Daily Roshni News

کپل دیو سمیت 14 سابق انٹرنیشنل کپتانوں کا وزیر اعظم پاکستان کو خط، عمران خان کے بہتر علاج کا مطالبہ

کپل دیو سمیت 14 سابق انٹرنیشنل کپتانوں کا وزیر اعظم پاکستان کو خط، عمران خان کے بہتر علاج کا مطالبہ

پاکستان(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )دنیائے کرکٹ کے 14 سابق کپتانوں نے سابق پاکستانی کپتان عمران خان کے بہتر علاج کیلئے حکومت پاکستان کو خط لکھ دیا۔

آسٹریلوی اخبار The Age کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کے 14 سابق انٹرنیشنل کرکٹ کپتانوں نے پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف  کو ایک خط لکھ کر سابق کپتان عمران خان کی صحت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے ۔

اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس خط کا مسودہ سابق آسٹریلوی کپتان گریگ چیپل نے تیار کیا جس پر  مائیکل ایتھرٹن، ایلن بارڈر، مائیکل بریئرلی،  این چیپل، بیلنڈا کلارک، سنیل گواسکر، ڈیوڈ گوور، کم ہیوز، ناصر حسین، سر کلائیو لائیڈ، کپل دیو، اسٹیف وا  ور  جان رائٹ کے دستخط موجود ہیں۔

خط میں کہا گیا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق حالیہ رپورٹس خصوصاً حراست کے دوران بینائی متاثر ہونے نے ہمیں شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی کرکٹ کے لیے خدمات کو دنیا بھر میں سراہا جاتا ہے۔ بطور کپتان انہوں نے پاکستان کو تاریخی 1992 ورلڈکپ میں فتح دلائی جس نے سرحدوں سے پار  نسلوں کو متاثر کیا۔

سابق کپتانوں کی جانب سے خط میں کہا گیا کہ ہم میں سے بہت سے لوگوں نے اُن کے خلاف کھیلا، اُن کے ساتھ میدان شیئر کیا،  وہ کھیل کے بہترین آل راؤنڈرز اور کپتانوں میں شمار ہوتے ہیں اور کھلاڑیوں، شائقین اور منتظمین سب کی عزت کے مستحق ہیں۔

خط کے اختتام پر دستخط کنندگان نے حکومتِ پاکستان سے  مطالبہ کیا کہ عمران خان کو فوری، مناسب اور مسلسل طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔

واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے آنکھوں کےمعائنہ سے متعلق میڈیکل رپورٹ سامنے آگئی ہے۔

میڈیکل رپورٹ کے مطابق عمران خان کے صحت کا معائنہ کرنے کے لیے 2 رکنی میڈیکل بورڈ نے اڈیالہ جیل کا دورہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا معائنہ 15 فروری 2026 کو کیا گیا، پروفیسرز پر مشتمل ماہر امراضِ چشم کے میڈیکل بورڈ نے مائنہ کیا، میڈیکل بورڈ میں الشفاء ٹرسٹ آئی اسپتال کے پروفیسر ڈاکٹر ندیم قریشی اورپمز اسلام آباد کے پروفیسر  ڈاکٹر محمد عارف خان شامل تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی عینک کے بغیر 6/24 پارشل ریکارڈ ہوئی جبکہ بائیں آنکھ کی بینائی 6/9 ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق عینک کے ساتھ دائیں آنکھ کی بینائی بہتر ہو کر 6/9 پارشل ہوگئی جبکہ بائیں آنکھ کی بینائی مکمل طور پر 6/6 ہوگئی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ دائیں آنکھ کے معائنے میں پردہ بصارت پر سوزش کے آثار پائے گئے ہیں، دائیں آنکھ کی سوجن میں کمی آئی ہے، دائیں آنکھ کی موٹائی 550 سے کم ہو کر 350 ہوگئی جو بہتری کی علامت ہے۔

رپورٹ کے مطابق میڈیکل بورڈ نے دونوں آنکھوں کے لیے نیواناک اور سسٹین الٹرا ڈراپس تجویز کیے جبکہ صرف دائیں آنکھ کےلیے کوسوپٹ آئی ڈراپس تجویز کیے گئے۔

Loading