Daily Roshni News

فتح مصر (1517ء) – مملوک سلطنت کا خاتمہ

فتح مصر (1517ء) – مملوک سلطنت کا خاتمہ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )سنہ 1517ء کی فتح مصر عالمِ اسلام کی تاریخ کا ایک عظیم اور سنگِ میل کی حیثیت رکھنے والا واقعہ ہے۔ اس فتح نے نہ صرف چار صدیوں پر محیط مملوک سلطنت کا خاتمہ کیا بلکہ خلافتِ عباسیہ کے دارالخلافہ قاہرہ سے استنبول منتقل ہونے کا راستہ بھی ہموار کیا۔ سلطان سلیم اول المعروف یاووز کی قیادت میں سلطنتِ عثمانیہ نے 1516-1517ء کی جنگ میں فیصلہ کن فتح حاصل کرکے مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی اور مذہبی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لی۔

پندرہویں صدی کے وسط سے عثمانی اور مملوک سلطنتوں کے تعلقات کشیدگی کا شکار تھے۔ 1453ء میں قسطنطنیہ کی فتح کے بعد دونوں سلطنتیں مسالے کی تجارت پر کنٹرول اور مقدس شہروں مکہ و مدینہ کی سرپرستی کے لیے حریف بن چکی تھیں۔ 1485-1491ء کی پہلی عثمانی-مملوک جنگ غیر فیصلہ کن رہی تھی، لیکن 1514ء میں چالدران کی جنگ میں صفوی فارسیوں پر عثمانی فتح کے بعد سلطان سلیم اول نے اپنی توجہ مکمل طور پر مملوک سلطنت کی جانب مرکوز کردی۔ سلطان سلیم نے مملوکوں کے خلاف جہاد کا مؤثر پروپیگنڈا کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مملوک سنی ہونے کے باوجود صفوی شیعیوں کے حلیف ہیں۔ اس سلسلے میں ایک فتویٰ جاری کیا گیا کہ جو گمراہ لوگوں کی مدد کرے، وہ بھی گمراہ ہے۔ یہ فتویٰ عثمانی فوج کے حوصلے بلند کرنے اور مسلمانوں کی ہم دردی ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مملوک سلطنت اپنے آخری ایام میں اندرونی انتشار، معاشی بحران اور فوجی جمود کا شکار تھی۔ مملوک روایتی طور پر سپہ سالاری اور دستی ہتھیاروں پر فخر کرتے تھے اور بارود کے ہتھیاروں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ یہی وہ بڑی کمزوری تھی جس نے انہیں عثمانی ترقی یافتہ اسلحے کے سامنے بے بس کر دیا۔ جنگ کی تیاریوں کے دوران مملوک سلطان قانصوہ غوری نے دیہاتی کسانوں کو فوج میں بھرتی کیا، لیکن یہ ناتجربہ کار افراد نہ صرف بارود کے ہتھیار چلانا نہیں جانتے تھے بلکہ اکثر میدانِ جنگ سے فرار اختیار کرتے تھے۔ اس صورتحال نے قحط جیسی صورتحال پیدا کردی کیونکہ کھیتوں میں کام کرنے والے افراد کی شدید قلت ہوگئی۔

جنگ کا آغاز 1516ء میں شام کی سرزمین پر ہوا۔ عثمانی فوج نے سب سے پہلے جنوب مشرقی اناطولیہ میں شہر دیار بکر فتح کیا۔ 24 اگست 1516ء کو حلب کے قریب مرج دابق کے مقام پر دونوں افواج کا آمنا سامنا ہوا۔ یہ جنگ عثمانیوں کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ مملوک سلطان قانصوہ غوری نامعلوم حالات میں مارے گئے۔ بعض مورخین کے مطابق وہ زہر دیے جانے سے ہلاک ہوئے، جبکہ بعض کا خیال ہے کہ وہ دل کے دورے یا گھوڑے سے گر کر جاں بحق ہوئے۔ ان کی لاش کبھی برآمد نہ ہوسکی۔ مرج دابق کی جنگ میں مملوک کمانڈر خیربک نے اپنے دستوں سمیت عثمانیوں سے جا ملا، جو جنگ کے نتیجے میں اہم عنصر ثابت ہوا۔ اس شکست کے بعد پورا شام عثمانی کنٹرول میں آگیا۔ حلب، دمشق اور یروشلم سمیت تمام بڑے شہروں نے سلطان سلیم اول کی اطاعت قبول کرلی۔ روایت ہے کہ سلطان سلیم نے یروشلم کی زیارت کی اور کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ قبلۂ اول میری تحویل میں آگیا۔ 28 اکتوبر 1516ء کو غزہ کے قریب یونس خان کی جنگ میں مملوک افواج کو ایک اور شکست ہوئی۔ اس جنگ میں جان بردی الغزالی کی قیادت میں مملوک دستے عثمانی توپ خانے کے سامنے نہ ٹھہر سکے۔

مرج دابق میں شکست اور سلطان قانصوہ غوری کی موت کے بعد طومان بے دوم عجلت میں مملوک سلطان بنے۔ انہوں نے فوری طور پر فوج کی تنظیمِ نو اور جدید اسلحے کی فراہمی کا آغاز کیا۔ طومان بے نے محسوس کرلیا تھا کہ بارود کے ہتھیاروں کے بغیر عثمانیوں کا مقابلہ ناممکن ہے۔ انہوں نے قاہرہ کے شمال میں ریڈانیہ کے مقام پر ایک مضبوط دفاعی لائن تیار کی۔ قلعہ بندیاں تعمیر کی گئیں، خندقیں کھودی گئیں اور توپیں نصب کی گئیں۔ مملوک افواج نے تیس سے سو کے قریب بیل گاڑیوں پر ہلکی توپیں نصب کی تھیں اور اونٹوں پر سوار تفنگچی بھی تیار کیے گئے تھے۔ تاہم یہ سب انتظامات عجلت میں کیے گئے تھے اور مملوک فوج اب بھی عثمانی افواج کی جدید تربیت اور تنظیم سے محروم تھی۔

سلطان سلیم اول نے صحرائے سینا عبور کرنے کے لیے ہزاروں اونٹ منگوائے اور پانی کے ذخائر فراہم کیے۔ بیس ہزار عثمانی فوجیوں نے دس دن میں صحرا عبور کیا اور بلا مزاحمت صالحیہ، بلبیس اور خانقاہ سے ہوتے ہوئے 20 جنوری 1517ء کو قاہرہ سے چند گھنٹوں کی دوری پر برکۃ الحج پہنچ گئے۔ 22 جنوری 1517ء کو ریڈانیہ کے مقام پر دونوں افواج کا آمنا سامنا ہوا۔ دونوں اطراف تقریباً بیس ہزار فوجی تھے۔ مملوک افواج کی توپیں اور دفاعی لائن بظاہر ناقابل تسخیر نظر آرہی تھی، لیکن عثمانی کمانڈر ہادم سنان پاشا نے ایک ذہین حکمت عملی اپنائی۔ مملوک امیروں میں سے کسی غدار کی اطلاع پر، عثمانی فوج کا ایک دستہ مقسم پہاڑی کے راستے سے مملوک افواج کے عقب میں جا پہنچا۔ اس غیر متوقع پشت درپے حملے نے مملوک دفاعی لائن کو منتشر کر دیا۔ سلطان طومان بے نے چند وفادار سپاہیوں کے ساتھ بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ وہ عثمانی صفوں میں گھس گئے اور ہادم سنان پاشا کے خیمے تک جا پہنچے۔ طومان بے نے سنان پاشا کو اس گمان میں قتل کر دیا کہ وہ خود سلطان سلیم اول ہیں۔ عثمانی وزیرِ اعظم کی شہادت کے باوجود، مملوک افواج منظم نہ رہ سکیں اور بالآخر پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہوئیں۔ اس جنگ میں عثمانی افواج کے چھ ہزار جبکہ مملوک افواج کے سات ہزار سپاہی ہلاک یا زخمی ہوئے۔ سلطان سلیم اول نے طومان بے کی بہادری کی تحسین کرتے ہوئے کہا کہ ہم جیت گئے، لیکن ہم نے سنان پاشا کھو دیا۔

ریڈانیہ میں فتح کے بعد عثمانی افواج بلامزاحمت قاہرہ میں داخل ہوگئیں۔ انہوں نے قلعۂ قاہرہ پر قبضہ کرکے تمام سرکیسیئن گیریژن کو قتل کر دیا۔ شہر کی گلیوں میں قتل و غارت گری اور لوٹ مار کا بازار گرم ہوگیا۔ عثمانی سپاہیوں نے ہر قابلِ قدر چیز چھین لی اور بڑے پیمانے پر تاوان وصول کیا۔ سلطان سلیم اول نے قلعہ بندی کے پیشِ نظر دریائے نیل کے ایک جزیرے پر قیام کیا۔ ان کے وزیر نے اگلے روز شہر میں داخل ہو کر فوجیوں کی لوٹ مار روکنے کی کوشش کی۔ اس دوران عباسی خلیفہ متوکل ثالث جو سلطان سلیم کے ہمراہ تھے، نے عوامی نمازِ جمعہ کی امامت کرائی اور سلطان سلیم اول کے نام خطبہ پڑھا۔ ابن ایاس کے مطابق خلیفہ کی دعا یوں تھی کہ اے اللہ سلطان کی مدد فرما، جو خشکی اور دونوں سمندروں کا بادشاہ ہے، دونوں لشکروں کا فاتح، دونوں عراقین کا فرمانروا، دونوں مقدس شہروں کا خادم، شہنشاہِ اعظم سلیم شاہ۔ اسے اپنی آسمانی نصرت اور شاندار فتوحات عطا فرما۔ اے حال اور مستقبل کے بادشاہ، اے تمام جہانوں کے پروردگار۔

سلطان طومان بے نے ابھی ہتھیار نہیں ڈالے تھے۔ چند روز بعد وہ اپنے بدوی اتحادیوں کے ساتھ واپس لوٹے اور کمزور گیریژن والے قاہرہ شہر پر دوبارہ قبضہ کرلیا۔ صبح ہوتے ہوتے انہوں نے عثمانی افواج کو بھاری نقصان پہنچا کر پسپا کر دیا۔ شہر کے دفاعی مورچے مضبوط کرلیے گئے اور جمعہ کی نماز دوبارہ مصری سلطان کے نام پر ادا کی گئی۔ لیکن آدھی رات کو عثمانی افواج نے زبردست تعداد میں واپس آکر مملوکوں کو منتشر کر دیا۔ طومان بے دریائے نیل عبور کرکے جیزہ فرار ہوگئے اور بالآخر بالائی مصر میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ سلطان سلیم اول نے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے سرخ و سفید پرچم لہرایا، لیکن اس میں مملوک شامل نہ تھے۔ مملوکوں کا بے رحمی سے تعاقب کیا گیا اور انہیں پناہ دینے والوں کو سزائے موت دینے کا اعلان کر دیا گیا۔ اس طرح پکڑے جانے والے آٹھ سو مملوکوں کے سر قلم کر دیے گئے۔

تقریباً آٹھ ہفتوں تک جاری رہنے والی مزاحمت کے بعد، آخری مملوک سلطان طومان بے دوم کو پکڑ لیا گیا۔ انہیں قاہرہ کے الغوریہ محلے کے دروازے پر پھانسی دے دی گئی۔ بعض روایات کے مطابق ان کا سر تن سے جدا کرکے دروازے پر لٹکایا گیا جبکہ بعض کے مطابق انہیں زندہ دروازے سے لٹکایا گیا اور تین روز بعد دفن کیا گیا۔ اس طرح 1250ء سے مصر و شام پر حکمرانی کرنے والی مملوک سلطنت کا باقاعدہ خاتمہ ہوگیا۔

سلطان سلیم اول نے مصر و شام پر براہ راست عثمانی کنٹرول قائم کرنے کے بجائے ابتدائی طور پر ایک عبوری دور کا آغاز کیا۔ انہوں نے دو وفادار مملوک امیروں کو اہم عہدوں پر فائض کیا۔ خیربک کو مصر اور جان بردی الغزالی کو شام کا گورنر مقرر کیا۔ یہ دونوں امرا جنگ کے دوران عثمانیوں سے جا ملے تھے اور انہوں نے سلطان سلیم کی خصوصی عنایت حاصل کی تھی۔ تاہم، عہدۂ حکومت سنبھالتے ہی ان امرا میں خودمختاری کا رجحان پیدا ہونے لگا۔ خیربک اور جان بردی الغزالی دونوں نے اپنے طرزِ حکمرانی میں من مانی کا مظاہرہ کیا، جو عثمانی دارالخلافہ کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہوا۔ خاص طور پر جان بردی الغزالی نے سلطان سلیم اول کی وفات جو 1520ء میں ہوئی، کے بعد کھل کر بغاوت کا اعلان کردیا۔ ان واقعات نے عثمانی سلطنت کو مجبور کیا کہ وہ براہ راست اپنے گورنر مقرر کرے اور مملوکوں کو اقتدار سے دور کرے۔

فتح مصر کے اہم ترین نتائج میں سے ایک خلافتِ عباسیہ کا قسطنطنیہ منتقل ہونا ہے۔ آخری عباسی خلیفہ متوکل ثالث کو قاہرہ سے استنبول لے جایا گیا۔ بعد کی روایات کے مطابق انہوں نے باقاعدہ طور پر اپنا منصبِ خلافت عثمانی سلطان کے سپرد کر دیا۔ اس طرح سلطان سلیم اول اور ان کی اولاد پوری مسلم دنیا کے خلیفہ قرار پائے۔ یہ عہد 1924ء تک قائم رہا۔

1517ء کی فتح مصر نے سلطنت عثمانیہ کو ایک علاقائی طاقت سے عالمی خلافت میں تبدیل کر دیا۔ اس فتح کے کئی جہتی اثرات مرتب ہوئے۔ اول یہ کہ سلطنت عثمانیہ نے حرمین شریفین یعنی مکہ و مدینہ کی سرپرستی حاصل کرلی۔ 1517ء کے اواخر میں مکہ کے شریف برکات بن محمد نے عثمانی بالادستی تسلیم کرلی۔ اس کے ساتھ ہی عثمانی سلطان خادم الحرمین الشریفین کا مذہبی اعزاز رکھنے لگے۔ دوم یہ کہ مصر سلطنت عثمانیہ کا انتہائی منافع بخش صوبہ بن گیا۔ یہ نہ صرف ٹیکس کی آمدنی میں پہلے نمبر پر تھا بلکہ خوراک کی تقریباً سو فیصد ضروریات پوری کرتا تھا۔ سوم یہ کہ بحیرۂ روم، بحیرۂ اسود، بحیرۂ قلزم اور بحیرۂ قزوین صدیوں بعد ایک ہی سلطنت کے زیر نگین آگئے۔ رومی سلطنت کے عہد کے بعد یہ پہلا موقع تھا۔ چہارم یہ کہ پرتگیزیوں کے خلاف بحیرۂ قلزم میں جنگ کی ذمہ داری اب مملوکوں کی بجائے عثمانیوں نے سنبھالی۔ سلمان رئیس کی قیادت میں عثمانی بحری بیڑے نے جدہ کا کامیاب دفاع کیا۔ پنجم یہ کہ افریقہ میں عثمانی توسیع کا راستہ کھل گیا۔ سولہویں صدی میں عثمانی طاقت الجزائر اور تیونس تک پھیل گئی۔

مملوک سلطنت کے سیاسی خاتمے کے باوجود ان کی تہذیب اور سماجی تنظیم علاقائی سطح پر برقرار رہی۔ مملوک غلام سپاہیوں کی بھرتی اور تربیت جاری رہی، البتہ مصر کا حاکم اب عثمانی گورنر ہوتا تھا جو عثمانی فوج کے تحفظ میں کام کرتا۔ چونکہ سلطان سلیم اول کو مصر کے مقامی انتظامی ڈھانچے کی گہری سمجھ نہیں تھی، انہوں نے وہاں کے نظام کو زیادہ تبدیل نہیں کیا۔ اس وجہ سے مملوک امرا دوبارہ ابھر کر سامنے آگئے اور عثمانی گورنروں کو سیاسی طور پر الگ تھلگ کر دیا۔ نتیجتاً مصر عثمانی سلطنت کا براہ راست صوبہ نہیں بلکہ ایک مملوک باج گزار ریاست کی مانند ہوگیا۔ تاہم مملوک فوجی نظام میں بنیادی تبدیلیاں نہ آسکیں۔ وہ اب بھی قرونِ وسطیٰ کی رسوم پر کاربند تھے اور جدید یورپی فوجوں کی طرح منظم و مربوط نہ ہوسکے۔ یہی کمزوری 1798ء میں ایک بار پھر بے نقاب ہوئی جب نپولین بوناپارٹ کی فرانسیسی فوج نے اہرام کی جنگ میں مملوکوں کو فیصلہ کن شکست دی۔

فتح مصر 1517ء اسلامی تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے۔ اس فتح نے نہ صرف ایک عظیم اسلامی سلطنت کا خاتمہ کیا بلکہ خلافت کے مرکز کو قاہرہ سے استنبول منتقل کرکے مسلم دنیا میں ایک نئے عہد کا آغاز کیا۔ سلطان سلیم اول کی یہ فوجی مہم محض ایک علاقائی توسیع نہیں تھی بلکہ اس نے سلطنت عثمانیہ کو اسلامی دنیا کی قیادت کے لیے درکار مذہبی و سیاسی جواز فراہم کیا۔ مملوک اپنی روایتی سپہ سالاری اور شجاعت کے باوجود عثمانی جدیدیت اور تنظیم سے نبردآزما نہ ہوسکے۔ ریڈانیہ کے میدان میں طومان بے کی بہادری اور ہادم سنان پاشا کی شہادت اس جنگ کی داستانوں کا حصہ ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بارود اور تنظیم کی جنگ میں روایت جدیدیت سے ہار گئی۔ یہ فتح مسلم دنیا میں ترکی دور کے آغاز کی علامت ہے جو چار صدیوں تک جاری رہا۔ مصر میں عثمانی اقتدار 1914ء تک برقرار رہا، جبکہ خلافت عثمانیہ کا باقاعدہ خاتمہ 1924ء میں ہوا۔ اس طویل عرصے میں عثمانی سلاطین نے مسلمانوں کی قیادت کا فریضہ انجام دیا اور فتح مصر نے اس قیادت کو ناقابلِ تنازع بنا دیا۔

Loading