حضرت فضیل بن عیاضؒ: رہزن سے امامِ طریقت تک کا سفر
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )تاریخِ اسلام میں ایسے کئی ستارے چمکتے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے اندھیروں کو توبہ کی روشنی سے بدل ڈالا۔ ان میں ایک معتبر نام حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ کا ہے، جنہیں “عابدِ حرمین” کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی زندگی اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کی رحمت کسی بھی وقت انسان کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
ولادت اور ابتدائی زندگی
آپ کی ولادت 107 ہجری (725ء) میں سمرقند یا کوفہ میں ہوئی۔ آپ کی زندگی کا ابتدائی حصہ زہد و عبادت کے بجائے “راہزنی” (ڈاکہ زنی) میں گزرا۔ آپ اپنے علاقے کے ایک خوفناک ڈاکو کے طور پر جانے جاتے تھے، لیکن آپ کی فطرت میں مروت اور حیا باقی تھی۔
انقلابِ توبہ: قرآن کی ایک آیت اور بدلی ہوئی دنیا
آپ کی توبہ کا واقعہ نہایت رقت آمیز ہے۔ ایک رات آپ کسی دیوار پر چڑھ رہے تھے کہ قریب سے کسی قاری کے قرآن پڑھنے کی آواز آئی۔ وہ یہ آیت تلاوت کر رہا تھا:
اَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ اٰمَنُوْا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ “کیا ایمان والوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر سے پگھل جائیں؟” (سورہ الحدید)
یہ آیت سنتے ہی فضیل بن عیاضؒ تڑپ اٹھے اور بے اختیار پکارا: “اے میرے رب! وہ وقت آ گیا ہے، وہ وقت آ گیا ہے۔” آپ اسی وقت وہاں سے پلٹے، سچی توبہ کی اور اپنی بقیہ زندگی اللہ کے لیے وقف کر دی۔
زہد و تقویٰ اور مقامِ ولایت
توبہ کے بعد آپ نے علمِ دین کے حصول کے لیے کوفہ کا رخ کیا اور امام جعفر صادقؒ جیسے اکابرین سے فیض حاصل کیا۔ آپ کی عبادت اور خشیتِ الٰہی کا یہ عالم تھا کہ آپ “عابدِ حرمین” مشہور ہوئے۔ آپ اکثر روتے رہتے اور فرماتے: “اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ میری ایک رکعت بھی قبول ہو گئی ہے، تو مجھے موت سے زیادہ محبوب کوئی چیز نہ ہو۔”
آپ کی جلالتِ علمی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ خلیفہ ہارون الرشید خود آپ کی نصیحتیں سننے کے لیے آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا کرتا تھا۔
اقوالِ زریں
حضرت فضیل بن عیاضؒ کی تعلیمات تصوف کا نچوڑ ہیں:
“جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، اس سے ہر چیز ڈرتی ہے۔”
“دنیا کی محبت تمام برائیوں کی جڑ ہے۔”
“عاجزی یہ ہے کہ تم ہر اس شخص کے سامنے جھک جاؤ جو تم سے حق بات کہے۔”
وصالِ مبارک
آپ نے اپنی زندگی کے آخری ایام مکہ مکرمہ میں گزارے۔ عبادت و ریاضت کا یہ سورج 187 ہجری (803ء) میں مکہ میں غروب ہوا۔ آپ کا مزارِ مبارک مکہ کے قبرستان “جنت المعلیٰ” میں واقع ہے، جو آج بھی اہل دل کے لیے عقیدت کا مرکز ہے۔
پیغام: حضرت فضیل بن عیاضؒ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ گناہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، اللہ کی رحمت اس سے بڑی ہے۔ سچی توبہ انسان کو گناہوں کی پستی سے اٹھا کر ولایت کی بلندیوں پر فائز کر دیتی ہے۔
![]()

