جسّاسہ اور دجال کا حیرت انگیز واقعہ: حضرت تمیم داریؓ کی زبانی ایک سچی روایت
اسلامی تاریخ اور احادیثِ نبوی ﷺ میں بعض ایسے واقعات بیان ہوئے ہیں جو انسان کو حیرت میں ڈال دیتے ہیں اور قیامت کی نشانیوں کے بارے میں گہری سوچ پر مجبور کرتے ہیں۔ انہی ایمان افروز اور حیرت انگیز واقعات میں سے ایک واقعہ حضرت تمیم داریؓ کی روایت ہے جس میں انہوں نے دجال اور ایک عجیب مخلوق جسّاسہ کے بارے میں تفصیل سے بیان کیا۔ یہ واقعہ نہ صرف دلچسپ ہے بلکہ قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک اہم حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔
حضرت تمیم داریؓ دراصل اسلام قبول کرنے سے پہلے عیسائی تھے۔ وہ علم رکھنے والے اور عبادت گزار شخص تھے۔ بعد میں جب انہوں نے اسلام قبول کیا تو صحابہ کرامؓ میں شامل ہو گئے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے ایک ایسا واقعہ بیان کیا جس نے صحابہ کرامؓ کو بھی حیران کر دیا اور نبی کریم ﷺ نے بھی اس کی تصدیق فرمائی۔
حضرت تمیم داریؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ تقریباً تیس آدمیوں کے ساتھ سمندر کے سفر پر نکلے۔ یہ لوگ تجارت یا کسی اور مقصد کے لیے سمندر میں روانہ ہوئے تھے۔ اچانک سمندر میں ایک شدید طوفان آگیا۔ لہریں بہت بلند اور خطرناک ہو گئیں اور طوفان اس قدر شدید تھا کہ ان کا جہاز ایک مہینے تک سمندر میں ادھر اُدھر بھٹکتا رہا۔ وہ لوگ بے بسی کے عالم میں لہروں کے رحم و کرم پر تھے اور انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ کس سمت جا رہے ہیں۔
آخرکار ایک دن ان کا جہاز ایک نامعلوم جزیرے کے قریب پہنچ گیا۔ انہوں نے اس جزیرے پر اترنے کا فیصلہ کیا تاکہ آرام کریں اور حالات کا جائزہ لیں۔ جب وہ جزیرے کے اندر کی طرف بڑھے تو انہیں ایک نہایت عجیب و غریب مخلوق نظر آئی۔ اس مخلوق کا پورا جسم گھنے بالوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ اس قدر بال تھے کہ یہ پہچاننا مشکل تھا کہ اس کا اگلا حصہ کون سا ہے اور پچھلا کون سا۔
جب انہوں نے اس مخلوق کو دیکھا تو حیران ہو گئے، لیکن اس سے بھی زیادہ حیرت اس وقت ہوئی جب وہ مخلوق بولنے لگی۔ انہوں نے اس سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ اس مخلوق نے جواب دیا کہ میں “جسّاسہ” ہوں۔ عربی زبان میں جسّاسہ کا مطلب ہے بہت زیادہ جاسوسی کرنے والی۔ یعنی ایسی مخلوق جو خبریں جمع کرتی اور دوسروں تک پہنچاتی ہے۔
جسّاسہ نے ان لوگوں کو بتایا کہ اس جزیرے میں ایک عمارت یا گرجا موجود ہے اور اس میں ایک شخص قید ہے جو تمہاری خبر سننے کے لیے بے چین ہے۔ جب یہ بات انہوں نے سنی تو انہیں خوف بھی محسوس ہوا اور تجسس بھی پیدا ہوا۔ چنانچہ وہ سب لوگ اس عمارت کی طرف روانہ ہو گئے۔
جب وہ عمارت کے اندر داخل ہوئے تو انہوں نے ایک نہایت ہی خوفناک اور حیران کن منظر دیکھا۔ وہاں ایک بہت بڑا آدمی موجود تھا۔ اس کا جسم غیر معمولی طور پر بڑا اور طاقتور دکھائی دیتا تھا۔ اس کے ہاتھ گردن کے ساتھ مضبوطی سے بندھے ہوئے تھے اور اس کے ٹخنے بھاری زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اسے سختی سے قید کیا گیا ہے۔
اس شخص نے ان لوگوں کو دیکھتے ہی سوالات کرنا شروع کر دیے۔ اس نے سب سے پہلے فلسطین کے علاقے بیسان کے کھجوروں کے بارے میں پوچھا کہ کیا وہاں کے کھجوروں کے درخت اب بھی پھل دیتے ہیں یا نہیں۔ پھر اس نے بحیرہ طبریہ یعنی جھیل طبریہ کے پانی کے بارے میں سوال کیا کہ کیا اس میں پانی باقی ہے۔ اس کے بعد اس نے ایک نہایت اہم سوال کیا کہ نبی اُمّی ﷺ کا کیا حال ہے؟ کیا وہ مکہ سے ہجرت کر کے نکل آئے ہیں؟
حضرت تمیم داریؓ اور ان کے ساتھیوں نے اس کے سوالات کے جواب دیے اور بتایا کہ نبی کریم ﷺ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لا چکے ہیں اور بہت سے لوگ ان کی پیروی اور اطاعت کر رہے ہیں۔ جب اس شخص نے یہ بات سنی تو اس نے کہا کہ لوگوں کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ اس نبی کی اطاعت کریں۔
اس کے بعد اس نے ایک اور حیران کن بات کہی۔ اس نے بتایا کہ وہ دراصل مسیح دجال ہے۔ اس نے کہا کہ ابھی وہ یہاں قید ہے لیکن ایک وقت آئے گا جب اسے باہر آنے کی اجازت مل جائے گی۔ جب اسے رہائی ملے گی تو وہ زمین میں چالیس دن تک گھومے گا اور لوگوں کو آزمائش میں ڈالے گا۔
جب حضرت تمیم داریؓ اور ان کے ساتھی اس جزیرے سے واپس آئے تو مدینہ منورہ پہنچ کر انہوں نے یہ واقعہ نبی کریم ﷺ کو سنایا۔ جب نبی کریم ﷺ نے یہ بات سنی تو آپ ﷺ منبر پر تشریف لائے اور لوگوں کو جمع کر کے فرمایا کہ تمیم داریؓ نے جو واقعہ بیان کیا ہے وہ بالکل اسی بات کی تصدیق کرتا ہے جو میں تمہیں دجال کے بارے میں پہلے بتاتا رہا ہوں۔
اس حدیث سے کئی اہم حقیقتیں معلوم ہوتی ہیں۔ پہلی یہ کہ جسّاسہ ایک ایسی مخلوق ہے جو دجال کی خبر گیری کرتی ہے اور اس کے لیے معلومات جمع کرتی ہے۔ دوسری یہ کہ دجال اس وقت زمین پر آزاد نہیں بلکہ کسی جزیرے میں قید ہے۔ تیسری یہ کہ قیامت سے پہلے ایک وقت آئے گا جب اسے رہائی ملے گی اور وہ دنیا میں ظاہر ہوگا۔ اس وقت ایمان والوں کے لیے یہ ایک بہت بڑی آزمائش ہوگی۔
یہ واقعہ ہمیں اس بات کی یاد دہانی بھی کرواتا ہے کہ قیامت کی نشانیاں بالکل سچی ہیں اور وہ وقت ضرور آئے گا جب یہ سب واقعات پیش آئیں گے۔ اسی لیے مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے ایمان کو مضبوط کرے، نبی کریم ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرے اور فتنوں کے دور میں حق پر قائم رہنے کی دعا کرتا رہے۔
یہ روایت حدیث کی مشہور اور معتبر کتاب صحیح مسلم میں موجود ہے۔ اس کا حوالہ صحیح مسلم، کتاب الفتن و اشراط الساعة، باب قصۃ الجساسۃ، حدیث نمبر 2942 ہے۔ اس حدیث کو محدثین نے مستند قرار دیا ہے اور اسے قیامت کی بڑی نشانیوں کے اہم دلائل میں شمار کیا جاتا ہے۔
#اسلامی_تاریخ
#حدیث_نبوی
#حضرت_تمیم_داری
#دجال
#جساسہ
#قیامت_کی_نشانیاں
#صحیح_مسلم
#اسلامی_واقعات
![]()

