فتح بنگال (1576ء): آخری آزاد سلطنت کا مغل سلطنت میں انضمام
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں 1576ء ایک خاص اہمیت رکھتا ہے، خاص طور پر بنگال کے تناظر میں۔ یہ وہ سال ہے جب بنگال کی طویل عرصے سے قائم آزاد سلطنت کا خاتمہ ہوا اور اسے مغل سلطنت میں ضم کر لیا گیا۔ یہ واقعہ محض ایک فوجی تصادم کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ اس کے پس پردہ کئی سالوں کی کشمکش، سیاسی چال بازی اور علاقائی توسیع کی خواہش کارفرما تھی۔ بارہ جولائی 1576ء کو لڑی جانے والی جنگ راج محل نے بنگال کی تقدیر بدل کر رکھ دی اور اس خطے میں مغلیہ دور کا باقاعدہ آغاز کیا ۔
اس سے پہلے بنگال کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ 1538ء میں حسین شاہی خاندان کے آخری سلطان غیاث الدین محمود شاہ کی وفات کے بعد بنگال کی آزاد سلطانی کمزور ہو گئی تھی ۔ مغل شہنشاہ ہمایوں نے دارالحکومت گوڑ پر قبضہ تو کر لیا تھا مگر وہ اسے زیادہ دیر تک برقرار نہ رکھ سکا اور شیر شاہ سوری نے اسے چوسا کی جنگ میں شکست دے کر بنگال پر اپنا تسلط قائم کر لیا ۔ بعد ازاں، افغان نژاد کرانی خاندان نے بنگال میں اپنی حکومت قائم کی۔ اس خاندان کا آخری حکمران سلطان داؤد خان کرانی تھا، جس نے مغل شہنشاہ اکبر کی بالادستی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ بغاوت اس عظیم جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوئی جس نے بنگال کی سیاسی صورت حال کو یکسر تبدیل کر دیا ۔
سلطان داؤد خان کرانی کی گستاخی اور خود مختاری کا دعویٰ اکبر جیسے مقتدر بادشاہ کو گوارا نہیں تھا، جو اپنی سلطنت کو مضبوط اور وسیع کرنے کے درپے تھا۔ اس تنازع کا پہلا بڑا معرکہ 1575ء میں جنگ تکروئی کی صورت میں سامنے آیا، جس میں مغل جرنیل منعم خان نے داؤد خان کو شکست دی ۔ اس شکست کے بعد بارہ اپریل 1575ء کو معاہدۂ کٹک طے پایا، جس کے تحت داؤد خان نے بنگال اور بہار کے علاقے مغلوں کے حوالے کر دیے اور صرف اڑیسہ (جسے موجودہ اوڈیشا کہا جاتا ہے) پر اپنا حق برقرار رکھا ۔ یہ معاہدہ زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ بنگال کے مشہور سردار عیسیٰ خان، جو بارہ بھویوں (بارہ زمیندار) کے سربراہ تھے، نے مغل بحری بیڑے کو نکال باہر کیا ۔ ادھر مغل جرنیل منعم خان کی وفات کے بعد داؤد خان نے پھر سے سر اٹھایا اور اپنے کھوئے ہوئے علاقوں پر دوبارہ قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ وہ شمالی اور مغربی بنگال پر دوبارہ قابض ہونے میں کامیاب ہو گیا ۔
ان واقعات نے اکبر کو ایک بار پھر بنگال کی طرف توجہ دینے پر مجبور کیا۔ اس بار اس نے اپنے تجربہ کار سپہ سالار خان جہاں حسین قلی بیگ کو بھیجے جانے والی مہم کی قیادت سونپی ۔ داؤد خان کی افواج میں کلپہاڑ، جنید اور قتلو خان جیسے نامور جرنیل شامل تھے ۔ مغل فوج نے پہلے تیلیا گڑھی کے مقام پر افغانوں کا مقابلہ کیا اور اس تزویراتی حیثیت کے حامل مقام پر قبضہ کر لیا ۔ اس کے بعد وہ راج محل کی طرف بڑھے۔ راج محل کا قلعہ مغل افواج کے محاصرے میں آ گیا، اور یہ محاصرہ تقریباً چار ماہ تک جاری رہا ۔ اس دوران بہار کے حکمران مظفر خان توربتی پانچ ہزار رسہ کشوں اور سمندری راستے سے رسد لے کر مغلوں کی مدد کو پہنچا، جس سے مغل فوج کی طاقت میں مزید اضافہ ہو گیا ۔
بارہ جولائی 1576ء کو فیصلہ کن جنگ راج محل کے مقام پر لڑی گئی۔ داؤد خان کرانی کی فوج میں کلپاہڑ، جنید اور قتلو خان جیسے بہادر جرنیل شامل تھے، مگر مغل افواج کی تعداد اور ہتھیاروں کی برتری کے سامنے وہ زیادہ دیر نہ ٹھہر سکے ۔ اس جنگ میں افغان فوج کو بری طرح شکست ہوئی۔ اندازوں کے مطابق داؤد خان کی پچاس ہزار فوج میں سے سینتالیس ہزار افراد کام آئے ۔ خود سلطان داؤد خان کرانی کو گرفتار کر لیا گیا اور بعد ازاں اسے پھانسی دے دی گئی ۔ داؤد خان کی پھانسی کے ساتھ ہی بنگال میں کرانی خاندان کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا اور تقریباً دو سو پچاس سالہ بنگال سلطانی کا دور اپنے انجام کو پہنچا۔
اس فتح کے فوری نتیجے کے طور پر بنگال مغلیہ سلطنت کا ایک صوبہ (سبہ) قرار پایا ۔ یہ مغلیہ توسیع کی ایک شاندار کامیابی تھی جس نے ایک مالدار اور تزویراتی لحاظ سے اہم خطے کو سلطنت میں شامل کر لیا۔ تاہم، راج محل کی جنگ اور داؤد خان کی موت کا مطلب یہ ہر گز نہیں تھا کہ بنگال میں مغلوں کی عملداری فوری طور پر قائم ہو گئی۔ عیسیٰ خان کی قیادت میں بارہ بھویوں (مقامی زمینداروں اور سرداروں کا اتحاد) نے مغلوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھی ۔ ان سرداروں نے گوریلا جنگ اور اپنے علاقوں پر قابض رہ کر مغلوں کی پیش قدمی کو کئی سالوں تک روکے رکھا۔ یہ مزاحمت اتنی موثر تھی کہ مغل 1599ء میں عیسیٰ خان کی موت سے پہلے بنگال پر مکمل کنٹرول حاصل نہ کر سکے ۔
فتح بنگال (1576ء) محض ایک تاریخی تاریخ نہیں بلکہ برصغیر کی تاریخ کا اہم موڑ ہے۔ اس نے نہ صرف ایک آزاد مسلم سلطنت کا خاتمہ کیا بلکہ ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ اس فتح کے بعد بنگال کی سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی زندگی مغلیہ اثرات سے ڈھلنا شروع ہوئی۔ مغلوں کی منظم حکومت، مرکزی نظام اور تجارتی پالیسیوں نے آنے والی صدیوں میں بنگال کی ترقی کی راہ ہموار کی۔ اگرچہ مکمل استحکام آنے میں مزید کئی سال لگے، لیکن 12 جولائی 1576ء کا وہ دن بنگال کی تاریخ کے روشن ترین ابواب میں سے ایک کا آغاز تھا جب یہ خطہ وسیع تر مغلیہ برصغیر کا حصہ بنا۔
![]()

