بہروپ
تحریر۔۔۔اشفاق احمد
(قسط نمبر2)
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ بہروپ۔۔۔ تحریر۔۔۔اشفاق احمد )میں فن کار ہوں اور ایک فن کار کی حیثیت سے آپ کے خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔ میں بہروپیا ہوں۔ میرا نام کندن ہے۔ میں ایسا بہروپ بدل سکتا ہوں کہ شہنشاہ معظم کو جنہیں اپنے تبجر علمی پر بڑا ناز ہے، دھوکا دے سکتا ہوں۔“
اور نگزیب عالمگیر نے کہا: ” یہ بات توضیع اوقات ہے۔ میں تو شکار کو بھی بیکار سمجھتا ہوں۔ یہ تم جو چیز میرے پاس لائے ہو، اس کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ “
اس نے کہا: ” نہیں صاحب ہاتھ کنگن کو آری کیا۔ آپ اتنے بڑے شہنشاہ ہیں اور دانش میں اپنا جواب نہیں رکھتے۔ میں بھیس بدلوں گا، آپ پہچان کر د کھائیے۔ “
تو انہوں نے کہا: ” منظور ہے اس نے کہا: حضور آپ وقت کے شہنشاہ ہیں۔ اگر تو آپ نے مجھے پہچان لیا تو میں آپ کا دین دار ہوں۔ لیکن اگر آپ مجھے پہچان نہ سکے اور میں نے ایسا بھیس بدلا تو میں آپ سے پانچ سور و پیہ لوں گا۔ “ ظاہر ہے اس وقت پانچ سو بہت ہوں گے۔ شہنشاہ نے کہا ٹھیک ہے۔ منظور ہے، جاؤ۔“ تو وہ شرط طے کر کے چلا گیا اور پھر سوچنے لگا۔ گھر جا کر بھی پریشان ہوا کہ میں شیخی میں ایسی شرط ید کر آگیا ہوں۔ میں کون سا ابیا روپ بدلوں کہ بادشاہ کو پتا نہ چلے۔ پھرتا پھر اتا تحقیق و تفتیش کرتا رہا۔ لوگوں سے پتہ چلا اور نگ زیب عالمگیر ساؤ تھے انڈیا میں مرہٹوں پر اور ہمنی سلطنتوں پر اکثر حملے کیا کرتا تھا۔ انہوں نے کہا، یہ سال چھوڑ کر اگلے سال پھر ان پر حملہ کرے گا۔ اس نے کہا، ٹھیک ہے۔ چنانچہ وہ یہاں سے پا پیادہ سفر کرتا ہوا اس مقام پر پہنچ گیا جہاں ہمنی سلطنت تھی۔ وہاں جا کر اس نے ایک بزرگ کا روپ دھارا۔ ڈاڑھی بڑھا لی۔ سبز کپڑے پہن لیے۔ بڑے بڑے منکے گلے میں ڈال لیے، اور بڑی دیر تک بہت دور تک لوگوں کو اپنے اس سحر میں مبتلا کرتا رہا۔ ارد گرد کے لوگ بابا پیر کی محبت میں گرفتار ہو گئے۔ لوگ آنے لگے اور طرح طرح کے چڑھاوے چڑھانے لگے۔ دور دور تک اس کا نام آنے لگا لیکن وہ استقامت کے ساتھ سال بھر ایسی ریاضت میں مصروف رہا جو بزرگ کیا کرتے ہیں۔
ایک سال کے بعد جب اپنا لاؤ لشکر لے کر اور تنگ زیب عالمگیر ساؤتھ انڈیا پہنچا اور وہاں پڑاؤڈالا تو تھوڑا سا وہ خوف زدہ تھا۔
جب اس نے مرہٹوں کے پیشوا پر حملہ کیا تو وہ اتنی مضبوطی کے ساتھ قلعہ بند تھے اس کی فوجیں توڑ نہ سکیں۔ پریشانی کا عالم ہو گیا اور یقین ہو گیا که شاید ناکام لوٹنا پڑے اور اس کی حکومت پر برا اثر پڑے۔
لوگوں نے کہا، یہاں ایک درویش ولی اللہ رہتے ہیں۔ درخت کے نیچے ۔ آپ ان کی خدمت میں حاضر ہوں اور ان سے دعا کروائیں۔
شہنشاہ پریشان تھا، بے چارہ بھاگا بھاگا ان کے پاس گیا۔ سلام کیا اور کہا: ” حضور میں آپ کی
خدمت میں حاضر ….
انہوں نے کہا: ” ہم فقیر آدمی ہیں۔ ہمیں ایسی چیزوں سے کیا لینا دینا۔“
شہنشاہ نے کہا: ” بڑا مشکل وقت ہے (جیسے انسان بہانے کیا کرتا ہے) آپ ہماری مدد کریں۔ میں کل اس قلعے پر حملہ کرنا چاہتا ہوں۔ فقیر نے فرمایا: “نہیں کل مت کریں، پرسوں کریں اور پرسوں بعد نماز ظہر ۔ “
اور نگزیب نے کہا جی بہت اچھا۔ چنانچہ اس نے بعد نماز ظہر جو حملہ کیا وہ کچھ اس جذبے سے کیا کہ پیچھے فقیر کی دعا تھی، اور ایسی دعا کہ وہ قلعہ ٹوٹ گیا اور فتح ہو گئی۔ مفتوح پاؤں پڑ گئے۔
بادشاہ مرہٹوں کے پیشوا پر فتح مند کامران ہونے کے بعد سید ھادر ولیش کی خدمت میں حاضر ہوا۔ بادشاہ سبز رنگ کا بڑا سا عمامہ پہنتا تھا، بڑے زمرد اور جواہر لگے ہوتے تھے۔ بادشاہ نے جا کر عمامہ اتارا اور کھڑا ہو گیا۔ دست بستہ کہ حضور یہ سب کچھ آپ ہی کی بدولت ہوا ہے۔ آپ کی خدمت میں کچھ پیش کرنا چاہتا ہوں درویش نے کہا: ” نہیں ہم فقیر لوگ ہیں۔“ بادشاہ نے کہا کہ ” دو پر گنے کی معافی دو بڑے تھے۔ اتنے بڑے جتنے آپ کے اوکاڑہ اور چتو کی ہیں۔ وہ ان کو دیتا ہوں اور زمین اور آئندہ پانچ سات پشتوں کے لیے ہر طرح کے ٹیکس کی معافی ہے۔ “
اس نے کہا: ”بابا یہ ہمارے کس کام کی ہیں ساری چیز ں چیزیں۔ ہم تو فقیر لوگ ہیں۔
تیری بڑی مہربانی۔ “
اور نگزیب نے بڑا زور لگایا، لیکن وہ نہیں مانا اور بادشاہ مایوس ہو کر واپس آگیا۔۔
اس نے اپنے تخت کے اوپر متمکن ہو کر ایک نیا فرمان جاری کیا۔ جب شہنشاہ فرمان جاری کر رہا تھا، عین اس وقت کندن بہروپیا اسی طرح مسنکے پہنے آیا۔ شہنشاہ نے کہا: ”حضور آپ یہاں کیوں تشریف لائے۔ آپ مجھے حکم دیتے، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا۔“
کندن نے کہا: “نہیں شہنشاہ معظم ! اب یہ ہمار افرض تھا، ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے، تو جناب عالی میں کندن بہروپیا ہوں۔ میرے پانچ سوروپے مجھے عنایت فرمائیں۔“ اس نے کہا: ” تم وہ ہو ؟“
اس نے کہا، ” ہاں وہی ہوں جو آج سے ڈیڑھ برس پہلے آپ سے وعدہ کر کے گیا تھا۔ “ اور نگزیب نے کہا: ” مجھے پانچ سو روپیہ دینے میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔
میں آپ سے یہ پوچھتا ہوں، جب میں نے آپ کو دو پر گھنے اور دو قصبے کی معافی دی۔ جب آپ کے نام اتنی زمین کر دی۔ جب میں نے آپ کی سات پشتوں کو یہ رعایت دی کہ اس میری مملکت میں جہاں چاہیں جس طرح چاہیں رہیں۔ آپ نے اس وقت کیوں انکار کر دیا۔ یہ پانچ سو روپیہ تو کچھ بھی نہیں۔ “
اس نے کہا: ”حضور …. بات میں ہے کہ جن کاروپ دھارا تھا، ان کی عزت مقصود تھی۔ وہ بچے لوگ ہیں۔ ہم جھوٹے لوگ ہیں۔ یہ میں نہیں کر سکتا تھا۔ کہ روپ بچوں کا دھاروں اور پھر بے ایمانی کروں۔“
کتاب زاویہ جلد اول سے اقتباس ]
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ نومبر2025
![]()

