Daily Roshni News

اللہ کے رسولﷺ کے ساتھ اس اتفاقیہ ملاقات نے عبداللہ بن مسعود کو منزل کا پتا بتادیا۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )وہ روزانہ صبح سویرے، پو پھوٹتے ہی بکریوں کے ریوڑ مکّے کے سنگلاخ پہاڑوں کی گھاٹیوں میں چَرانے لے جاتا اور جب دن بھر کا تھکا ہارا سورج، اپنا سفر

 ختم کرکے مغرب کی جانب رواں دواں ہوتا، تو وہ بھی اپنے ریوڑ ہانکتا واپس لَوٹتا۔ یہ چھوٹے سے قد، دُبلی پتلی ٹانگوں

اور گندمی رنگت اِس نو عُمر، کم زور سے چرواہے کا روز کا معمول تھا۔ چہرے کی معصومیت اور آنکھوں کی چمک اُس کی ذہانت کا پتا دیتی تھی۔ پھر وہ خوش قسمت بھی تھا کہ والدین نے عرب کے جاہلانہ ماحول میں بھی اُسے ابتدائی تعلیم سے روشناس کروایا، جس کی بہ دولت وہ لکھنا پڑھنا بھی جانتا تھا، لیکن جب باپ کا سایہ سر سے اٹھا، تو اس باہمّت بچّے نے خاندان کا معاشی بوجھ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ وہ سارا دن خاموش، ویران وادیوں میں بکریوں کے پیچھے بھاگتا یا کسی بڑے پتھر کے سایے تلے حالات و واقعات کے بارے میں سوچ بچار کرکے اپنا وقت گزارتا۔ وہ اپنے لوگوں کی معاشرتی بدحالی، جاہلانہ رسم و رواج اور اخلاقی دیوالیہ پن کو نہ صرف ناپسند کرتا، بلکہ اُنہیں بدلنا بھی چاہتا تھا، مگر کیسے؟ اسے اس کا ادراک تھا اور نہ شعور، مگر وہ کسی اَن ہونی کا منتظر رہتا۔ آخر ایک دن اس نے دیکھا کہ دو روشن، باوقار اور پُرنور چہرے والے بزرگ، تھکن سے نڈھال اُس کی جانب بڑھے چلے آرہے ہیں۔ اس نے اُس بے آب وگیاہ، بیابان وادی میں موجود ان بزرگوں کو تعجب بھری نظروں سے دیکھا۔ دونوں قریب آئے اور اُن میں سے ایک گویا ہوئے’’اے لڑکے! ہم سخت پیاسے ہیں، کیا تم اس شدید گرمی میں کسی بکری کے دودھ سے ہماری پیاس بجھاسکتے ہو؟‘‘ نوعُمر چرواہے نے دوٹوک جواب دیا’’ بزرگو! مَیں ان بکریوں کا مالک نہیں، چرواہا ہوں۔ اِن کا مالک مکّے کا ایک سردار، عقبہ بن ابی محیط ( مشرک سردار) ہے، جس کی اجازت کے بغیر یہ کام امانت میں خیانت ہوگا۔‘‘ دونوں اجنبی بزرگوں نے جب نوعُمر چرواہے کی یہ بات سُنی، تو لمحے بھر کو اُن کے خشک لبوں پر خفیف سی مُسکراہٹ آئی۔ یوں لگا کہ جیسے وہ اس کا جواب سُن کر دِل میں خوش ہو رہے ہوں۔ پھر اُن میں سے ایک نے کہا’’ اچھا، کیا کوئی ایسی بکری بھی ہے، جو دودھ دینے کے قابل ہی نہ ہو؟‘‘۔’’ ہاں، ایسی بکری تو میرے پاس ہے، لیکن وہ آپ کے کس کام کی؟ اس سے پیاس کیسے بُجھے گی؟ ‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے ایک بکری کی نشان دہی کردی۔ ایک بزرگ آگے بڑھے، اس کے سوکھے اور چھوٹے تھنوں پر دستِ مبارک پھیرا اور دُعاکی۔ دیکھتے ہی دیکھتے اُس بکری کے تَھن دودھ سے لبریز ہوگئے، دونوں نے خُوب سیر ہو کر دودھ پیا اور چرواہے کو بھی پلایا اور جب دودھ پی چُکے، تو پھر تھنوں کو ہاتھ لگایا اور وہ اپنی اصلی حالت میں آگئے۔ نوعُمر چرواہا یہ عجیب و غریب منظر دیکھ کر حیران رہ گیا۔ جب وہ رخصت ہونے لگے، تو اُنہوں نے چرواہے سے نام پوچھا۔ وہ بولا’’ میرا نام، عبداللہ بن مسعود ہے۔‘‘ اب عبداللہ بن مسعود کو ہمّت ہوئی، بولے’’ صاحبو! اپنا تعارف بھی کروا دو‘‘، اور جب اُسے علم ہوا کہ ان میں سے ایک، اللہ کے آخری رسول، حضرت محمّد مصطفیٰﷺ ہیں اور دوسرے اُن کے دوست اور دستِ راست، حضرت ابوبکرؓ ہیں، تو اُس کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ وہ رسول اللہﷺ کے پیغام کے بارے میں سُن چُکا تھا اور اسے قریش کی سخت مخالفت کا بھی علم تھا۔ عبداللہ بن مسعود نے کہا’’ یارسول اللہﷺ! یہ دُعا مجھے بھی سکھا دیجیے۔‘‘ آپﷺ نے اُن کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے ہوئے فرمایا’’ تم تو خود معلّم ہو۔‘‘❣️

قبولِ اسلام

اللہ کے رسولﷺ کے ساتھ اس اتفاقیہ ملاقات نے عبداللہ بن مسعود کو منزل کا پتا بتادیا۔ اب اُن کے لیے وقت گزارنا مشکل تھا۔ شام ڈھلے بکریاں مالک کے حوالے کیں، گھر آئے، رات بے قراری میں گزاری، صبح صادق ہوتے ہی رسول اللہﷺ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے اور بالآخر ایک پہاڑ کی گھاٹی میںاپنی مُراد پالی۔ خدمتِ اقدسؐ میں حاضر ہوکر بیعت کی اور دائرۂ اسلام میں داخل ہوکر اپنے آپ کو خدمتِ نبویؐ کے لیے وقف کردیا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ مشرکوں کی بکریاں چَرانے والا، قرآن و فقہ میں مسلمانوں کا امام بن گیا۔💖

میزانِ اعمال

سیّدنا علی المرتضیٰؓ فرماتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو ایک درخت پر چڑھنے کو کہا تاکہ تازہ مسواک توڑ سکیں۔ جب وہ اوپر چڑھے، تو تیز ہوا کے سبب اُن کا کپڑا ٹانگوں سے ہٹ گیا، جس پر وہاں موجود لوگ اُن کی سوکھی اور پتلی پنڈلیاں دیکھ کر بے اختیار ہنس پڑے۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ’’تمھیں کس بات پر ہنسی آرہی ہے؟‘‘ جواب دیا’’ یارسول اللہﷺ! ان کی پتلی اور کم زور ٹانگیں دیکھ کر۔‘‘ آپﷺ نے فرمایا’’ میزانِ اعمال میں یہ اُحد پہاڑ سے بھی زیادہ وزنی ہوں گی۔‘‘❤️

غزوات میں شرکت

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے آنحضرتﷺ کے ساتھ تمام غزوات میں شرکت کی۔ غزوۂ بدر میں ابوجہل کو دو انصار بچّوں نے شدید زخمی کردیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، آنحضرتﷺ کے حکم پر ابوجہل کو تلاش کرتے ہوئے جب اُس تک پہنچے، تو اُس کی سانس چل رہی تھی۔حضرت ابنِ مسعودؓ اُس کے سینے پر سوار ہوئے، ایک پائوں اُس کی گردن پر رکھا اور کہا’’ اے اللہ کے دشمن! تو ہی ابوجہل ہے، آج اللہ نے تجھے خُوب ذلیل وخوار کیا ہے۔‘‘ ابوجہل نے پوچھا،’’ یہ بتا، فتح کس کی ہوئی ہے؟‘‘، حضرت ابنِ مسعودؓ نے جواب دیا’’ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی۔‘‘ پھر آپؓ نے اس کا سَرتن سے جدا کیا اور رسول اللہﷺ کے قدموں میں لاکر ڈال دیا۔ آپﷺ نے تین بار فرمایا ’’ واقعی، اُس ربّ کی قسم، جس کے سوا کوئی معبود نہیں‘‘۔ اُس کے بعد آپﷺ نے اللہ کی حمد وثناء بیان کی۔ پھر فرمایا’’ چلو، مجھے اس کی لاش دِکھائو۔‘‘ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے آپﷺ کو لے جاکر لاش دِکھائی، تو آپﷺ نے فرمایا ’’یہ اس امّت کا فرعون ہے‘‘ (الرحیق المختوم)۔

قاضیٔ کوفہ

گیارہ ہجری میں آنحضرتﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابنِ مسعودؓ گوشہ نشین ہوگئے تھے۔15ہجری میں جنگِ تبوک کے موقعے پر حضرت عُمر فاروقؓ نے اُنہیں گوشۂ تنہائی سے نکال کر محاذ پر بھیجا اور جب محاذ سے واپس آئے، تو اُنہیں کوفے کا قاضی مقرّر کردیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ 10 سال تک کوفے کے قاضی، بیت المال کے امیر اور شعبۂ تعلیم کے سربراہ رہے۔ اس عرصے میں آپؓ نے کوفے کو علم کی دولت سے مالا مال کردیا۔💞

سورۂ واقعہ کا کمال

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ مرض الموت میں مبتلا ہیں۔ خلیفۂ وقت، حضرت عثمان غنیؓ عیادت کے لیے تشریف لاتے ہیں اور فرماتے ہیں’’ اے ابنِ مسعودؓ! مَیں تمہاری بچّیوں کے لیے وظیفہ جاری کردوں؟‘‘ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ جواباً کہتے ہیں’’ امیرالمومنین! آپؓ میری بچّیوں کی فکر نہ کریں۔ مَیں نے اُنہیں تلقین کردی ہے کہ ہر شب، سونے سے پہلے سورۂ واقعہ پڑھ لیا کریں، کبھی عسرت وفاقے میں مبتلا نہیں ہوں گی اور نہ کبھی رزق میں کمی ہوگی۔‘‘🌹

وفات

آپؓ کا 32ہجری میں 63سال کی عُمر میں انتقال ہوا اور جنّت البقیع میں تدفین ہوئی۔بعض روایات کوفے میں تدفین سے متعلق بھی ہیں۔

واللہ اعلم بالصواب۔ غلطی کوتاہی اللہ تعالیٰ معاف فرمائے آمین۔

ہمارا بدری صحابہ اکرام جا سلسلہ جاری ہے اس کو اپنے دوستوں تک لوگوں تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں شکریہ۔

Loading