🌺 شعوانہ: گناہوں سے ولایت تک کا سفر 🌺
(ایک سچی اور دل دہلا دینے والی توبہ کی کہانی)
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )بصرہ کی گلیوں میں ایک نام سب کی زبان پر تھا…
شعوانہ…
حسن، دولت اور شہرت کی جیتی جاگتی تصویر!
اتنی خوبصورت کہ دیکھنے والا مبہوت رہ جاتا،
اور آواز ایسی کہ ہر خوشی و غم کی محفل اس کے بغیر ادھوری سمجھی جاتی۔
اس کے سنگ ساز، کنیزیں، لباس، زیورات… سب کچھ شاہی تھا۔
لیکن…
وہی شعوانہ ایک دن اپنی ترک و رومی کنیزوں کے ساتھ گزر رہی تھی،
کہ حضرت صالح المری رحمۃ اللہ علیہ کے دروازے کے سامنے سے اس کا گزر ہوا۔
اندر سے رونے، سسکیوں، آہوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔
شعوانہ چونکی، ناراض ہوئی، بولی:
“یہ کون سی نوحہ خوانی ہے جس میں مجھے نہیں بلایا گیا؟”
ایک کنیز کو اندر بھیجا، مگر وہ واپس نہ لوٹی!
دوسری بھیجی… وہ بھی نہ آئی…
تیسری بھی غائب…
چوتھی لوٹی، چہرے پر خوف و خشیت کے آثار کے ساتھ!
بولی:
“بی بی! یہ نوحہ نہیں، یہاں لوگ اپنے گناہوں پر رو رہے ہیں۔
اللہ کے خوف میں سسکیاں لے رہے ہیں، یہ ماتم نہیں… توبہ کی محفل ہے!”
پہلے تو شعوانہ ہنسی، پھر دل میں ٹھان لی:
“چلو، ذرا دیکھ آئیں کیسا رونا دھونا ہے!”
لیکن قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔
جوں ہی وہ مجلس میں داخل ہوئی،
اس کے دل پر پہلا زخم پڑا… پھر دوسرا… پھر تیسرا…
دل پگھل گیا!
پہلی بار اسے اپنی زندگی پر ندامت ہوئی…
پہلی بار آنکھوں میں شرم آئی…
دل میں سوال اٹھا:
“افسوس! میں نے اپنی زندگی گناہوں میں برباد کر دی…
کیا اللہ مجھے معاف کرے گا؟ کیا ایسی نافرمان بھی بخش دی جاتی ہے؟”
حضرت صالح المری نے کہا:
“ہاں! یہی وعدے وعیدیں نافرمانوں کے لیے ہیں، تاکہ وہ لوٹ آئیں!”
مگر شعوانہ کی توبہ آسان نہ تھی…
وہ کہنے لگی:
“میرے گناہ تو آسمان کے ستاروں اور سمندر کی جھاگ سے بھی زیادہ ہیں!”
حضرت نے جواب دیا:
“اگر تیرے گناہ شعوانہ سے بھی بڑھ کر ہوں، تب بھی رب معاف کرنے والا ہے!”
یہ سن کر وہ چیخ مار کر رو پڑی!
اتنا روئی کہ ہوش کھو بیٹھی…
جب ہوش آیا، تو بولی:
“حضرت! میں ہی وہ شعوانہ ہوں جس کے گناہوں کی مثال دی جاتی ہے!”
پھر وہ لمحہ آیا، جو تاریخ بن گیا!
اس نے اپنے قیمتی کپڑے اتار دیے، زیورات اتار دیے،
پورا مال جو گناہوں سے کمایا تھا، غرباء میں بانٹ دیا،
اور سب غلام و کنیزیں آزاد کر دیں!
پھر وہ دنیا سے کٹ گئی…
اپنے گھر میں مقید ہو کر
چالیس سال تک عبادت، گریہ و زاری،
اور سچی توبہ کے ساتھ زندگی گزار دی۔
ہر رات رب سے گڑگڑا کر کہتی:
“اے وہ ذات جو توبہ کرنے والوں کو محبوب رکھتی ہے…
مجھ پر رحم فرما!
میں کمزور ہوں، تیرے عذاب کو سہہ نہیں سکتی…
مجھے اپنے عذاب سے بچا لے اور اپنی زیارت سے مشرف فرما!”
💔 اور بالآخر…
چالیس برس بعد، وہ دنیا سے یوں رخصت ہوئی کہ
لوگ گناہوں کی مثال دینے کی بجائے
اسے “اللہ کی ولیہ” کہنے لگے!
🌿 یا اللہ! ہمیں بھی ایسی توبہ کی توفیق دے، جو دل کو بدل دے، آنکھوں کو اشکبار کرے، اور زندگی کو سجدوں سے سجا دے…
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں ✨
![]()

