Daily Roshni News

اگر ایٹم بلاسٹ ہو گیا تو ؟

اگر ایٹم بلاسٹ ہو گیا تو ؟

 ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کئی دوسرے ممالک کو بھی شدید متاثر کر سکتا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ ، ایران کی جوہری تنصیباب پر حملے کر رہے ہیں۔ اس کو عالمی ادارے اور بہت سے ممالک بظور دیکھ رہے ہیں۔ ابھی تک تابکاری کا اخراج نہیں ہوا یعنی ایران کی جوہری تنصیبات محفوظ ہیں۔ لیکن ان حملوں کے نتیجے میں بھاری مقدار میں تابکاری کا اخراج ہو سکتا ہے جو ایران کے ساتھ ساتھ پڑوسی ممالک کو بھی شدید متاثر کر سکتا ہے جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ جس طرف کی ہوا ہو ادھر یہ جوہری مواد جاتا ہے اور وہاں بسنے والے انسانوں، فصلوں، جانوروں اور زمینوں کو بھی سالہا سال تک متاثر کر سکتا ہے۔ اس کے اثرات روس اور چین تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

ایران نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو وہ اس کا پوری شدت سے جواب دے گا۔ اب یہاں سوال یہ ہے کہ ایران کے پاس ابھی تک ایٹمی ہتھیار نہیں ہیں تو وہ جواب کیسے دے سکتا ہے؟

یہ بات درست ہے کہ ایران کے پاس جنگ سے پہلے تک جوہری ہتھیار نہیں تھے۔ اب کی کیا صورتِ حال ہے کسی کو نہیں معلوم۔ پھر اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ بھی ہوں تو اس کے پاس بہت بڑی مقدار میں ساٹھ فیصد سے زیادہ افزودہ یورینیم موجود ہے۔ ایران میں تابکاری پھیلی تو اس کا جواب دینے کے لیے ایران یہی افزودہ یورینیم ڈرونز  میں بھر کر اسرائیل کی طرف روانہ کر سکتا ہے ۔ پھر ان ڈرونز کو اسرائیلی فضا میں چکر لگوائے تاکہ اسرائیل کا فضائی دفاعی نظام انھیں فضاء میں ہی تباہ کرے۔ یوں یہ یورینیم فضاء میں ہی بکھر جائے گی اور اسرائیل کے بڑے رقبے کو متاثر کرے گی، خاص طور پر اگر یہ ڈرونز سینکڑوں میں ہوں۔ اسرائیل کا رقبہ بہت تھوڑا ہے تو اس کے لیے یہ تابکاری بہت زیادہ ہوگی۔ اس سے فوری طور پر کوئی دھماکہ نہیں ہوگا نہ ہی ایٹم بمب جیسی کوئی تباہی ہوگی لیکن اس تابکاری سے وہاں رہنے والے بہت لمبے عرصے تک متاثر ہوتے رہیں گے اور اتنے بڑے رقبے سے صاف کرنا تقریباً ناممکن ہوگا۔ اس سے پانی، ہوا، خوراک، جانور، کھیت، انسان سب کچھ متاثر ہوگا اور انسانوں میں کئی بیماریاں پھیلیں گی جن میں کینسر سرِ فہرست ہے۔ اس کے اثرات پڑوسی عرب ممالک پر بھی پڑیں گے۔ خاص طور پر اگر ان ڈرونز کو کسی اور ملک میں گرایا گیا تو وہاں بھی اس کے اثرات شدید ہونگے۔ میں نے نو سال فرانس میں تابکاری کے ساتھ کام کیا ہے ۔ اگرچہ یہ تحقیقی مقاصد کے لیے تھا لیکن اس کام سے پہلے کافی زیادہ ٹریننگ کروائی جاتی ہے اور اس کے نقصانات سے آگاہ کیا جاتا ہے، خود کو اور دوسروں کو بچانے کے طریقے سب سکھائے جاتے ہیں۔ اس کے بعد ہی ان خاص لیبارٹریز میں خاص لباس اور حفاظتی اقدامات کے ساتھ ہی داخل ہو سکتے ہیں اور پھر آنے اور جانے کے بعد لازمی چیکنگ ہوتی ہے۔ اس علم سے حاصل کی گئی معلومات کی بنا پر کہہ سکتا ہوں کہ اس تابکاری کے اثرات بہت زیادہ شدید ہوتے ہیں۔ یوں سمجھ لیں کہ ایک بمب کہیں گرتا ہے تو اسی وقت آگ لگا کر یا گڑھا وغیرہ بنا کر تباہی مچاتا ہے۔ لیکن تابکاری والا معاملہ ایسا ہے کہ صدیوں تک تابکاری خارج ہو سکتی ہے۔ ایک ایسی آگ، ایک ایسی شعاع، ایک ایسا دھواں سمجھ لیں جو مسلسل کئی  سالوں بلکہ صدیوں تک متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایران کے ردعمل سے صاف ظاہر ہے کہ اب وہ کسی بھی چیز کی پرواہ نہیں کر رہا اور بات سودوزیاں سے آگے نکل گئی ہے۔ اس کا موٴقف اب یہی ہے کہ ہم نہیں تو کوئی بھی نہیں۔

جو لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ جنگ جوہری نہیں ہو سکتی ان کے لیے انتباہ ہے کہ جنگ شروع تو آپ کر دیتے ہیں لیکن پھر اس کا پھیلاوٴ آپ کے ہاتھ میں بھی نہیں رہتا۔

اسرائیل امریکہ نے مذاکرات کے درمیان جنگ چھیڑکر بہت غلط کیا ہے اور یہ بات ساری دنیا کو معلوم ہے کہ وہ غلط ہیں، جارح ہیں اور ظالم ہیں۔ ایران دفاع کر رہا ہے کیونکہ اس پر جنگ مسلط کی گئی ہے۔ اس لیے اگر ایران یہ انتہائی قدم اٹھائے گا تو انتہائی غلط ہونے کے باوجود  بھی اسے بہت سے ممالک اس کا حق سمجھیں گے۔

انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم تیسری عالمی جنگ سے صرف ایک قدم کے فاصلے پر کھڑے ہیں۔ اللہ کرے کہ ایسا کچھ نہ ہو۔ اس کے لیے سب کو ظالم کو روکنا ہوگا۔

اللہ تو واحد ہے  تنہا ایران کی مدد فرما ۔

۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Loading