مشہور سیاح ابن بطوطہ نے اپنی کتاب رحلہ میں ایک عجیب واقعہ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )مشہور سیاح ابن بطوطہ نے اپنی کتاب رحلہ میں ایک عجیب واقعہ نقل کیا ہے۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب سمندری سفر جان جوکھوں کا کام تھا اور بحرِ اوقیانوس کی موجیں بڑے بڑے جہازوں کو نگل جایا کرتی تھیں۔
روایت ہے کہ ایک مرتبہ عرب تاجروں کا ایک جہاز بحرِ اوقیانوس میں سخت طوفان کا شکار ہو گیا۔ آسمان پر سیاہ بادل گرج رہے تھے، بجلیاں چمک رہی تھیں اور موجیں پہاڑوں کی مانند اٹھ رہی تھیں۔ جہاز کے تختے چرچرا کر ٹوٹ گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ پانی میں بکھر گیا۔ اکثر مسافر سمندر کی نذر ہو گئے، مگر اللہ تعالیٰ نے ایک نوجوان عرب کو لکڑی کے تختے کے سہارے زندہ رکھا۔ موجیں اسے دور ایک جزیرے کی طرف لے گئیں۔
وہ بے ہوشی کی حالت میں ساحل پر آ لگا۔ جب آنکھ کھلی تو خود کو ایک انجان سرزمین پر پایا۔ جسم زخمی تھا، مگر جان سلامت تھی۔ وہ لڑکھڑاتا ہوا آبادی کی طرف بڑھا۔ تھوڑی دیر بعد اسے مٹی کی جھونپڑیوں کا ایک گاؤں نظر آیا۔ لوگ عجیب لباس پہنے ہوئے تھے اور ان کی رہن سہن بھی کچھ اجنبی تھی۔
ایک غریب آدمی نے اسے دیکھا اور ترس کھا کر اپنے جھونپڑے میں لے آیا۔ اس کی بیوی نے زخموں پر مرہم رکھا، کھانا دیا اور آرام کے لیے بستر بچھا دیا۔ چند دنوں میں وہ عرب صحت یاب ہو گیا۔
لیکن اس نے محسوس کیا کہ اس گھر میں ایک عجیب اداسی چھائی رہتی ہے۔ گھر والے خاموش رہتے، آنکھیں نم ہوتیں، اور راتوں کو سسکیاں سنائی دیتیں۔ ایک دن اس نے میزبان سے پوچھا:
“اے میرے محسن! تمہارے گھر میں یہ غم کیوں ہے؟ کیا میں کسی خدمت کے قابل ہوں؟”
میزبان کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ وہ بولا: “اے مہمان! تم نے ہماری مہمانی قبول کی، یہی ہمارے لیے سعادت ہے۔ مگر یہاں ہر سال سمندر سے ایک بلا آتی ہے۔ جب وہ ساحل کے قریب پہنچتی ہے تو بستی میں ہلچل مچ جاتی ہے۔ اگر ہم اسے راضی نہ کریں تو وہ پوری آبادی کو تباہ کر دیتی ہے۔ اس بلا کو ٹالنے کے لیے ہم ایک رسم ادا کرتے ہیں: ہر سال بستی کی سب سے حسین لڑکی کو زیورات سے آراستہ کر کے رات کے وقت سمندر کنارے واقع مندر میں چھوڑ آتے ہیں۔ صبح وہ لڑکی مردہ ملتی ہے، اور بلا واپس چلی جاتی ہے۔ اس سال میری بیٹی کی باری ہے…”
یہ سن کر عرب کا دل کانپ اٹھا۔ اس نے پوچھا: “کیا تمہیں یقین ہے کہ یہی راستہ ہے؟”
میزبان نے کہا: “ہم نے یہی دیکھا ہے۔ اگر قربانی نہ دیں تو طوفان اور تباہی یقینی ہے۔”
عرب نے چند لمحے سوچا، پھر پُرعزم لہجے میں بولا: “تم گھبراؤ نہیں۔ اپنی بیٹی کی جگہ مجھے بنا سنوار کر مندر میں چھوڑ آؤ۔ اللہ پر بھروسا رکھو۔”
گھر والے پہلے تو حیران ہوئے، پھر اس کی جرات اور اخلاص سے متاثر ہو کر مان گئے۔ اگلی رات بستی کے لوگ اکٹھے ہوئے۔ حسبِ دستور زیورات اور رنگین لباس پہنائے گئے، مگر اس بار وہ نوجوان عرب تھا جو اس لباس میں ملبوس تھا۔ لوگوں نے اسے مندر میں چھوڑا اور دروازہ بند کر کے چلے گئے۔
رات گہری ہوتی گئی۔ سمندر کی موجیں شور مچا رہی تھیں۔ اچانک افق پر ایک سیاہ سایہ نمودار ہوا۔ وہ کسی بڑے جہاز کی شکل میں تھا، مگر اس کے گرد ایک پراسرار ہولناک روشنی تھی۔ لوگ دور کھڑے کانپ رہے تھے۔
مندر کے اندر وہ عرب وضو کر کے بیٹھ گیا اور قرآن پاک کی تلاوت میں مشغول ہو گیا۔ جیسے ہی وہ سایہ ساحل کے قریب پہنچا، اس نے بلند آواز سے اذان شروع کی:
“اللّٰہ اکبر، اللّٰہ اکبر…”
آواز سمندر کی لہروں پر گونجنے لگی۔
جب وہ “اشہد ان محمداً رسول اللّٰہ” پر پہنچا تو وہ بلا یکایک رک گئی، جیسے کسی نے اسے جکڑ لیا ہو۔ پھر وہ مڑ کر سمندر کی گہرائیوں میں واپس چلی گئی۔
صبح جب لوگ مندر کے دروازے کھولنے آئے تو وہ نوجوان زندہ سلامت تلاوت میں مشغول تھا۔ یہ دیکھ کر سب حیران رہ گئے۔ بستی میں چرچا ہونے لگا کہ یہ شخص کسی عظیم رب کی مدد سے محفوظ رہا۔
دوسرے سال پھر وہی موسم آیا۔ لوگ اب بھی خوف زدہ تھے۔ بادشاہ تک یہ خبر پہنچ چکی تھی۔ اس نے حکم دیا کہ احتیاطاً اسی مہمان کو پھر مندر میں چھوڑا جائے۔
اس بار بھی رات کو بلا نمودار ہوئی۔ عرب نے اذان شروع کی۔ جیسے ہی وہ “اشہد ان لا الٰہ الا اللّٰہ” پر پہنچا، بلا فوراً واپس لوٹ گئی۔
لوگوں کا یقین بڑھنے لگا کہ اس شخص کا رب سچا ہے۔
تیسرے سال بادشاہ خود ساحل پر موجود تھا۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ آخر یہ راز کیا ہے۔ رات کے اندھیرے میں وہ سایہ پھر ابھرا۔ عرب نے جیسے ہی اذان کے ابتدائی الفاظ ادا کیے:
“اللّٰہ اکبر، اللّٰہ اکبر…”
اس بار بلا ساحل کے قریب آ کر کانپنے لگی، پھر ایک زوردار چیخ جیسی آواز کے ساتھ ہمیشہ کے لیے سمندر میں غائب ہو گئی۔ اس کے بعد کبھی وہ منظر نہ دیکھا گیا۔
بادشاہ اور اس کے وزیر حیرت سے ساکت رہ گئے۔ صبح ہوتے ہی بادشاہ نے اس عرب کو دربار میں بلایا۔
“تمہارا رب کون ہے؟ یہ کیسا کلام ہے جس سے بلا بھاگ جاتی ہے؟”
عرب نے سکون سے جواب دیا: “وہ ایک ہی خدا ہے، جو زمین و آسمان کا مالک ہے۔ وہی ہماری حفاظت کرتا ہے۔”
بادشاہ نے کچھ دیر سوچا، پھر اپنے وزیر کی طرف دیکھا۔ دونوں کے دل نرم ہو چکے تھے۔ بادشاہ نے اعلان کیا: “میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور محمد ﷺ اس کے رسول ہیں۔”
یہ سن کر دربار میں خاموشی چھا گئی، پھر آہستہ آہستہ لوگ آگے بڑھنے لگے۔ وزیر نے بھی اسلام قبول کیا، اور پھر رعایا میں سے بہت سے لوگ حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔
جزیرے کی فضا بدل گئی۔ مندر ویران ہو گیا، اور اس کی جگہ ایک سادہ سی مسجد تعمیر کی گئی جہاں پانچ وقت اذان کی صدا گونجنے لگی۔
وہ عرب کچھ عرصہ وہاں رہا، لوگوں کو قرآن سکھایا، نماز پڑھائی اور توحید کا درس دیا۔ پھر ایک دن سمندر کے کنارے کھڑا ہو کر اس نے دعا کی:
“اے اللہ! جس طرح تو نے مجھے موجوں سے بچایا، اسی طرح ان لوگوں کے دلوں کو ہدایت دے کر محفوظ کر دے۔”
کچھ عرصے بعد ایک تجارتی جہاز جزیرے پر آیا اور وہ عرب اپنے وطن کی طرف روانہ ہو گیا۔ مگر اس کی اذان کی بازگشت جزیرے میں ہمیشہ کے لیے رہ گئی—یاد دلاتی ہوئی کہ سچا بھروسا اور خالص ایمان ہر بلا سے بڑا ہوتا ہے
منقول 🥺
فالوؤ اور شیئر کیجئے 👍
اگر کسی کو پیڈ پروموشن کروانی ہے تو انباکس کر سکتے ہیں 📥
Info Planet #infoplanet
![]()

