Daily Roshni News

تخلیق ہوئی  اوور ریٹڈ لفظ۔۔۔ تحریر۔۔۔ برکت حسین شاد

تخلیق ہوئی  اوور ریٹڈ لفظ

تحریر۔۔۔ برکت حسین شاد

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تخلیق ہوئی  اوور ریٹڈ لفظ۔۔۔ تحریر۔۔۔ برکت حسین شاد)ہم جب کہتے ہیں “تخلیق ہوئی” تو لاشعوری طور پر ایک ایسے منظر کا تصور قائم کرتے ہیں جس میں کائنات کسی ایک لمحۂ آغاز میں مکمل ہو کر ساکن ہو گئی ہو۔

 یہ محض لسانی سہولت تو ہو سکتی ہے، مگر سائنسی اعتبار سے یہ تصور قطعی نہیں۔ جدید طبیعیات اور علمِ ہیئت اس بات پر متفق ہیں کہ کائنات ایک جامد شے نہیں بلکہ ایک متحرک، ارتقائی اور مسلسل تغیر پذیر نظام ہے۔

کائناتی مشاہدات سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے۔ خلا وسعت اختیار کر رہا ہے، کہکشائیں ایک دوسرے سے دور جا رہی ہیں، اور مادّہ و توانائی نئے تناسبات میں منظم ہو رہے ہیں۔

ستاروں کی پیدائش عظیم گیساتی بادلوں سے ہوتی ہے۔  وہ اربوں برس تک جوہری انضمام کے ذریعے حرارت اور روشنی پیدا کرتے ہیں۔  پھر اپنی کمیت کے مطابق سفید بونے ستارے، نیوٹران ستارے یا سیاہ شگاف کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ تمام مراحل اس امر کی دلیل ہیں کہ کائنات کوئی مکمل شدہ منظر نہیں بلکہ ایک جاری عمل ہے۔

ہمارا سورج اس وقت اپنے مرکز میں ہائیڈروجن کو جوہری انضمام کے ذریعے ہیلیم میں تبدیل کر رہا ہے۔ اسی عمل سے پیدا ہونے والی توانائی زمین تک پہنچ کر زندگی کو قائم رکھتی ہے۔ اگر مستقبل میں سورج کے ایندھن میں کمی واقع ہو یا اس کے توانائیاتی توازن میں بڑی تبدیلی آئے تو زمین کا حرارتی نظام متاثر ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں حیاتیاتی ڈھانچے عدم استحکام کا شکار ہو جائیں گے۔ ضیائی تالیف جیسے بنیادی حیاتیاتی عمل روشنی اور حرارت کے توازن پر منحصر ہیں۔  ان میں خلل پورے حیاتیاتی سلسلے کو متاثر کر سکتا ہے۔

یہاں آئن سٹائن کی مشہور مساوات اس بحث کو مزید واضح کرتی ہے

E = mc²

یعنی توانائی E مادّے کی کمیت m کے برابر ہے جب اسے روشنی کی رفتار c کے مربع سے ضرب دیا جائے۔ اس مساوات کا مفہوم یہ ہے کہ مادّہ اور توانائی دو الگ حقیقتیں نہیں بلکہ ایک ہی بنیادی حقیقت کی مختلف صورتیں ہیں۔

 معمولی سی کمیت بھی بے پناہ توانائی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ اس اصول سے واضح ہوتا ہے کہ کائنات کی ساخت جامد نہیں بلکہ مسلسل تبادلے اور تغیر کے عمل میں ہے۔

حرکی حرارت کے قوانین کے مطابق بے ترتیبی وقت کے ساتھ بڑھتی ہے، جسے انتشار کہا جاتا ہے۔ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ کائنات مسلسل نئے توازن کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یعنی ترتیب، بقا اور انحلال سب ایک جاری طبیعی عمل کا حصہ ہیں۔

ان سائنسی دلائل کی روشنی میں “تخلیق ہوئی” کہنا ایک محدود اور قطعی تعبیر معلوم ہوتا ہے۔ زیادہ قرینِ قیاس بات یہ ہے کہ تخلیق “ہو رہی ہے” کہا جائے۔ کائنات ایک ارتقائی تسلسل ہے، جس میں مادّہ، توانائی، وقت اور مکان مسلسل نئے سانچوں میں ڈھل رہے ہیں۔

یعنی تخلیق کوئی ماضی کا بند باب نہیں یہ ایک جاری اور متحرک کائناتی عمل ہے۔۔۔۔۔

آپکی کیا رائے ہے ؟

Loading