کششِ کے قانون
تحریر ۔۔۔ عبدالوحید نظامی
انتخاب ۔ محمد جاوید عظیمی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ کششِ کے قانون۔۔۔ تحریر ۔۔۔ عبدالوحید نظامی۔۔۔ انتخاب ۔ محمد جاوید عظیمی)کششِ کے قانون law of attraction کے مطابق ہر چیز کسی دوسری چیز کو اپنی طرف کھینچتی ہے یہی نظام مرد اور عورت کے اندر بھی کام کرتا ہے۔
مرد اور عورت اللہ تعالٰی کے تخلیقی فارمولوں کا مرکب ہیں، روحانی علوم کے مطابق مرد کے اندر عورت چھپی ہوئی ہے اور عورت کے اندر مرد پوشیدہ ہے، اندر کی عورت ظاہر والی عورت سے ملنا چاہتی ہے اور اندر کا مرد باہر والے مرد سے ملکر اپنی تکمیل کرنا چاہتا ہے، یعنی ظاہر اور باطن جب ایک ہوجاتے ہیں تکمیل کے تمام مراحل مکمل ہوجانے سے سکون اور اطمینان یعنی جنت والی زندگی کا حصول ہوجاتا ہے۔
مرد کے باطن میں اللہ تعالٰی کے تخلیقی فارمولوں کا نظام کام کرتا ہے اور عورت کے اندر اللہ تعالٰی کی صفت ربوبیت متحرک ہوتی ہے، تخلیق اور پرورش ملکر کائنات کو جاری وساری رکھتی ہے، روحانی نقطہ نظر سے اپنے باطن کے اندر اترنے کے لیے صوم یا روزہ بہت بہترین مشق اور عبادت سمجھی جاتی ہے، بھوک اور پیاس کے ساتھ نیند کا دورانیہ کم ہونے سے انسان کا اپنے باطن کے ساتھ تعلق انتہائی مضبوط ہوجاتا ہے جو اللہ کی صفات سے متعارف کراتا ہے، قران مجید کے مطابق عورت اور مرد ایک دوسرے کا لباس ہیں اور روحانی علم کے مطابق مادی جسم روح کا لباس ہے، اس قانون کے مطابق مرد کے مادی جسم کے اندر عورت اور عورت کے مادی جسم کے اندر مرد موجود ہے دونوں کے ظاہر و باطن ایک دوسرے کو اپنے سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں جسکے نتیجے میں ان کے جسموں سے ایک دوسرے کا باطنی رخ خارج ہو کر ایک دوسرے کے ظاہر میں تحلیل ہو جاتا ہے جو تخلیق کا سبب بنتا ہے، صوم یا روزہ کے ذریعے ہم اس قانون سے واقف ہوکر اللہ کی صفات کا عرفان حاصل کر سکتے ہیں، پچھلی پوسٹ میں ہم نے رات یا لیل کے حواس کا ذکر کیا تھا، جو غیب وشہود کا مشاہدہ کراتے ہیں، لیل کے حواس میں اگر ہم اپنی عورتوں کے پاس جائیں تو ایک دوسرے کے اندر اللہ تعالٰی کی صفات کا ادراک و مشاہدہ کر سکتے ہیں۔
اس قانون کو قرآن مجید کی سورہ بقرہ آیت 187 میں ان الفاظ میں بیان کیا ہے
” اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآىٕكُمْؕ-هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّؕ-
تمہارے لئے صیام کی رات میں اپنی عورتوں کے پاس جانا حلال کردیا گیا، وہ تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہو ۔ “
قران مجید کی الہامی طرزیں مرد اور عورت کے تخلیقی صفات سے متعارف کراتی ہیں جو اللہ کے عرفان کا سبب بنتی ہیں۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
{حبب إلي من الدنيا النساء , والطيب، وجعل قرة عيني في الصلاة}
*دنیا کی چیزوں میں سے عورت اور طیب یعنی پاکیزگی مجھے بہت پسند ہیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔*
اس حدیث میں تفکر کرنے سے یہ انکشاف ہوتا ہے عورت یعنی تخلیقی صفات اور طیب یعنی پاکیزگی یا لطافت سے مراد حواس یعنی آنکھوں کا آللہ کی طرف متوجہ ہوکر اللہ تعالٰی کی ذات سے قائم الصلوٰۃ ہوجانا ہے، جب کوئی سالک اپنے حواس کو اللہ کی طرف مرکوز رکھتا ہے تو لطائف رنگین ہوکر خوف اور غم سے آزاد کرکے نفس مطمئنہ میں داخل ہوجاتے ہیں
صوم یا روزہ اس کے حصول کی بنیاد ہے
![]()

