ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اوَیس قَرَنیؒ کی مکمل داستان — وہ نام جسے رسولِ خدا ﷺ نےپہچان لیا
اوَیس بن عامر، جنہیں تاریخ اوَیس قَرَنیؒ کے نام سے
جانتی ہے، یمن کے قبیلہ قَرَن سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ اس
زمانے میں زندہ تھے جب رسولِ خدا حضرت محمد ﷺ اس
دنیا میں موجود تھے، مگر اس کے باوجود وہ مدینہ منورہ آ کر رسولِ خدا ﷺ کی زیارت نہ کر سکے۔ اس کی وجہ کوئی دنیاوی مجبوری نہیں تھی، بلکہ ایک ایسا فریضہ تھا جسے انہوں نے ہر خواہش پر مقدم رکھا: اپنی والدہ کی خدمت۔
اوَیس قَرَنیؒ کی والدہ ضعیف تھیں۔ معتبر اسلامی مکتوبات میں یہ بات منقول ہے کہ اوَیسؒ ان کی خدمت میں دن رات مصروف رہتے تھے، اسی لیے وہ مدینہ نہ جا سکے۔ دل میں رسولِ خدا ﷺ کی شدید محبت موجود تھی، مگر ماں کی اجازت اور خدمت نے قدم روک رکھے تھے۔
اسی دوران رسولِ خدا ﷺ نے اپنے بعض اصحاب کے سامنے یمن کے ایک شخص کا ذکر فرمایا۔ یہ بات معتبر حدیثی و تاریخی کتب میں منقول ہے کہ رسولِ خدا ﷺ نے اوَیسؒ کی پہچان بتائی، ان کے اخلاص اور باطنی مقام کا ذکر فرمایا، اور امت کو متوجہ کیا کہ ایک ایسا بندہ ہے جسے لوگوں کی نظروں میں شہرت حاصل نہیں، مگر اللہ کے نزدیک اس کا مقام بلند ہے۔
جنگِ اُحد کی خبر
جب جنگِ اُحد پیش آئی اور اس کے بعد یہ خبر پھیلی کہ رسولِ خدا ﷺ زخمی ہوئے ہیں اور دندانِ مبارک کو تکلیف پہنچی ہے، تو یہ خبر یمن تک بھی پہنچی۔
اوَیس قَرَنیؒ نے جب یہ سنا تو یہ خبر ان کے لیے ایک عام اطلاع نہ تھی، بلکہ دل کو چیر دینے والا واقعہ تھا۔
روایات میں منقول ہے کہ اوَیسؒ بار بار یہ پوچھتے رہے کہ رسولِ خدا ﷺ کا کون سا دندان زخمی ہوا ہے، مگر جب انہیں درست طور پر معلوم نہ ہو سکا، تو انہوں نے یہ سوچا کہ اگر میرے آقا ﷺ کو تکلیف پہنچی ہے اور میں یہ نہیں جانتا کہ کس دندان کو، تو میں کسی ایک دانت کو کیسے باقی رکھوں؟
چنانچہ روایات کے مطابق اوَیس قَرَنیؒ نے اپنے دانت ایک ایک کر کے نکال دیے۔
یہ عمل کسی اعلان کے لیے نہ تھا، نہ کسی کو دکھانے کے لیے۔
یہ ایک تنہا دل کا ردِعمل تھا، جو رسولِ خدا ﷺ کے غم میں بے قرار ہو گیا تھا۔
یہ واقعہ قرآنِ مجید میں مذکور نہیں، مگر تاریخی و زُہّاد کی کتب میں اس طرح نقل ہوا ہے کہ اوَیسؒ نے اس تکلیف کو خود پر برداشت کیا، کیونکہ رسولِ خدا ﷺ کی تکلیف ان کے لیے اپنی ذات سے زیادہ اہم تھی۔
اللہ کی طرف سے راحت — روایات کا بیان
روایات میں یہ بھی منقول ہے کہ جب اوَیس قَرَنیؒ نے اس سخت تکلیف کو برداشت کیا، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی رحمت فرمائی۔
ان روایات کے مطابق، اللہ نے زمین سے ایک درخت پیدا فرمایا جس کے پھل سے اوَیسؒ کو فائدہ پہنچا۔
بعض تاریخی مکتوبات میں اس درخت کو کیلے کے درخت کے طور پر بیان کیا گیا ہے، اور یہ ذکر کیا گیا ہے کہ اس کے پھل سے اوَیسؒ کو راحت نصیب ہوئی۔
یہ بیان قرآن کا نص نہیں، مگر اہلِ تاریخ اور روحانی روایات میں اسی انداز سے منقول ہے۔
اوَیس قَرَنیؒ کا ذکر بعد کے زمانوں میں
اوَیس قَرَنیؒ بعد کے ادوار میں بھی اپنی سادگی، عبادت اور خاموشی کے لیے معروف رہے۔ انہوں نے نہ کبھی شہرت چاہی، نہ مقام، نہ پہچان۔
ان کا نام اسی نسبت سے زندہ رہا کہ رسولِ خدا ﷺ نے ان کا ذکر فرمایا، حالانکہ انہوں نے ظاہری ملاقات کا شرف حاصل نہیں کیا تھا۔
اوَیس قَرَنیؒ کی شہادت بعد کے زمانے میں واقع ہوئی، اور تاریخ نے انہیں ایک ایسے انسان کے طور پر محفوظ کیا جو نظر نہیں آیا، مگر پہچانا گیا؛ جو سامنے نہیں تھا، مگر دل کے بہت قریب تھا۔
یہ پوری تحریر
نہ کسی خود ساختہ کہانی پر مبنی ہے،
نہ کسی غیر ثابت بات کو قرآن کا درجہ دیا گیا ہے،
اور نہ کسی لفظ میں جذباتی بناوٹ کی گئی ہے۔
جہاں بات قطعی نص کی ہے، وہ واضح رکھی گئی ہے،
اور جہاں بات روایات کی ہے، وہاں اسے روایت ہی کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
اگر یہ پوسٹ اپکو اچھا لگے تو اگے شیئر کرو اور پیج کو فالو کرو کہ مزید ایسے علم گفتگو اپ سے شیئر ہوتا جائے
Info Planet #infoplanet
![]()

