صدائے جرس
تحریر۔۔۔خواجہ شمس الدین عظیمی ؒ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ صدائے جرس۔۔۔ تحریر۔۔۔خواجہ شمس الدین عظیمی ؒ)جب انسان پیدا ہوتا ہے تو چھوٹا سا بچہ ہوتا ہے۔ ہاتھ ، پیر، دماغ، آنکھ، کان سب اعضا ہوتے ہیں۔ لیکن آنکھ ہونے کے باوجود نومولود بچہ اس طرح نہیں دیکھتا جس طرح سال بھر کا بچہ دیکھتا ہے۔ کان ہونے کے باوجود بچہ اس طرح نہیں سنتا جس طرح ایک دس سال کا بچہ سنتا ہے۔ ہاتھ ہونے کے باوجود بچہ کسی چیز کو اس طرح سے نہیں پکڑتا جس طرح تین سال کا بچہ کسی چیز کو پکڑتا ہے۔ کمر ہونے کے باوجود بارہ سال کا بچہ زیادہ وزن نہیں اٹھا سکتا۔ اسی صورت سے حلق ہونے کے باوجود بچہ لقمہ نہیں نگل سکتا۔ حالانکہ لقمہ نگلنے کے لئے ذرائع اس کے اندر موجود ہیں۔ کوئی بچہ مقرر نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اس عمر کو نہ پہنچ جائے جس عمر میں تقریر کی جاتی ہے۔ اگر نوزائیدہ بچے کو ماں سے لے کر کسی دوسرے کو پرورش کے لئے دے دیا جائے تو بچہ اصلی ماں کو نہیں پہچانتا۔ جب تک ماں کا تعارف نہ کرایا جائے۔ اگر بچے کی پرورش اچھے ماحول میں نہ ہو تو منانوے 99 فیصد اس بات کا امکان ہے کہ بچہ وہی عادات و اطوار اختیار کر لیتا ہے جو ماحول میں رائج ہیں۔ اگر اچھے ماحول میں پرورش کا موقع مل جائے تو 99 فیصد اس بات کا امکان ہے کہ بچے کی ذہنی تربیت اچھی ہو جاتی ہے۔ سوچنا یہ ہے کہ جب بچہ کے اندر حواس خمسہ موجود ہیں وہ بالغ آدمی کی طرح ان جو اس کو کیوں استعمال نہیں کرتا ؟ سارے ذرائع ہونے کے باجود بچہ حو اس کو استعمال نہیں کرتا؟ اس لئے کہ بچے نے حواس استعمال کرنے کا طریقہ نہیں سیکھا۔ کان اتنی آوازیں سننے کے ابھی متحمل نہیں ہوئے جتنی آواز ایک بڑا آدمی سن سکتا ہے ۔ روز مرہ کا مشاہدہ ہے۔ بچے کے سامنے کوئی آدمی زور سے بولتا ہے تو بچہ رونے لگتا ہے۔ آپ نے یہ بھی دیکھا ہو گا اگر بچے کو اچھی نظر سے نہ دیکھا جائے تو وہ پریشان ہو جاتا ہے۔ اگر بچے کو پیار کی نظر سے دیکھا جائے تو بچہ خوش ہوتا ہے، مسکراتا ہے۔ بچہ آپ کو دیکھ کر نہیں نہیں رہا۔ آپ کو ہنستے ہوئے دیکھ کر نہیں رہا ہے ۔ آپ بچہ کو پیار کریں خوش ہو گا۔ ہاتھ بڑھا دے گا کہ مجھے گود میں لے لو۔ اگر آپ بچہ سے ترش روئی سے پیش آئیں تو بچہ اچھا تاثر نہیں دے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بچے کے شعور میں احساس تو ہے لیکن جو ان آدمی کی طرح شعور نہیں ہے۔ اس لئے کہ اس نے شعوری صلاحیتوں کو استعمال کرنے کا طریقہ ابھی تک نہیں سیکھا۔
اس دنیا میں رہنے والے ہر انسان کے لئے ضروری ہے کہ زندگی گزارنے کے لئے وسائل مہیا ہوں۔ بچے کی پیدائش سے پہلے روشنی موجود ہے، سورج موجود ہے، ہوا موجود ہے۔ ہوا کے بغیر کوئی آدمی یا کوئی ذی روح زندہ نہیں رہتا۔ پیدا ہونے سے پہلے دودھ موجود ہے۔ ماں باپ موجود ہیں۔ گرم و سرد سے بچنے کے لئے گھر کی چاردیواری، چھت، کھڑکیاں ہیں۔ پہنے کے لئے کپڑے ہیں، نہانے کے لئے پانی ہے۔ خدانخواستہ کوئی دکھ درد ہو جائے تو علاج معالجے کی سہولتیں بھی موجود ہیں غرضیکہ زندگی گزارنے کے لئے جتنے بھی وسائل ضروری تھے سب مہیا ہیں۔ بچے کو اپنے لئے وسائل ڈھونڈنے نہیں پڑتے ، وہ مزدوری نہیں کرنی پڑتی، مزدوری کر ہی نہیں سکتا۔ تربیت کے لئے ماحول موجود ہے۔ ماحول میں والدین، عزیز و اقربا، بہن بھائی، رشتہ دار ہیں، کنبہ برادری ہے، محلہ ہے ، شہر ہے ، قوم ہے ، ملک ہے ، اساتذہ ہیں اور درس گاہیں ہیں۔
آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ بچہ نے پیدا ہوتے ہی اپنا استاد منتخب کر لیا تھا۔ روزگار حاصل کرنے کے لئے وسائل موجود ہیں۔ علم حاصل کرنے کے لئے اسکول، کالج، یونیورسٹی اور کاروبار کرنے کے لئے بازار دکانیں پہلے ۔ موجود ہیں۔ محنت مزدوری کرنے کے لئے اعصاب میں طاقت ہے۔ معاملہ فہمی کے لئے عقل ہے۔ اگر اس بچے نے فساد برپا کرنا ہے تو زمین پر فساد والا گروہ بھی ہے۔ اگر اس بچے نے امن اور شانتی سے دنیا میں رہنا ہے تو اس کے لئے امن اور شانتی والا گروہ بھی کام کر رہا ہے۔ مختصر یہ کہ بچے کے لئے پہلے سے ہر چیز مہیا کر دی ہے۔ بچہ آہستہ آہستہ بڑا ہوتا ہے۔ اس کے حواس میں بالیدگی اور پختگی آتی ہے۔ سننے، دیکھنے، چھونے چکھنے اور سونگھنے میں ارتقاء ہو تا رہتا ہے۔ وہ جیسے جیسے بڑا ہوتا ہے اس کے اندر ذہانت زیادہ ہوتی رہتی ہے۔
حاصل گفتگو یہ ہے کہ Physical Body میں اگر زندگی نہ ہو تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ زندگی اگر ہے تو وسائل کام آئیں گے، جو اس کام کریں گے، اساتذہ بھی پڑھائیں گے۔ عزیز بچو، محترم اساتذہ! یہ بات طے ہو گئی ہے کہ ہمارے مادی جسم کی کوئی ذاتی حیثیت نہیں ہے۔ یہ ایک لباس ہے ۔ روح اللہ کا امر ہے۔ اللہ کے امر سے مراد اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات بندوں میں منتقل کیں۔ انسان اشرف المخلوقات ہے۔ انسان اشرف المخلوقات کیا اس لئے ہے کہ وہ دیکھتا ہے، سنتا ہے، پکڑتا ہے …؟ تو سب جانور دیکھتے سنتے ہیں۔ بلی دیکھتی ہے، بلی سنتی ہے، بلی اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہے، بلی اپنے بچوں کی حفاظت کرتی ہے۔ بلی میں اور انسان میں کیا فرق ہوا ؟ عقل جانور میں بھی ہے۔ اگر عقل نہ ہوتی تو تو وہ اپنے بچوں کی حفاظت نہ کرتی۔ فرق یہ ہے کہ انسان اللہ کی صفات کا علم سیکھ لیتا ہے: انسان تمام مخلوق سے اس لئے ممتاز ہے کہ وہ حقیقت سے وقوف حاصل کر سکتا ہے۔ انسان اگر روح سے واقف نہیں ہو گا تو وہ کتنا ہی بڑا Scientist بن جائے اس کی حیثیت اشرف المخلوقات کی نہیں ہوگی۔ میں مشورہ دیتا ہوں کہ آپ دنیاوی علوم حاصل کیجئے۔ اس لئے کہ دنیاوی علوم اگر حاصل نہیں کریں گے تو آپ کی ذہنی صلاحیتیں نہیں بڑھیں گی۔ جب تک آپ دنیاوی علوم نہیں سیکھیں گے۔ آپ کے اندر صلاحیتوں میں اضافہ نہیں ہو گا۔ دنیاوی علوم کے ساتھ ساتھ روحانی علوم ضرور سیکھیں تا کہ آپ حیوانات سے ممتاز ہو جائیں۔ (آمین)
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ دسمبر 2025
![]()

