Daily Roshni News

فساق حاملینِ قرآن — ایک لرزا دینے والی تنبیہ

فساق حاملینِ قرآن — ایک لرزا دینے والی تنبیہ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )بکر بن خنیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں:“جہنم میں ایک گھاٹی ہے، جس سے خود جہنم روزانہ سات مرتبہ پناہ مانگتی ہے۔ اس گھاٹی کے اندر ایک کھائی ہے، اور وہ کھائی اور جہنم دونوں اس سے روزانہ سات مرتبہ پناہ مانگتے ہیں۔ اس کھائی میں ایک اژدہا ہے، اور یہ اژدہا، کھائی، گھاٹی اور جہنم—سب ایک دوسرے سے روزانہ سات مرتبہ پناہ مانگتے ہیں۔”

پھر فرمایا گیا:

“اس اژدہا کا پہلا شکار فساق حاملینِ قرآن ہوں گے۔”

وہ فریاد کریں گے:

“یا رب! ہمیں بت پرستوں سے پہلے عذاب کیوں دیا جا رہا ہے؟”

جواب ملے گا:

“جاننے والوں کا معاملہ لا علموں جیسا نہیں ہوتا۔”

ایوب سختیانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“بدعمل قاریِ قرآن (عالمِ دین) سے زیادہ برا کوئی نہیں۔”

مالک بن دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں:

“مجھے کھلے فسق و فجور میں مبتلا شخص سے زیادہ خوف بدعمل حاملِ قرآن کے انجام کا ہے، کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوگا۔”

فضیل بن عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“قرآن عمل کے لیے نازل ہوا تھا، مگر لوگوں نے اس کی قراءت کو پیشہ بنا لیا۔”

پوچھا گیا: عمل کیسے ہو؟

فرمایا:

“قرآن کے حلال کو حلال جانو، حرام کو حرام سمجھو، اس کے احکام پر عمل کرو، اس کی ممانعتوں سے بچو، اور اس کی آیات میں تدبر کرو۔”

ابو زرین رحمہ اللہ آیت

«يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ»

کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

“یعنی قرآن کی ایسے پیروی کرنا جیسے اس کا حق ہے—عمل کے ساتھ۔”

نبی کریم ﷺ نے بھی اسی آیت کی تفسیر میں فرمایا:

“یعنی وہ قرآن کی کما حقہ پیروی کرتے ہیں۔”

(علم برائے عمل — خطیب بغدادی)

🌿 “ہندو پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا” — قائداعظمؒ کی نظر میں ایک تلخ حقیقت

جناح صاحب میری باتیں پوری توجہ سے سنتے رہے۔ چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ وہ ان باتوں سے خوش نہیں، مگر صبر و تحمل کے ساتھ سب کچھ سنتے رہے۔ آخرکار بزرگوں کے انداز میں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:

“میں تمہارے والد کی مانند ہوں۔ سیاست میں میرے بال سفید ہوئے ہیں۔ میرا تجربہ یہی ہے کہ ہندو پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ کبھی تمہارے مخلص دوست نہیں بن سکتے۔ میں نے زندگی بھر انہیں اپنانے کی کوشش کی، مگر ان کا اعتماد حاصل نہ کر سکا۔ ایک دن آئے گا جب تمہیں میری بات یاد آئے گی، اور افسوس ہوگا۔”

پھر فرمایا:

“تم اس قوم پر کیسے بھروسا کر سکتے ہو جو تمہارے ہاتھ سے پانی پینا بھی گناہ سمجھتی رہی ہے؟ ان کے سماج میں تمہارے لیے کوئی جگہ نہیں۔ وہ تمہیں ‘ملیچھ’ یعنی ناپاک سمجھتے ہیں۔”

اسی موقع پر انہوں نے ایک واقعہ سنایا:

“بمبئی میں ایک دن میں اپنی بیوی کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا کہ نوکر نے ایک ملاقاتی کا کارڈ پیش کیا۔ یہ مشہور ہندو رہنما پنڈت مدن موہن مالویہ تھے۔ میں انہیں اندر لے آیا اور کھانے میں شریک ہونے کی دعوت دی۔

انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا:

‘آپ جانتے ہیں، مذہبی وجوہات کی بنا پر میں آپ کے ساتھ ایک میز پر کھانا نہیں کھا سکتا۔’”

(آتشِ چنار — شیخ محمد عبداللہ)

🌹♥️🤲🌸🌼

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہو، دل کو چھو گئی ہو یا سوچنے پر مجبور کر گئی ہو

تو مجھے فالو ضرور کریں تاکہ ایسی مزید بامعنی اور فکر انگیز تحریریں آپ تک پہنچتی رہیں۔

Loading