Daily Roshni News

ایڈون ہبل (Edwin Hubble) بیسویں صدی کے سب سے اہم ماہرِ فلکیات

ایڈون ہبل (Edwin Hubble) بیسویں صدی کے سب سے اہم ماہرِ فلکیات

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ایڈون ہبل (Edwin Hubble) بیسویں صدی کے سب سے اہم ماہرِ فلکیات میں سے ایک مانے جاتے ہیں۔ ان کی دریافتوں نے کائنات کے بارے میں ہمارے نظریات کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا۔

ان کی اہم ترین خدمات درج ذیل ہیں:

  1. کہکشاؤں کی دریافت (The Discovery of Other Galaxies)

ہبل سے پہلے سائنسدانوں کا خیال تھا کہ ہماری کہکشاں “ملکی وے” (Milky Way) ہی پوری کائنات ہے۔ 1924 میں ہبل نے ثابت کیا کہ خلا میں ملکی وے کے علاوہ بھی بے شمار کہکشائیں موجود ہیں۔ انہوں نے اینڈرومیڈا (Andromeda) میں موجود ستاروں کا فاصلہ ناپ کر یہ دکھایا کہ وہ ہماری کہکشاں سے بہت دور ہیں۔

  1. پھیلتی ہوئی کائنات (Expanding Universe)

1929 میں ہبل نے ایک انقلابی مشاہدہ کیا جسے ہبل کا قانون (Hubble’s Law) کہا جاتا ہے۔ انہوں نے دیکھا کہ کہکشائیں ایک دوسرے سے دور جا رہی ہیں، اور جو کہکشاں جتنی دور ہے، وہ اتنی ہی تیزی سے دور ہو رہی ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ کائنات ساکن نہیں ہے بلکہ مسلسل پھیل رہی ہے۔

  1. بگ بینگ تھیوری کی بنیاد

کائنات کے پھیلنے کی دریافت نے بگ بینگ (Big Bang) کے نظریے کو جنم دیا۔ اگر کائنات پھیل رہی ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ ماضی میں کسی وقت یہ تمام مادہ ایک ہی نقطے پر جمع تھا۔ ہبل کے کام نے ہی سائنسدانوں کو کائنات کی عمر کا اندازہ لگانے میں مدد دی۔

  1. کہکشاؤں کی درجہ بندی (Hubble Sequence)

ہبل نے کہکشاؤں کو ان کی شکل و صورت کے لحاظ سے مختلف گروہوں میں تقسیم کیا، جسے “ہبل ٹیوننگ فورک” (Hubble Tuning Fork) کہا جاتا ہے۔ آج بھی ماہرینِ فلکیات کہکشاؤں کو بیضوی (Elliptical)، لہری (Spiral) اور بے ترتیب (Irregular) اقسام میں بانٹنے کے لیے اسی نظام کا استعمال کرتے ہیں۔

دلچسپ بات:

ان کی عظیم خدمات کے اعتراف میں دنیا کی مشہور ترین خلائی دوربین کا نام “ہبل سپیس ٹیلی سکوپ” رکھا گیا، جس نے پچھلے کئی سالوں سے ہمیں کائنات کی شاندار تصاویر فراہم کی ہیں۔

Loading