Daily Roshni News

کیاآپ بتاسکتے ہیں کہ یہ کس کتاب کے پہلے باب کا ترجمہ ہے؟

کیاآپ بتاسکتے ہیں کہ یہ کس کتاب کے پہلے باب کا ترجمہ ہے؟

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اشارہ: یہ دنیا کی قدیم ترین کتاب ہے. کہا جاتاہے کہ بائبل کے مصنفوں نے اس کتاب سے قصے نقل کئے.

تین ابواب کا ترجمہ کر چکا ہوں. اس کتاب میں کچھ عریانیت یا فحاشی بھی ہے اس وجہ سے اے آئی نے تصویر بنانے سے انکار کر دیا. میں نے کسی طرح ایک تصویر بنا لی. آپ کی  رائے جاننے کے بعد جن فقروں سے فحاشی کا تاثر ملتا ہے انہیں بدلنے کی کوشش کروں گا.

باب اول

بادشاہوں کا بادشاہ، پہاڑ کی طرح طویل قامت اور طاقت کا کوہ گراں، با رعب اور بے خوف، عظمت و شوکت والا، ناقابل شکست جرنیل اور ناقابل تسخیر قلعہ، اپنی سپاہ کا محبوب اور رعایا کا محافظ، ایک سیلاب عظیم جو اپنی راہ میں آنے والی ہر چیز کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جاتا ہے، دو تہائی دیوتا اور ایک تہائی انسان، بادشاہ لوگل بندہ اور دیوی نینسن کا بیٹا جو ایک دیوتا بن گیا. اس نے پہاڑوں کو کاٹ کر راستے بنائے اور ڈھلوانوں پر کنویں کھودے. اس نے وسیع سمندروں کو عبور کیا اور اس سرزمین کی طرف سفر کیا جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے. ابدی زندگی کی تلاش اسے زمین کے کناروں تک لے گئی جہاں اس کی ملاقات اس بزرگ اتنا پشتیم سے ہوئی جو سیلاب عظیم سے بچ کر حیات جاودانی حاصل کر چکا تھا. آباؤاجداد کے عقائد، روایات، اور رسومات جنہیں لوگ فراموش کر چکے تھے اس نے انہیں دوبارہ رائج کیا. سیلاب نے جو عبادت گاہیں اور دیوی دیوتاؤں کے مجسمے تباہ کر دئیے تھے انھیں پھر سے تعمیر کر دیا. اس نے رعایا کی فلاح و بہبود اور سرزمین کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اقدامات کئے.  دنیا میں گلگامیش جیسا بادشاہ کوئی نہیں. چشم فلک نے اس جیسے رعب و دبدبے والا شہنشاہ کبھی نہیں دیکھا. مادر تخلیق ارورو نے اپنے ہاتھوں سے گلگامیش کے جسم کا ایک ایک عضو ڈیزائن کیا اور اسے دیوتاؤں کی طرح توانا، خوبصورت، پرنور، اور کامل بنایا.

ان دیومالائی صفات نے گلگامیش کو انتہائی مغرور اور سرکش بنا دیا. وہ ملک عروق کو اپنی ذاتی جاگیر سجھنے لگا. محل سے نکلتا تو راستے میں نظر آنے والی ہر شئے کو پاؤں تلے روند دیتا. بادشاہوں کا بادشاہ ہونے کے ناتے وہ اپنی ہر خواہش کو پورا کرنا اپنا حق سمجھتا تھا. باپ سے اس کا بیٹا چھین کر کچل دیتا. ماں سے اس کی بیٹی چھین کر اس سے اپنی ہوس پوری کر لیتا. جنگجو کی بیٹی ہو یا نوجوان دولہا کی نئی نویلی دلہن وہ جسے چاہتا اپنے بستر کی زینت بنا لیتا. کسی میں اسے روکنے ٹوکنے کی جرات نہیں تھی. آخرکارعروق کے باشندوں کے صابر کا پیمانہ لبریز ہو گیا. انہوں نے آسمان کی طرف منہ اٹھا کر دیوتاؤں کو پکارنا شروع کر دیا. ان کے نالہ و فریاد اور گریہ و زاری سے دیوتاؤں کے دل پگھل گئے. وہ سب مل کر مقدس عروق کے محافظ اپنےعظیم باپ انو کے پاس گئے اور یوں گویا ہوئے:

“مقدس آسمانی باپ، گلگامیش بلاشبہ عظمت و شوکت والا ہے. لیکن اپنی طاقت کے نشے میں لوگوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے. لوگوں کی چیخ و پکار سے آسمان ہل رہا ہے. وہ باپ سے بیٹے چھین کر کچل دیتا اور ماں سے اس کی بیٹی لے کر اپنی حاجت پوری کر لیتا ہے. کسی جنگجو کی بیٹی اور نوجوان کی دلہن تک اس کی ہوس سے محفوظ نہیں. کوئی نہیں جو اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روک سکے. کیا ایک بادشاہ کا یہ انداز حکمرانی مناسب ہے؟ ایک چرواہے کا کام اپنے ریوڑ کی حفاظت ہے ناکہ اسے برباد کرنا. مقدس باپ، آپ جلدی سے کچھ کریں. عروق کے باشندوں کی آہ و بکا سے آسمان لرز رہا ہے.”

انو نے دیوتاؤں کی التجا توجہ سے سنی اور مادر تخلیق کو پکارا،

” ارورو، تم نے انسانوں اور گلگامیش کو تخلیق کیا. اب جاؤ اور گلگامیش کا مدمقابل انسان بناؤ. ایسا انسان جو طاقت، ہیبت، اور ہمت میں گلگامیش کے برابر ہو. یہ نیا ہیرو گلگامیش کو اپنی طرف متوجہ کرے اور اسے شتر بے مہار کی طرح گھومنے پھرنے سے روک دے. یوں طاقت کا توازن برابر ہونے سےعروق میں امن قائم ہو جائے گا.”

انو کا حکم سن کر ارورو نے سر کو اثبات میں جنبش دی. اس نے اپنے ہاتھ نم کئے، بیابان سے مٹی چٹکیوں میں بھری اور اسے گوندھ کر آدمی کی شکل دے دی. اس جنگجو آدمی کو اینکیدو کا نام دے دیا. اینکیدو جنگی دیوتا نینورتا کی طرح طاقتور اور گلگامیش کی طرح خوبصورت جسم کا مالک تھا. اس کے سارے جسم کو بالوں نے ڈھانپ رکھا تھا. اس کے سر پر گھنے بال کسی عورت کی زلفوں کی طرح کمر تک لٹکے ہوئے تھے. اینکیدو جانوروں کی طرح ننگ دھڑنگ جنگلوں بیابانوں میں گھومتا پھرتا اور غزالوں کے ساتھ وادیوں میں پھل اور جڑی بوٹیاں کھاتا تھا. جب پیاس لگتی تھی تو ہرنوں کی طرح گھٹنے ٹیک کر ندیوں سے پانی پیتا.

ایک دن ایک شکاری نے اینکیدو کو جنگلی جانوروں کے ساتھ ایک چشمے پر پانی پیتے دیکھ لیا. اس ننگ دھڑنگ  دیوقامت انسان کو دیکھ کر شکاری کے رونگٹے کھڑے ہو گئے. خوف و دہشت سے اس کا چہرہ سفید ہو گیا اور ٹانگیں کانپنے لگیں. دوسرے اور پھر تیسرے دن بھی ایسا ہی ہوا. شکاری اپنے باپ کے پاس گیا اور اسے بتایا،

“میں نے ایک دیو نما وحشی آدمی کو جنگل میں چشمے کے پاس دیکھا ہے. اس کے پٹھے چٹان کی طرح سخت ہیں. میں نے اسے چیتے کی طرح بھاگتے دیکھا ہے. وہ جانوروں کے درمیان بلا خوف و خطر رہتا ہے. غزالوں کی طرح گھاس پھوس اور پھل کھاتا اور انہی کی طرح ندیوں اور چشموں سے پانی پیتا ہے. میرے بچھائے جال میں جو جانور پھنستے ہیں وہ انہیں آزاد کر دیتا ہے.”

باپ نے یہ ماجرا سن کر بیٹے سے کہا،

” عروق میں گلگامیش نام کا ایک آدمی رہتا ہے، وہ اس ملک کا بادشاہ ہے. دنیا میں اس جیسا ہیبت و طاقت والا کوئی آدمی نہیں. ابھی عروق جاؤ. گلگامیش سے ملو. اسے سارا قصہ بتاؤ. پھر جو وہ کہے اس پر عمل کرو.”

شکاری عروق گیا اور گلگامیش کے دربار میں حاضر ہو کر اسے دیو نما وحشی آدمی کے بارے میں بتایا. بادشاہ نے اسے کہا،

“اشتر کے مندر میں جاؤ. وہاں شمحت نامی دیوداسی، جو دیویوں کے احترام میں کسی بھی مرد کو اپنا جسم ہبہ کر دیتی ہے، اسے ساتھ لے کر بیابان چلے جاؤ. جب وحشی آدمی جانوروں کے ساتھ چشمے کا پانی پینے کے لئے آئے تو شمحت سے کہو کہ اپنا لباس اتار دے اور ٹانگیں پھیلا کر وہاں برہنہ لیٹ جائے. پھر فطرت اپنا کام کر دے گی. جانور وحشی آدمی کی حرکتیں دیکھ کر اس سے متنفر ہو جائیں گے اور وہ اکیلا رہ جائے گا.”

شکاری نے اشتر کی دیوداسی شمحت کو تلاش کر لیا اور وہ دونوں وحشی آدمی اینکیدو کی تلاش میں بیابان کی طرف نکل گئے. تین دن سفر کے بعد وہ اس چشمے کے نزدیک پہنچ گئے جہاں شکاری نے اینکیدو کو جانوروں کے ساتھ پانی پیتے دیکھا تھا. وہ وہاں چھپ کر انتظار کرنے لگے. تیسرے دن صبح سویرے اینکیدو ہرنوں کے غول کے ساتھ آیا اور سب چشمے کا صاف پانی پینے لگے. شکاری نے شمحت سے کہا،

“اب اپنی محبت کا جال پھینکنے کے لئے تیار ہو جاؤ. اپنا لباس اُتار دو اور ٹانگیں پھیلا کر لیٹ جاؤ. جب اینکیدو قریب آ جائے تو اپنی نسوانی اداؤں سے اسے جوش دلاؤ. اس کے جسم سے لپٹ کر اور بوس و کنار کرکے ہوس کی آگ کو بھڑکاؤ. پھر وہ تمہارے ساتھ وہی کرے گا جو فطرت کا تقاضا ہے. جانور اس کی یہ حرکت دیکھ کر اس کا ساتھ چھوڑ دیں گے اور وہ جنگل میں تنہا رہ جائے گا.”

شمحت نے اپنا لباس اتارا اور وہیں برہنہ لیٹ گئی. پھر اپنی ٹانگیں پھیلا کر اپنے پستانوں اور شرمگاہ پر ہاتھ پھیرنے   لگی۔ اینکیدو نے اسے دیکھا اور محتاط انداز میں چلتا ہوا اس کے قریب آیا. اس نے شمحت کے جسم کو دیکھا اور  سونگھا. شمحت نے اینکیدو کی رانوں کو چھوا اور اس کے عضو تناسل کو پکڑ کر اپنی شرمگاہ میں ڈال دیا. اس نے اپنے نسوانی پیارکے فن کا مظاہرہ کیا. اس نے اپنے بوسوں سے اینکیدو کی سانس روک لی اور اسے دکھایا کہ عورت کی صحبت کتنی مزیدار ہوتی ہے۔ اینکیدو سات دن تک وہیں شمحت سے محبت کرتا رہا. آخر کار اس کا جی بھر گیا. وہ کھڑا ہوا اور اپنے جانوروں میں دوبارہ شامل ہونے کے لیے پانی کے چشمے کی طرف چل دیا.

غزالوں، ہرنوں، اور دوسرے جانوروں نے اسے دیکھا اور بکھر گئے. اس نے ہرنوں کو پکڑنے کی کوشش کی، لیکن اس کا جسم تھک چکا تھا. اس کی زندگی کی طاقت خرچ ہو چکی تھی. اس کے گھٹنے کانپ رہے تھے. وہ اب جانوروں کی طرح دوڑنے کے قابل نہیں تھا. وہ واپس شمحت کی طرف آیا. چلتے چلتے اسے احساس ہوا کہ اس کا دماغ بڑا ہو گیا ہے. اب وہ ایسی چیزیں جان گیا ہے جو کوئی جانور نہیں جان سکتا. وہ شمحت کے قدموں میں بیٹھ گیا. اب شمحت کی گفتگو اس کی سمجھ میں آ رہی تھی. وہ کہہ رہی تھی،

“اینکیدو، اب تم جان گئے ہو کہ عورت کی صحبت اور قربت کیا ہے. تم ایک دیوتا کی طرح خوبصورت اور توانا ہو. تمہارا بیابانوں میں گھومنا پھرنا اور جانوروں کی طرح رہنا مناسب نہیں.میرے ساتھ چلو. میں آپ کو بلند دیواروں  والے شہر عروق کی سیر کراؤں گی. اشتر کے مندر میں لے جاؤں گی. عروق کے طاقتور بادشاہ گلگامیش کے محل میں اس سے ملاؤں گی. یہ طاقتور بادشاہ تکبر کی وجہ سے لوگوں پر ظلم کرتا ہے. انہیں مست ہاتھی کی طرح روندتا ہے.”

اینکیدو نے کچھ دیر سوچا اور پھر یوں گویا ہوا،

“مجھے عظیم شہر عروق، اشتر کے مندر، اور طاقتور بادشاہ گلگامیش کے محل میں لے چلو. میں اسے چیلنج کروں گا. میں اسے بتاؤں گا کہ سب سے طاقتور میں ہوں. میں پہاڑوں کو ہلا سکتا ہوں. میرے جیسا زورآور دنیا میں کوئی نہیں.”

شمحت نے اسے کہا،

“آؤ ہم عروق چلتے ہیں، میں تمہیں زبردست بادشاہ گلگامیش کے محل لے جاؤں گی. تم عظیم شہرعروق کو دیکھو گے جس کی بہت اونچی دیواریں ہیں. تم رنگ برنگے کپڑوں میں ملبوس بچوں، جوانوں، اور بزرگوں کو جشن مناتے دیکھو گے. گلیوں اور بازاروں میں گانے بجانے والوں کو ڈھول باجے کے ساتھ اپنے فن کا مظاہرہ کرتے دیکھو گے. اشتر کی خوبصورت دیوداسیوں کو مندر کے سامنے گپ شپ اور ہنسی مذاق کرتے دیکھو گے. انہیں دیویوں کے احترام میں مردوں کی جنسی آسودگی کے لئے ہر وقت تیار دیکھو گے. تم جو ابھی تک شہری زندگی سے بے خبر ہو میں تمہیں دنیا کا سب سے طاقتور بادشاہ گلگامیش دکھاؤں گی. تم اسے دیکھ کر حیرت کے سمندر میں غرق ہوجاؤ گے. وہ کتنا حسین، تنومند، اور نرالا ہے. قد و قامت میں تم سے بھی زیادہ لمبا اور مضبوط ہے. وہ کئی مردوں سے زیادہ طاقتور اور بے پناہ شہوانی قوت کا ملک ہے. اسے دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ اسے آرام یا نیند کی ضرورت ہی نہیں. سورج دیوتا شمس اس سے پیار کرتا ہے. دیوتاؤں کے باپ انو نے اسے اعلی دماغ دیا ہے. زمین کے دیوتا انلیل اور آب و حکمت کے دیوتا ایا نے بھی اسے عظیم بنانے میں اپنا حصہ ڈالا ہے. تم ابھی پہاڑوں سے نیچے نہیں اترے تھے کہ گلگامیش نے تمہیں خواب میں دیکھا تھا. وہ اپنی ماں، دیوی نینسن کے پاس گیا اور اسے اپنا خواب سنا کر اس کی تعبیر پوچھی.

“میں نے ایک روشن ستارہ دیکھا جو آسمان سے اتر کر میرےقدموں میں گرا اور میرے سامنے ایک بڑے پتھر کی طرح لیٹ گیا. میں نے اسے اٹھانے کی کوشش کی، لیکن یہ بہت بھاری تھا. پھر میں نے اسے سرکانے کی کوشش کی لیکن یہ اپنی جگہ سے نہیں ہلا. میرے اردگرد لوگ جمع ہوگئے اور مجھے جوش دلانے لگے. وہ چھوٹے بچوں کی طرح اس کے قدم چومنے لگے. آخرکار میں نے اس ستارے یا چٹان کو اپنی بانہوں میں لے لیا. میں نے اسے گلے لگایا اور اس طرح پیار کیا جیسے کوئی آدمی اپنی بیوی کو پیار کرتا ہے. پھر میں اسے لے کر آپ کے پاس آیا اور اسے آپ کے قدموں میں رکھ دیا. آپ نے مجھے بتایا کہ یہ میرا دوہرا، میرا دوسرا نفس ہے.”

گلگامیش کی ماں دیوی نینسن نے اپنے بیٹے سے کہا،

’’پیارے بچے، آسمان کا یہ روشن ستارہ یا پتھر تمہارا ایک عزیز دوست اور طاقتور ہیرو ہے. آپ اسے اپنی بانہوں میں لیں گے، گلے لگائیں گے، اور اس سے اس طرح پیار کریں گے جس طرح ایک آدمی اپنی بیوی کو پیار کرتا ہے. یہ آپ کا باڈی ڈبل یعنی دوسرا نفس ہے. آپ کا وفادار دوست جو خطرات میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوگا. بہت جلد تم اس سے ملو گے.‘‘

گلگامیش نے کہا،

’’امید ہے خواب پورا ہو گا. سچا دوست اور ساتھی ظاہر ہوگا. وہ ہر خطرے میں میرے شانہ بشانہ کھڑا ہو گا.”

جب شمحت نے بات ختم کی تو اینکیدو اس سے بغلگیر ہوا دونوں نے ایک بار پھر صحبت کی.

Loading