نظم مرزا غالب از علامہ اقبال
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )محفلِ ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دار
جس طرح ندّی کے نغموں سے سکُوتِ کوہسار
مشکل الفاظ:
محفلِ ہستی : وجود، دنیا کی محفل۔
بربط : سِتار کی طرح کا ساز۔
سکوُت: خاموشی۔
کوہسار : پہاڑ۔
تشریح:
دُنیا کی محفل تیری شاعری کی موسیقی سے مالا مال ہے، بالکل اسی طرح جیسے پہاڑوں کا سکُوت اور خاموشی ندی کے نغموں سے دِلکش ہو جاتے ہیں۔
تبصرہ:
یہاں اقبال اندازِ فکر یعنی شاعری کی تعریف کرتے نظر آتے ہیں اور اس شاعری کا موازنہ فنِ موسیقی سے کرتے ہیں، یعنی غالب کی شاعری کی صوتی صفات کو سراہتے ہیں۔
تشبیہ سے شعر کی خوبصورتی میں اضافہ ہوتا ہے، یعنی وہ دنیا جو سکونت پزیر تھی، پہاڑوں کی مانند ویران اور خاموش تھی، اُس میں تیری شاعری بربط بن کر آئی اور وہی کام کیا جو ندی کا جل ترنگ پہاڑوں کی ویرانی دور کرنے کے لیے کرتا ہے۔
تیرے فردوسِ تخیّل سے ہے قدرت کی بہار
تیری کشتِ فکر سے اُگتے ہیں عالم سبزہ وار
مشکل الفاظ:
فردوسِ تخیّل: تخیّل کی بنائی ہوئی جنت۔
کِشتِ فکر: فکر کی کھیتی۔
سبزہ وار: سبزہ کی طرح۔
تشریح:
تیرے تخیّل کی جنت سے قدرت میں بہار ہے۔ تیری فکر کی کھیتی سے کئی سرسبز دنیائیں وجود میں آئی ہیں۔
تبصرہ:
اقبال، غالب کے تخیل اور سوچ کو جنت کا علیٰ ترین مقام بتاتے ہیں، جس کو قدرت میں بہار کا مرتبہ حاصل ہے۔
غالب کی کشتِ فکر کا ذکر بھی بہت معنی خیز ہے۔ جہاں غالب کی زبان، شاعری اور فکر نے اتنے کمالات کیے، وہیں، اُن کے شاگردوں میں اُردو کے بڑے بڑے نام شامل ہیں۔ اُن میں ایک نام مولانا الطاف حسین حالی کا بھی ہے، جن کا شمار اُردو نثر نگاری کے پانچ ستونوں میں ہوتا ہے۔ خود اقبال نے فکر و فن کی سطح پر جن لوگوں سے روشنی حاصل کی ہے، اُن میں بھی غالب شامل ہیں۔ غالب کے یہ شاگرد اپنے آپ میں ادب اور فکر کی ایک سر سبز و شاداب دُنیا ہیں اور اِس کا سہرا غالب کے سر جاتا ہے۔
زندگی مُضمرَ ہے تیری شوخیِ تحریر میں
تابِ گویائی سے جُنبش ہے لبِ تصویر میں
مشکل الفاظ:
مُضمَر : چھُپی ہوئی۔
تابِ گویائی: بولنے کی طاقت۔
جُنبش: ہلکی سی حرکت۔
تشریح:
تیری تحریر کی شوخی زندگی کو اپنے اندر چھُپائے ہوئے ہے۔ تُو نے ہونٹ کی جو تصویر کھینچی ہے، معلوم ہوتا ہے کہ وہ بولنے کے لیے حرکت کر رہے ہیں۔
تبصرہ:
یہاں اقبال دیوانِ غالب کے پہلے شعر کی طرف اشارہ کر رہے ہیں:-
؎ نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا
یہاں غالب اپنی شاعری پرسوالیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے اُس کو شوخیِ تحریر کہتے ہیں۔ اقبال اُس شوخیِ تحریر میں زندگی کو چھُپا ہوا قرار دیتے ہیں اور کاغذی پیرہن یعنی لفظوں سے تُو نے (غالب نے) جو لب کی تصویر بنائی ہے، وہ یوں زندہ لگتی ہے، گویا اُس کے ہونٹ ہل رہے ہوں اور وہ ابھی بولنے لگے۔ یہاں غالب کی حقیقت کے قریب منظر کشی کو اقبال خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔
اقبال غالب کے کلام کی حرارت، حرکت، بلند مقصدیّت اور زندگی سے بھرپور شاعری کے دِلدادہ ہیں اور یہی بات غالب اور اقبال کے کلام کو جوڑتی ہے۔
جاری ہے۔
#علامہ_اقبال #اردوشاعری #غزل #اقبال #کلیات_اقبال #allamaiqbalpoetry #IqbalKaPaigham #IqbalSpirit #iqbalbooks #RumiOfTheEast
![]()

