Daily Roshni News

مراقبہ کے تین مراحل ہیں

مراقبہ کے تین مراحل ہیں

۱۔ ذکر
۲۔ فیض
۳۔ استغراق

۱) مراقبہ کہتے ہیں اللہ کی رحمت اور فیض کے انتظار میں بیٹھنا جب آپ مراقبہ کرتے ہیں انتظار فیض کرتے ہیں تو آپ کو تصور کے ساتھ اپنے لطائف کی طرف متوجہ ہونا پڑتا ہے اور اللہ اللہ کا ذکر کرتے ہیں جس سے وہ لطائف جو پہلے ہی چل رہے ہوتے ہیں مزید تیز ہو جاتے ہیں یا محسوس ہو جاتے ہیں ذکر (اللہ اللہ اللہ) اور (اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو) سے تمام لطائف کو روشن کیا جاتا ہے

۲) جب آپ کو فیض/توجہ ملنے لگتی ہے تو آپ کو لطائف متوجہ ہو کر تیزہو کر اس فیض کو ریسیو کرنے لگتے ہیں جیسے لطائف کو گرپ میں لے کر تیز کردیا گیا ہو اس فیض/توجہ کے حصول کے ساتھ ہی آپ کے لطائف رسپانس دینے لگتے ہیں اور ٹھنڈک حدت خوشبو وغیرہ محسوس ہونے لگتی ہے اسی حد تک ذکر مراقبہ کا حکم ہے ان دو کیفیات کے ساتھ آپ تصور میں اپنے آپ کو ڈوبتا محسوس کرتے ہیں کہ تصور میں کعبہ کا طواف کر رہا ہوں حجراسود کے بوسے دے رہا ہوں یا روضہ رسول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہوں

۳) مندرجہ بالا دو کیفیات ذکر و فیض کے بعد اچانک آپ کا ذہن ایک خاص لمحہ میں بالکل خیالات سے پاک ہو کر خالی ہو جاتا ہے اور آپ استغراق کی حالت میں یا مشاھدہ میں چلے جاتے ہیں یا نیند کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے ا

یاد رکھیں لطائف آپ کے اندر ہیں ان کو آپ کی توجہ ہی سے چلنا ہے جب کہ فیض خارج سے باہر سے آنا ہے جو آپ کی چاہت طلب اور مانگنے اور تصور پر منحصر ہے اصل مطلوب ذکر و فیض ہے

سورہ ق میں بہت خوبصورت انداز میں سمجھایا گیا ہے

اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِمَنْ کَانَ لَہٗ قَلْب’‘ اَوْ اَلْقَی السَّمْعَ وَھُوَ شَھِیْد’‘ (سورہ ق:37)

ترجمہ:بیشک اس میں انتباہ اور تذکر ہے اس شخص کے لیے جو صاحب دل ہے(یعنی غفلت سے دوری اور قلبی بیداری رکھتا ہے)یا کان لگا کر سنتا ہے (یعنی توجہ کویک سو اور غیر سے منقطع رکھتا ہے) اور وہ (باطنی) مشاہدہ میں ہے (یعنی حسن و جمال الوہیت کی تجلیات میں گم رہتا ہے)

مراقبہ کا مقصد عین الیقین اور حق الیقین حاصل کرنا ہے قران کریم اس علم کے ادراک کو بیدار کرنے کے لئے جو مختصر اور جامع طریقہ بتاتا ہے اس کے تین اجزاء ہیں

۱۔ وہ اس علم کی چاہت طلب والا دل تو رکھے۔روحانی مشاھدوں کا شوقین اور اس کی فہم کا طالب صادق تو ہو۔اللہ اور اس کے حبیب کی محبت کی طلب اس کے دل کے گوشے میں کہیں موجود تو ہو۔محض یکسر مسترد کر دینے والا نہ ہو جو بغیر ثبوت حاصل کئے اور ان کی تگ دو کئے بغیر انکاری نہ

مراقبہ کے فوائد

مراقبہ کرنے والے بندے کو مندرجہ ذیل فوائدحاصل ہوتے ہیں –
1) خوابیدہ صلاحیتیں بیدار ہو جاتی ہیں
2) روحانی علوم منتقل ہوتے ہیں
3) اللہ تعالی کی توجہ اور قرب حاصل ہوتا ہے
4) منتشر خیالی سے نجات مل جاتی ہے ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے
5) اخلاقی برائیوں سے ذہن ہٹ جاتا ہے
6) مسائل حل ہوتے ہیں -پریشانیوں سے محفوظ ہو جاتا ہے
7) مراقبہ کرنے والا بندہ بیمار کم ہوتا ہے
8) مراقبہ کے ذریعے بیماریوں کا علاج قدرت کا سربستہ راز ہے
9) اللہ تعالی پر یقین مستحکم ہو جاتا ہے
10) اپنے خیالات دوسروں کو منتقل کئے جاسکتے ہیں
11) صاحب مراقبہ روحانی طور پر جہاں چاہے جاسکتا ہے
12) مراقبہ کرنے والوں کو نیند جلدی اور گہری آتی ہے وہ جلد سوجاتا ہے
13) فراست میں اضافہ ہوتا ہے
14) کسی بات یا مضمون کو بیان کرنے کی اعلی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے
15) صاحب مراقبہ بندہ عفو و درگزر سے کام لیتا ہے دل نرم اور گفتگو لطیف ہوجاتی ہے
16) بلا تخصیص مذہب وملت اللہ کی مخلوق کو دوست رکھتا ہے اور خدمت کرکے خوش ہوتا ہے
17) ماں سے والہانہ محبت کرتا ہے ،باپ کا احترام کرتا ہے بڑوں کے سامنے جھکنا ہے چھوٹوں کے ساتھ شفقت سے پیش آتا ہے
18) مراقبہ کرنے والا بندہ سخی اور مہمان نواز ہوتا ہے
19) اپنے پرانے سب کے لئے دعا کرتا ہے
20) مراقبہ کرنے والے کی روح سے عام لوگ فیض یاب ہوتے ہیں
21) تواضع اور انکساری اس کی عادت بن جاتی ہے
22) صاحب مراقبہ سالک کو پراگندہ خیالات بوجھ اور وقت کا ضیاع نظر آتے ہیں اور وہ ہر حال میں ان سے نجات حاصل کرنے کی جدوجہد کرتا ہے انبیاء اور اولیاء اللہ کی روحوں سے امداد کا طالب ہوتا ہے اور اس کی بے قراری کو قرار آجاتا ہے
23) نماز میں حضور ی ہو جاتی ہے رکوع کرنے والوں کیساتھ رکوع کرتے ہوئے آور سجدہ کرنے والوں کیساتھ سجدہ کرتے ہوئے فرشتوں کو صف بہ صف دیکھتا ہے
24) آسمانوں کی سیرکرتا ہے اور جنت کے باغات اسکی نظروں کے سامنے آجاتے ہیں
25) کشف القبور کے مراقبے میں اس دنیا سے گزرے ہوئے لوگوں سے ملاقات ہو جاتی ہے
26) سچے خواب نظر آتے ہیں
27) شریعت و تصوف پر کاربند انسان کو سیدنا حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت نصیب ہو تی ہے
قلبی ذکر حاصل کریں روحانی علوم سیکھے اور سیکھائیں اور مراقبہ کرنا سیکھیں اور سیکھائیں واٹس ایپ پر رابط کریں گے

کتاب احسان و تصوف خواجہ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی مدظلہ العالی

Loading