور حکمت سے بھی قائم ہوتی ہے۔

Loading