Daily Roshni News

شوہر اور بیوی: ایک دوسرے کا لباس

شوہر اور بیوی: ایک دوسرے کا لباس

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز  انٹرنیشنل )اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں میاں بیوی کے تعلق کو جس خوبصورت انداز میں بیان فرمایا ہے، وہ انسانی رشتوں کی سب سے جامع اور بلیغ تشریح ہے:

وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔”

یہ ایک جملہ نہیں، بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔

لباس انسان کے جسم کے سب سے قریب ہوتا ہے۔ وہ عیب

 چھپاتا ہے، سردی گرمی سے بچاتا ہے، زینت بھی بنتا ہے اور شناخت بھی۔ جب شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کا لباس کہا گیا، تو گویا یہ بتایا گیا کہ ان کا رشتہ محض قانونی معاہدہ نہیں، بلکہ قربت، حفاظت، عزت اور محبت کا حسین امتزاج ہے۔

  1. لباس عیب چھپاتا ہے

لباس کا پہلا کام عیب پوشی ہے۔ میاں بیوی کے تعلق میں بھی یہی اصول ہونا چاہیے۔

اگر شوہر میں کوئی کمزوری ہے تو بیوی اس کی پردہ پوشی کرے، اور اگر بیوی میں کوئی کمی ہے تو شوہر اسے لوگوں کے سامنے موضوعِ بحث نہ بنائے۔

آج گھروں کے جھگڑے اس لیے بڑھ جاتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے کی کمزوریوں کو دوسروں کے سامنے بیان کرنے لگتے ہیں۔ یاد رکھیے، جو شخص اپنے شریکِ حیات کی عزت کی حفاظت نہیں کرتا، وہ دراصل اپنے ہی وقار کو مجروح کرتا ہے۔

  1. لباس حفاظت کرتا ہے

لباس ہمیں موسم کی شدت سے بچاتا ہے۔ اسی طرح شوہر اور بیوی ایک دوسرے کو زندگی کی سختیوں سے بچاتے ہیں۔

جب دنیا کی ٹھوکریں انسان کو تھکا دیتی ہیں تو گھر اس کے لیے سکون گاہ ہونا چاہیے۔ شوہر کے لیے بیوی تسلی کا ذریعہ ہو، اور بیوی کے لیے شوہر اعتماد کا ستون۔

اگر گھر میں طنز، تحقیر اور بے اعتنائی ہو تو وہ گھر نہیں، ایک میدانِ جنگ بن جاتا ہے۔ لیکن اگر وہاں شفقت، مسکراہٹ اور دعائیں ہوں تو وہی گھر جنت کا نمونہ بن جاتا ہے۔

  1. لباس زینت ہے

لباس انسان کی خوبصورتی کو نکھارتا ہے۔ اسی طرح نیک بیوی شوہر کی شان بڑھاتی ہے، اور صالح شوہر بیوی کی عزت میں اضافہ کرتا ہے۔

ایک خوش اخلاق بیوی اپنے شوہر کے لیے دنیا کی سب سے قیمتی متاع ہے، اور ایک ذمہ دار شوہر بیوی کے لیے سب سے بڑا سہارا۔

ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا ہم ایک دوسرے کے لیے باعثِ زینت ہیں یا باعثِ زحمت؟

  1. لباس قربت کی علامت ہے

لباس جسم سے جدا نہیں ہوتا۔ اسی طرح میاں بیوی کا تعلق بھی گہری قربت اور اعتماد پر قائم ہونا چاہیے۔

یہ قربت صرف جسمانی نہیں بلکہ جذباتی اور روحانی بھی ہے۔ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہونا، خاموشی کو بھی سمجھ لینا، آنکھوں کی نمی کو محسوس کر لینا — یہی اصل ازدواجی محبت ہے۔

  1. لباس کا خیال رکھا جاتا ہے

جس لباس کو ہم پسند کرتے ہیں، اس کا خیال رکھتے ہیں۔ اسے صاف رکھتے ہیں، سنبھال کر رکھتے ہیں۔

میاں بیوی کے رشتے کو بھی توجہ، وقت اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔

رشتہ خود بخود خوبصورت نہیں رہتا؛ اسے محبت، صبر، درگزر اور شکر سے زندہ رکھا جاتا ہے۔

آج کے دور میں انا، مادیت اور سوشل میڈیا نے رشتوں کی سادگی چھین لی ہے۔ ہم دوسروں کی زندگیوں سے اپنا موازنہ کرتے ہیں اور اپنے گھر کی نعمتوں کو بھول جاتے ہیں۔

اگر ہر شوہر یہ نیت کر لے کہ وہ اپنی بیوی کے لیے رحمت بنے گا، اور ہر بیوی یہ ارادہ کر لے کہ وہ اپنے شوہر کے لیے سکون کا باعث بنے گی، تو گھروں میں جھگڑوں کی جگہ دعائیں لے لیں گی۔

میاں بیوی کا تعلق مقابلہ نہیں، مکمل کرنا ہے۔

یہ جیت ہار کا کھیل نہیں، بلکہ ایک مشترکہ سفر ہے۔

آئیے ہم عہد کریں کہ ہم ایک دوسرے کا ایسا لباس بنیں گے جو عیب چھپائے، عزت بڑھائے، سکون دے اور زندگی کو باوقار بنائے۔

اللہ تعالیٰ ہمارے گھروں کو محبت، رحمت اور سکون کا گہوارہ بنائے۔ آمین۔

Loading