جشن بسنت یا خون کی ہولی
تحریر۔۔۔حمیراعلیم
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ جشن بسنت یا خون کی ہولی۔۔۔ تحریر۔۔۔حمیراعلیم )پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف بلوچستان ، تیراہ کی دشوار گزار گھاٹیاں اور اسلام آباد کی شاہراہیں دہشت گردی کے عفریت سے نبرد آزما ہیں اور دوسری طرف لاہور کی فضاؤں میں اربوں روپے اڑانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ 2026 کی یہ بسنت محض ایک ثقافتی تہوار نہیں بلکہ ایک ایسی قوم کی بے حسی کا نوحہ ہے جس کے محافظ سرحدوں اور شہروں میں خون دے رہے ہیں اور جس کے عوام مہنگائی کے ہاتھوں خودکشیوں پر مجبور ہیں۔ جب ملک کے کسی حصے میں جنازے اٹھ رہے ہوں اور کسی دوسرے حصے میں ڈی جے کے شور پر رقص ہو رہا ہو تو یہ سوال اٹھانا ناگزیر ہو جاتا ہے کہ کیا ہم ایک زندہ قوم کی بجائے بے حس قوم بن چکے ہیں؟
معاشی اعتبار سے دیکھا جائے تو بسنت پر کیے جانے والے اخراجات کے اعداد و شمار ہوش ربا ہیں۔
پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خود یہ اعداد و شمار شیئر کیے کہ صرف دو دنوں میں 3.4 ارب روپے کی پتنگیں اور ڈور فروخت ہوئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس تہوار سے 10 سے زائد صنعتوں کو معاشی فائدہ پہنچا ہے۔
میڈیا رپورٹس (ڈان، ایکسپریس ٹریبیون، جیونیوز) اورمختلف خبر رساں اداروں نے رپورٹ کیا ہے کہ اندرونِ لاہور میں چھتوں کی بکنگ 15 لاکھ سے 25 لاکھ روپے تک میں ہوئی ہے۔ ہوٹلز میں رہائش کے کرایوں میں 300 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔جس سے اس مجموعی معاشی سرگرمی کا حجم اربوں میں پہنچتا ہے۔
(کائٹ فلائینگ ایسوسی ایشن)پتنگ بازوں کی تنظیموں اور ہول سیل ڈیلرز کے مطابق مانگ میں بے پناہ اضافے کی وجہ سے پتنگوں اور ڈور کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر رہیں۔جس سے صرف اس ایک شعبے میں تجارت کا حجم 1.5 ارب روپے سے تجاوز کر گیا۔
عالمی خبر رساں ادارےالجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، لاہور میں 18 سال بعد ہونے والی اس بسنت نے مقامی معیشت میں کروڑوں ڈالر (اربوں روپے) کا انجکشن لگایا ہے۔ جس میں ٹرانسپورٹ، کھانے پینے اور سیاحت کے اخراجات شامل ہیں۔
مستند رپورٹوں کے مطابق2026 کے ان تین روزہ میلوں کے لیے حکومتِ پنجاب نے صرف افتتاحی تقریبات اور تزئین و آرائش کے نام پر 4 ارب روپے سے زائد کا بجٹ مختص کیا ہے۔ دوسری جانب نجی سطح پر ہونے والے اخراجات کا تخمینہ 20 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ یہ وہ رقم ہے جس سے ہزاروں غریب خاندانوں کا چولہا جل سکتا تھا یا دہشت گردی کے متاثرین کی بحالی ممکن تھی۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ جو قوم گردن تک بیرونی قرضوں میں جکڑی ہو اور جس کی معیشت وینٹی لیٹر پر ہو وہ محض چند گھنٹوں کی تفریح کے لیے معروف گلوکاروں کو کروڑوں روپے کی ادائیگیاں کر رہی ہے اور حویلیوں کی چھتیں لاکھوں روپے میں بک ہو رہی ہیں۔
اس نام نہاد خوشی کی قیمت صرف روپے پیسوں میں نہیں بلکہ انسانی جانوں کی صورت میں بھی چکانی پڑ رہی ہے۔ فروری 2026 کے ان چند ایام میں اب تک لاہور اور گردونواح میں متعدد جانی نقصانات رپورٹ ہو چکے ہیں۔
ریسکیو 1122 اور پولیس کے روزنامچوں کے مطابق بسنت کے آغاز پر ہی باغبانپورہ میں علی رشید نامی نوجوان کی ہلاکت اور گلشنِ راوی میں ارسا نامی بچی سمیت 6 افراد کے زخمی ہونے کی خبریں جیو نیوز اور ڈان نیوز پر نشر ہو چکی ہیں۔
ریسکیو 1122کے مطابق ایک نوجوان کرنٹ لگنے سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھا جبکہ کئی معصوم بچے خونی ڈور کی زد میں آ کر ہسپتالوں میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار کسی ایک فرد کے نہیں بلکہ حکومتی وزراء کے بیانات، مارکیٹ سروے اور ہسپتالوں کی ریکارڈ شدہ رپورٹس پر مبنی ہیں۔
ایسی خوشی جس کی اساس میں کسی ماں کا بین اور کسی بچے کی چیخ شامل ہو اسے کسی بھی صورت اخلاقی یا اسلامی تعلیمات کے مطابق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسلام تو پڑوسی کی بھوک پر بھی بے چین ہونے کا درس دیتا ہے۔ جبکہ یہاں ہم اپنے بھائیوں کے خون اور غربت کے مقتل پر جشن منا رہے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کا ازسرنو جائزہ لیں۔ کیا ایک ایسی قوم جو آئی ایم ایف کی کڑی شرائط اور دہشت گردی کے ناسور سے لڑ رہی ہو اسے اس قسم کی اسراف پسندی زیب دیتی ہے؟ بسنت کے نام پر ہونے والا یہ ضیاع دراصل ہماری قومی ترجیحات کے دیوالیہ پن کا ثبوت ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ حقیقی خوشی پتنگوں کے پیچ لڑانے میں نہیں بلکہ اپنے زخمی بھائیوں کے زخموں پر مرہم رکھنے اور ملک کو معاشی دلدل سے نکالنے میں ہے۔ اگر آج ہم نے اپنی اس بے حسی کو نہ روکا تو تاریخ ہمیں ایک ایسی قوم کے طور پر یاد رکھے گی جو نیرو کی طرح اپنے گھر کو آگ لگی دیکھ کر بانسری بجاتی تھی۔
![]()

